PK Press

عمران خان کی 7 مقدمات میں 10 روز کیلئے عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنا دیا۔عمران خان کی سات مقدمات میں 10روز کیلئے عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ۔
چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی جہاں عمران خان لیگل ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شاہ محمود قریشی، فواد چودھری، سیف اللہ نیازی، علی محمد خان، علی نواز اعوان، بابر اعوان، عامر کیانی، ملائکہ بخاری عمران اسماعیل بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج باہر سیکشن 154 کا بیہمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں آج کچھ برا ہونے کا گمان ہو رہا ہے، ہمارے علم میں جتنے مقدمات ہیں سب میں ضمانت کی درخواست دے چکے ہیں، اگر کوئی خفیہ ایف آئی آر ہے تو اس سے متعلق جاننا ہمارا حق ہے۔
ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے کہا کہ آج کے دن تک 140 کیسز درج ہو چکے ہیں، پٹیشنر کے علم کے مطابق ابھی تک تمام کیسز میں ضمانت لی جن کا علم ہے، جن سات کیسز میں پیش ہو رہے ہیں جن میں براہ راست ہائی کورٹ نہیں آنا چاہتے تھے، جوڈیشل کمپلیکس ضمانت لینے گئے تھے مگر امن و عامہ کی صورتحال پیدا ہوئی، اس کے بعد مزید کیسز درج کر لئے گئے اور ان میں ضمانت کیلئے بھی عدالت آئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آبزرویشن دی تھی کہ ہم آپ کو حفاظتی ضمانت دیتے ہیں، آپ متعلقہ عدالت چلے جائیں، آپ اب تک شامل تفتیش بھی نہیں ہوئے، ہم نے پہلی سماعت سے آپ کو باور کرایا ہوا تھا کہ آپ کو حفاظتی ضمانت دیں گے۔
سلمان صفدر نے کہا کہ 7 مختلف مقدموں میں 7 مختلف تفتیشی افسران کے پاس 7 مختلف تاریخوں پر ہم کیسے پیش ہوں؟ تفتیش جوائن کرنے کا کوئی دن مقرر کر دیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ آج اسلام آباد میں موجود ہیں نا؟ تفتیشی بھی سارے موجود ہیں، ان کو بیان ریکارڈ کرا دیں۔
دوران سماعت فواد چودھری نے کہا کہ یہ حکومت نے جو انتظامات کئے ہیں یہ سکیورٹی کیلئے کم اور ڈرانے کیلئے زیادہ ہیں، عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، ان کی گاڑی اندر نہیں آنے دی گئی۔
فواد چودھری کے بولنے پر چیف جسٹس عامر فاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو ریلیف دے رہے ہیں آپ نہیں لینا چاہتے تو ایسا ہی صحیح، اب ہم آرڈر پاس کریں گے۔
بعد ازاں چیف جسٹس اسلام آباد عامر فاروق اور میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ اٹھ گیا اور ججز چیمبر میں چلے گئے۔

قبل ازیں عمران خان 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں پیشی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔
عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت کے لئے ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے رجسٹرار ہائی کورٹ کو درخواست جمع کرائی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عمران خان کی گاڑی کو عدالت کے باہر وہیل چیئر ریمپ تک اجازت دی جائے، عمران خان دائیں ٹانگ پر بوجھ نہیں ڈال سکتے، ڈاکٹرز نے 10 روز کا بیڈ ریسٹ تجویز کیا۔
تاہم عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملی جس کے بعد انہیں وہیل چیئر کے ذریعے عدالت کے اندر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، سخت سکیورٹی انتظامات
دوسری جانب سابق وزیر اعظم کی ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر دفعہ 144 نافذ العمل ہے اور کسی بھی قسم کا اجتماع غیر قانونی ہوگا، امن و عامہ کے پیش نظر جی ٹین پراجیکٹ موڑ اور عون محمد رضوی روڈ پر ڈائیورشن ہوگی۔
ترجمان کے مطابق شہری دوران سفر متبادل راستوں کا انتخاب کریں اور سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال جاننے کیلئے پکار 15 پر کال کریں۔

 

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چینی صدر کی جا نب سے پا کستانی طا لب علموں کے خط کا جواب

پڑھنے کے اگلے

چودھری شجاعت ہی مسلم لیگ کے صدر، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے