PK Press

افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو بچھڑے68برس بیت گئے

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو بچھڑے 68برس بیت گئے۔ منٹو کے افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں منفرد حیثیت اور نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
سچائیوں کو افسانوں اور خاکوں میں ڈھال کر امر ہو جانے والے سعادت حسن منٹو کو اپنے چاہنے والوں سے جدا ہوئے 68برس بیت گئے مگر وہ اپنی تحریروں کے حوالے سے دنیائے ادب میں سدا زندہ رہیں گے۔
سعادت حسن منٹو 11مئی 1912 کو بھارت کے شہر ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کی۔ سعادت حسن منٹو کہتے تھے کہ افسانہ مجھے لکھتا ہے مگر ان کے لکھے افسانے آج بھی اردو ادب کا شاہکار قرار دیئے جاتے ہیں۔
تقسیم ہند کے وقت منٹو بمبئی میں شہرت کی بلندیوں پر تھے پھر وہ 1948میں پاکستان آ گئے۔ منٹو کے لکھے افسانے، نیا قانون، لائسنس، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور کالی شلوار پڑھنے والوں کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔
یوں تو اردو کے اس عظیم افسانہ نگار کا انتقال 42 برس کی عمر میں 18 جنوری 1955 کو ہوا مگران کے لکھے افسانے انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں
ٹھنڈا گوشت
بے حس ہو چکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ ٹھنڈا گوشت ایک مرد کے جنسی جذبات سرد ہو جانے یا نفسیاتی طور پر نامرد ہو جانے کی کہانی ہے۔ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی پر ہاتھ صاف کرنے کے ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ لڑکی کو وہیں چھوڑ کر وہ ہوٹل میں اپنی داشتہ کلونت کے پاس جاتا ہے۔ کلونت کے لاکھ کوشش کے باوجود وہ خود کو جنسی طور پر تیار نہیں کر پاتا۔ جب وہ کلونت کو اپنے جنسی جذبات سرد ہوجانے کی کہانی سناتا ہے تو کلونت آگ بگولہ ہوجاتی ہے اور اسے خنجر گھونپ دیتی ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ
اس افسانہ میں نقل مکانی کے کرب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جہاں ہر چیز کا تبادلہ ہو رہا تھا وہیں قیدیوں اور پاگلوں کو بھی منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ فضل دین پاگل کو صرف اس بات سے سروکار ہے کہ اسے اس کی جگہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جدا نہ کیا جائے۔ وہ جگہ خواہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں۔ جب اسے جبرا وہاں سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایک ایسی جگہ جم کر کھڑا ہو جاتا ہے جو نہ ہندوستان کا حصہ ہے اور نہ پاکستان کا اور اسی جگہ پر ایک فلک شگاف چیخ کے ساتھ اوندھے منھ گر کر مر جاتا ہے۔
کھول دو
امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔ صبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں
بو
یہ ایک گھاٹن لڑکی کے جسم سے پیدا ہونے والی بو کی کہانی ہے۔ رندھیر سنگھ ایک وجیہ اور خوبصورت نوجوان عورتوں کے معاملے میں منجھا ہوا کھلاڑی ہے لیکن اسے جو لذت گھاٹن لڑکی کے جسم سے محسوس ہوتی ہے وہ اس نے آج تک کسی اور عورت میں محسوس نہیں کی تھی۔ رندھیر کو پسینے بو سے سخت نفرت ہے پھر بھی وہ اس گھاٹن لڑکی کے جسم کی بو کو اپنی رگ رگ میں بسالینے کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔

کالی شلوار
ایک پیشہ کرنے والی عورت سلطانہ کی روح کی الم ناکی اور اس کے باطن کے سناٹے کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے خدا بخش اسے پیار کا جھناسا دے کر انبالہ سے دہلی لے کر آتا ہے اور اس کے بعد شنکر محض کالی شلوار کے عوض اس کے ساتھ جس قسم کا فریب کرتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے کی ہے۔ اس کے دکھ، درد اور اس کے عورت پن کی اسے کوئی پروا نہیں۔

1919 کی ایک بات
جدوجہد آزادی میں انگریز کی گولی سے شہید ہونے والے ایک طوائف زادے کی کہانی ہے۔ طفیل عرف تھیلا کنجر کی دوبہنیں بھی طوائف تھیں۔ طفیل ایک انگریز کو موت کے گھاٹ اتار کر خود شہید ہو گیا تھا۔ انگریزوں نے بدلہ لینے کی غرض سے دونوں بہنوں کو بلا کر مجرا کرایا اور ان کی عزت کو تار تار کیا۔

آنکھیں
تشنہ جذبات کی کہانی ہے۔ بینائی سے محروم حنیفہ کو وہ اسپتال میں دیکھتا ہے تو اس کی پرکشش آنکھوں پر فدا ہو جاتا ہے۔ حنیفہ کے رویے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اسپتال اس کے لیے بالکل نئی جگہ ہے اس لیے وہ اس کی مدد کے لیے آگے آتا ہے۔ اس کی پرکشش آنکھوں کی گہرائی میں غوطہ زن رہنے کے لیے جھوٹ بول کر کہ اس کا گھر بھی حنیفہ کے گھر کے راستے میں ہے، وہ اس کے ساتھ گھر تک جاتا ہے۔ پہنچنے کے بعد جب وہ تانگہ سے اترنے کے لیے بدرو کا سہارا لیتی ہے تب پتہ چلتا ہے کہ یہ بینائی سے محروم ہے اور پھر۔۔۔

آخری سلیوٹ
آزادی ہند کے بعد کشمیر کے لیے دونوں ملکوں میں ہونے والی پہلی جنگ کے مناظر کو پیش کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح دونوں ملک کے فوجی جذباتی طور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں لیکن اپنے اپنے ملک کے آئین اور قانون کے پابند ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہی لوگ جو جنگ عظیم میں متحد ہو کر لڑے تھے وہ اس وقت الگ الگ ملک میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔

 

آرٹسٹ لوگ
اس افسانہ میں آرٹسٹ کی زندگی کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ جمیلہ اور محمود اپنے فن کی بقا کے لئے مختلف طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن باذوق لوگوں کی قلت کی وجہ سے فن کی آبیاری مشکل امر محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالات سے پریشان ہو کر معاشی آسودگی کے لیے وہ ایک فیکٹری میں کام کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دونوں کو یہ کام آرٹسٹ کے رتبہ کے شایان شان محسوس نہیں ہوتا اسی لیے دونوں ایک دوسرے سے اپنی اس مجبوری اور کام کو چھپاتے ہیں۔

 

عورت ذات
ایک ایسے شخص کی کہانی جس کی گھوڑوں کی ریس کے دوران ایک مہاراجہ سے دوستی ہو جاتی ہے۔ مہاراجہ ایک دن اسے اپنے یہاں پروجیکٹر پر کچھ شہوت انگیز فلمیں دکھاتا ہے۔ ان فلموں کو مانگ کر وہ شخص اپنے گھر لے جاتا ہے اور اپنی بیوی کو دکھاتا ہے۔ اس سے اس کی بیوی ناراض ہو جاتی ہے۔ بیوی کی ناراضگی سے وہ بہت شرمندہ ہوتا ہے۔ اگلے دن جب وہ دوپہر کے کھانے کے بعد آفس سے گھر آتا ہے تواسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ پروجیکٹر پر وہی فلمیں دیکھ رہی ہے۔

 

نیا قانون
آزادی کے دیوانے منگو کوچوان کی کہانی ہے۔ وہ ناخواندہ ہے پھر بھی اسے ساری دنیا کی معلومات ہے جنھیں وہ اپنی سواریوں سے سن کر معلوم کرتا رہتا ہے۔ ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں نیا قانون آنے والا ہے جس سے ہندوستان کی انگریزی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اسی خوشی میں وہ قانون لاگو ہونے والی تاریخ کو ایک انگریز سے جھگڑا کر بیٹھتا ہے اور جیل پہنچ جاتا ہے۔

 

بلاز
آغاز شباب میں ہونے والی تبدیلیوں کا عمدہ بیان ہے۔ مومن ایک ایسے گھر میں ملازم ہے جس میں شکیلہ اور رضیہ دو روشن خیال بہنیں رہتی ہیں۔ شکیلہ مومن کے سامنے ہی بلاز ناپتی، سلتی اور پہن کر دیکھتی ہے جس کے نتیجے میں مومن کے دماغ میں مختلف قسم کے خیالات کا ہجوم رہنے لگتا ہے اور پھر ایک دن وہ نئی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔

 

انار کلی
سلیم نام کے ایک ایسے نوجوان کی کہانی جو خود کو شہزادہ سلیم سمجھنے لگتا ہے۔ اسے کالج کی ایک خوبصورت لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے، لیکن وہ لڑکی اسے قابل توجہ نہیں سمجھتی۔ اس کی محبت میں دیوانہ ہو کر وہ اسے انارکلی کا نام دیتا ہے۔ ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے والدین نے اسی نام کی لڑکی سے اس کی شادی طے کر دی ہے۔ شادی کی خبر سن کر وہ دیوانہ ہو جاتا ہے اور طرح طرح کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ سہاگ رات کو جب وہ دلہن کا گھونگھٹ ہٹاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ اسی نام کی کوئی دوسری لڑکی تھی۔

 

ہتک
پیار کے دو بول کے لیے ترستی ہوئی ایک ایسی بے بس و بے سہارا طوائف کی کہانی ہے جو ذلت کی انتہا پر پہنچ کر خود آگہی سے دو چار ہوتی ہے۔ سوگندھی ایک پیشہ ور طوائف ہے، رات کے دو بجے جب ایک سیٹھ اسے ٹھکرا کر چلا جاتا ہے تو اس کے اندر کی عورت جاگتی ہے اور پھر ایک شدید قسم کی نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہو کر وہ پیار کا ڈھونگ رچانے والے مادھو لال کو بھی دھتکار کر بھگا دیتی ہے اور اپنے خارش زدہ کتے کو پہلو میں لٹا کر سو جاتی ہے۔

 

ٹیٹوال کا کتا
کہانی میں بنیادی طور سے مذہبی منافرت اور ہندوستانی و پاکستانی افراد کے مابین تعصب کی عکاسی ہے۔ کتا جو کہ ایک بے جان جانور ہے ہندوستانی فوج کے سپاہی محض تفریح طبع کے لیے اس کتے کا کوئی نام رکھتے ہیں اور وہ نام لکھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیتے ہیں۔ جب وہ کتا پاکستان کی سرحد کی طرف آتا ہے تو پاکستانی فوج کے سپاہی اسے کوئی کوڈ ورڈ سمجھ کر چوکنا ہو جاتے ہیں۔ دونوں طرف کے سپاہی غلط فہمی کے باعث اس کتے پر گولی چلا دیتے ہیں۔

 

وہ لڑکی
کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے فسادات کے دوران چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا۔ ایک دن وہ گھر میں تنہا تھا تو اس نے باہر درخت کے نیچے ایک لڑکی کو بیٹھے دیکھا۔ اشاروں سے اسے بلانے میں ناکام رہنے کے بعد وہ اس کے پاس گیا اور زبردستی اسے اپنے گھر لے آیا۔ جلدی ہی اس نے اسے قابو میں کر لیا اور چومنے لگا۔ بستر پر جانے سے پہلے لڑکی نے اس سے پستول دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے اپنی پستول لاکر اسے دے دی۔ لڑکی نے پستول ہاتھ میں لیتے ہی چلا دی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو لڑکی نے بتایا کہ اس نے جن چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا ان میں ایک اس لڑکی کا باپ بھی تھا۔

 

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں
مناسب اجرت لیکر دوسروں کی جگہ جیل کی سزا کاٹنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی جو لوگوں سے پیسے لے کر ان کے کئے جرم کو اپنے سر لے لیتا ہے اور جیل کی سزا کاٹتا ہے۔ ان دنوں جب وہ جیل کی سزا کاٹ کر آیا تھا تو کچھ ہی دنوں بعد اس کی ماں کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت اس کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کر سکے۔ تبھی اسے ایک سیٹھ کا بلاوا آتا ہے، پر وہ جیل جانے سے پہلے اپنی ماں کو تجہیز و تکفین کرنا چاہتا ہے۔ سیٹھ اس کے لیے اسے منع کرتا ہے۔ جب وہ سیٹھ سے بات طے کرکے اپنے گھر لوٹتا ہے تو سیٹھ کی بیٹی اس کے آنے سے قبل اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کر چکی ہوتی ہے۔

 

ایک خط
یہ افسانہ مصنف کی ذاتی زندگی کی کئی اہم ترین واقعات کو بیان کرتا ہے۔ ایک دوست کے خط کے جواب میں لکھے گئے اس خط میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اس ناکام محبت کا بھی ذکر کیا ہے جو اسے کشمیر قیام کے دوران وزیر نام کی لڑکی سے ہو گئی تھی۔

 

آم
یہ ایک ایسیبوڑھے پنشن یافتہ منشی کی کہانی ہے جو اپنی پنشن کے سہارے اپنے خاندان کی پرورش کر رہا ہے۔ اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے اس کی امیر لوگوں سے بھی جان پہچان ہے۔ لیکن ان امیروں میں دو لوگ ایسے بھی ہیں جو اسے بہت عزیز ہیں۔ ان کے لیے وہ ہر سال آم کے موسم میں اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف آم کے ٹوکرے بھجواتا ہے۔ مگر اس بار کی گرمی اتنی بھیانک تھی کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور اس کی موت ہو گئی۔ اس کے مرنے کی اطلاع جب ان دونوں امیرزادوں کو دی گئی تو دونوں نے ضروری کام کا بہانہ کر کے اس کے گھر آنے سے انکار کر دیا۔

 

دھواں
یہ افسانہ بلوغت کی نفسیات پر مبنی ہے۔ ایک ایسے بچے کے جذبات کی عکاسی ہے جو جنسی بیداری کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہے اور اپنے باطن میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس تو کر رہا ہے مگر سمجھنے سے قاصر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس کے محسوسات کو درست سمت دینے والا کوئی نہیں ہے۔

 

بارش
ایک نوجوان کے نامکمل عشق کی داستان ہے۔ تنویر اپنی کوٹھی سے بارش میں نہاتی ہوئی دو لڑکیوں کو دیکھتا ہے۔ ان میں سے ایک لڑکی پر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ ایک دن وہ لڑکی اس سے لفٹ مانگتی ہے اور تنویر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی منزل مل گئی ہے لیکن بہت جلد اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کسبی ہے اور تنویر مغموم ہو جاتا ہے۔

 

برقعے
کہانی میں برقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضحکہ خیز صورت حال کو بیان کیا گیا ہے۔ ظہیر نامی نوجوان کو اپنے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے۔ لیکن اس گھر میں تین لڑکیاں ہیں اور تینوں برقعہ پہنتی ہیں۔ ظہیر خط کسی اور کو لکھتا ہے اور ہاتھ کسی اور کا پکڑتا ہے۔ اسی چکر میں اس کی ایک دن پٹائی ہو جاتی ہے اور پٹائی کے فورا بعد اسے ایک رقعہ ملتا ہے کہ تم اپنی ماں کو میرے گھر کیوں نہیں بھیجتے۔ آج تین بجے سنیما میں ملنا۔

 

بانجھ
خود نوشت کے اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ بمبئی کے اپولو بندر پر سیر کرتے ہوئے ایک دن اس شخص سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران ہی محبت پر گفتگو ہونے لگی ہے۔ آپ چاہے کسی سے بھی محبت کریں، محبت محبت ہی ہوتی ہے، وہ کسی بچے کی طرح پیدا ہوتی ہے اور حمل کی طرح ضائع بھی ہو جاتی ہے، یعنی قبل از پیدائش مر بھی سکتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو چاہ کر بھی محبت نہیں کر پاتے ہیں اور شاید ایسے لوگ بانجھ ہوتے ہیں۔

 

بیگو
کشمیر کی سیر کے لیے گئے ایک ایسے نوجوان کی کہانی جسے وہاں ایک مقامی لڑکی بیگو سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ بیگو پر پوری طرح مر مٹتا ہے کہ تبھی اس نوجوان کا دوست بیگو کے کردار کے بارے میں کئی طرح کی باتیں اسے بتاتا ہے۔ ویسی ہی باتیں وہ دوسرے لوگوں سے بھی سنتا ہے۔ یہ سب باتیں سننے کے بعد اسے بیگو سے نفرت ہو جاتی ہے، مگر بیگو اس کی جدائی میں اپنی جان دے دیتی ہے۔ بیگو کی موت کے بعد وہ نوجوان بھی عشق کی لگی آگ میں جل کر مر جاتا ہے۔

 

تماشا
دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے، جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتا فوقتا کسی آنے والے خونی حادثے کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہیبت ناک سماں پیش کر

 

اولاد
یہ اولاد نہ ہونے کے غم میں پاگل ہو گئی ایک عورت کی کہانی ہے۔ زبیدہ کی شادی کے بعد ہی اس کے والد کی موت ہو گئی تو وہ اپنی ماں کو اپنے گھر لے آئی۔ ماں بیٹی ایک ساتھ رہنے لگیں تو ماں کو فکر ہوئی کہ اس کی بیٹی کو ابھی تک بچہ کیوں نہیں ہوا۔ بچہ کے لیے ماں نے بیٹی کا ہر طرح کا علاج کرایا، پر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ماں دن رات اسے اولاد نہ ہونے کے طعنے دیتی رہتی ہے تو اس کا دماغ چل جاتا ہے اور ہر طرف اسے بچے ہی نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کی اس دیوانگی کو دیکھ کر اس کا شوہر ایک نوزائیدہ کو اس کی گود میں لاکر ڈال دیتا ہے۔ جب اس کے لیے اس کی چھاتیوں سے دودھ نہیں اترتا ہے تو وہ استرے سے اپنی چھاتیوں کو کاٹ ڈالتی ہے جس سے اس کی موت ہو جاتی ہے۔

 

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ
یہ ایک عشقیہ کہانی ہے جس میں معشوق کے متعلق غلط فہمی کی وجہ سے دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ جاوید کو زاہدہ نامی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے اور اپنے دوست سعادت کو لارنس گارڈن کے گیٹ پر زاہدہ کے استقبال کے لئے بھیجتا ہے۔ سعادت جس لڑکی کو زاہدہ سمجھتا ہے اس کے بارے میں تانگہ والا بتاتا ہے کہ وہ فاحشہ ہے۔ گھبرا کر سعادت وہیں تانگہ چھوڑ دیتا ہے اور وہ لارنس گارڈن واپس آتا ہے تو جاوید کو زاہدہ سے محو گفتگو پاتا ہے۔

 

ننگی آوازیں
اس کہانی میں شہری زندگی کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بھولو ایک مزدور پیشہ آدمی ہے۔ جس بلڈنگ میں وہ رہتا ہے اس میں سارے لوگ رات میں گرمی سے بچنے کے لیے چھت پر ٹاٹ کے پردے لگا کر سوتے ہیں۔ ان پردوں کے پیچھے سے آنے والی مختلف آوازیں اس کے اندر جنسی ہیجان پیدا کرتی ہیں اور وہ شادی کر لیتا ہے۔ لیکن شادی کی پہلی ہی رات اسے محسوس ہوتا ہے کہ پوری بلڈنگ کے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اسی ادھیڑ بن میں وہ بیوی کی توقعات پوری نہیں کر پاتا اور جب بیوی کی یہ بات اس تک پہنچتی ہے کہ اس کے اندر کچھ کمی ہے تو اس کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور پھر وہ جہاں ٹاٹ کا پردہ دیکھتا ہے اکھاڑنا شروع کر دیتا ہے۔

 

موذیل
عورت کے ایثار، جذبہ قربانی اور محبت و ممتا کے ارد گرد بنی گئی کہانی ہے۔ موذیل ایک آزاد مزاج یہودی لڑکی ہے جو پابند وضع سردار ترلوچن کا خوب مذاق اڑاتی ہے لیکن وقت پڑنے پر وہ فساد زدہ علاقے میں جا کر ترلوچن کی منگیتر کو فسادیوں کے چنگل سے آزاد کراتی ہے اور خود فساد کا شکار ہو جاتی ہے۔

 

لال ٹین
اس افسانے میں مصنف نے اپنے کشمیر دورے کے کچھ یادگار لمحوں کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ مصنف کو یقین ہے کہ وہ ایک اچھا قصہ گو نہیں ہے اور نہ ہی اپنی یادوں کو ٹھیک سے بیان کر سکتا ہے۔ پھر بھی بٹوت (کشمیر) میں گزارے ہوئے اپنے ان لمحوں کو وہ بیان کئے بغیر نہیں رہ پاتا، جن میں اس کی وزیر نام کی لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے سبب وہ اپنے دوستوں میں کافی بدنام بھی ہوا تھا۔ وزیر ایسی لڑکی تھی کہ جب مصنف اپنے دوست کے ساتھ رات کو ٹہلنے نکلتا تھا تو سڑک کے کنارے انہیں راستہ دکھانے کے لیے لالٹین لیکر کھڑی ہو جاتی تھی۔

 

آمنہ
یہ افسانہ دولت کی ہوس میں رشتوں کی ناقدری اور انسانیت سے عاری حرکات کر گزرنے والے افراد کے انجام کو پیش کرتا ہے۔ دولت کی حریص سوتیلی ماں کے ستائے ہوئے چندو اور بندو کو جب قسمت نوازتی ہے تو وہ دونوں بھی اپنے مشکل دن بھول کر رشتوں کے تقدس کو مجروح کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ چندو اپنے بھائی بندو کے بہکاوے میں آکر اپنی بیوی اور بچے کو صرف دولت کی ہوس میں چھوڑ دیتا ہے۔ جب دولت ختم ہو جاتی ہے اور نشہ اترتا ہے تو وہ اپنی بیوی کے پاس واپس جاتا ہے۔ اس کا بیٹا اسے اسی دریا کے پاس لے جاتا ہے جہاں چندو کی سوتیلی ماں نے ڈوبنے کے لیے ان دونوں بھائیوں کو چھوڑا تھا اور بتاتا ہے کہ یہاں پر ہے میری ماں۔۔۔

 

اس کا پتی
یہ افسانہ استحصال، انسانی اقدار اور اخلاقیات کے زوال کی کہانی ہے۔ بھٹے کے مالک کا عیاش بیٹا ستیش گاں کی غریب لڑکی روپا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ جب گاں والوں کو اس کے حاملہ ہونے کی بھنک لگتی ہے تو روپا کا ہونے والا سسر اس کی ماں کو لعن طعن کرتا ہے اور رشتہ ختم کر دیتا ہے۔ معاملے کو سلجھانے کے لیے نتھو کو بلایا جاتا ہے، جو سمجھدار اور معاملہ فہم سمجھا جاتا تھا۔ ساری باتیں سننے کے بعد وہ روپا کو ستیش کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ روپا اور اپنے بچے کو سنبھال لے۔ لیکن ستیش سودا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس پر روپا بھاگ جاتی ہے اور پاگل ہو جاتی ہے۔

 

یزید
کریم داد ایک ٹھنڈے دماغ کا آدمی ہے جس نے تقسیم کے وقت کے فساد کی ہولناکیوں کو دیکھا تھا۔ ہندوستان پاکستان جنگ کے تناظر میں یہ افواہ اڑتی ہے کہ ہندوستان والے پاکستان کی طرف آنے والے دریا کا پانی بند کر رہے ہیں۔ اسی دوران اس کے یہاں ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے جس کا نام وہ یزید رکھتا ہے اور کہتا ہے اس یزید نے دریا بند کیا تھا، یہ کھولے گا۔

 

جھمکے
سنار کی انگلیاں جھمکوں کو برش سے پالش کر رہی ہیں جھمکے چمکنے لگتے ہیں ستار کے پاس ہی ایک آدمی بیٹھا ہے جھمکوں کی چمک دیکھ کر اس کی آنکھیں تمتما اٹھتی ہیں بڑی بے تابی سے وہ اپنے ہاتھ ان جھمکوں کی طرف بڑھاتا ہے اور سنار کہتا ہے، بس اب رہنے دو مجھے

 

بابو گوپی ناتھ
طوائفوں اور ان کے ماحول کی عکاسی کرتی ہوئی اس کہانی میں منٹو نے ان کرداروں کے ظاہر و باطن کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے یہ ماحول پنپتا ہے۔ لیکن اس ظلمت میں بھی منٹو انسانیت اور ایثار کی ہلکی سی کرن ڈھونڈ لیتا ہے۔ بابو گوپی ناتھ ایک رئیس آدمی ہے جو زینت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے مختلف جتن کرتا ہے اور آخر میں جب اس کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ انتہائی خوش ہوتا ہے اور ایک سرپرست کا کردار ادا کرتا ہے۔

 

جسم اور روح
مجیب نے اچانک مجھ سے سوال کیا، کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ دنیا میں ایسے کئی اشخاص موجود ہیں جو ایک منٹ کے اندر اندر لاکھوں اور کروڑوں کو ضرب دے سکتے ہیں، ان کی تقسیم کرسکتے ہیں۔ آنے پائی کا حساب چشم زدن میں آپ کو بتا

 

بدصورتی
اس افسانہ میں دو بہنوں، حامدہ اور ساجدہ کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ ساجدہ بہت خوبصورت ہے، جبکہ حامدہ بہت بدصورت۔ ساجدہ کو ایک لڑکے سے محبت ہو جاتی ہے، تو حامدہ کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ اس بات کو لے کر ان دونوں کے درمیان جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ پھر دونوں بہنیں صلح کر لیتی ہے اور ساجدہ کی شادی حامد سے ہو جاتی ہے۔ ایک سال بعد ساجدہ اپنے شوہر کے ساتھ حامدہ سے ملنے آتی ہے۔ رات کو کچھ ایسا ہوتا ہے کہ صبح ہوتے ہی حامد ساجدہ کو طلاق دے دیتا ہے اور کچھ عرصہ بعد حامدہ سے شادی کر لیتا ہے۔

 

الو کا پٹھا
قاسم ایک دن صبح سو کر اٹھتا ہے تو اس کے اندر یہ شدید خواہش جاگتی ہے کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے۔ بہت سے طریقے اور مواقع سوچنے کے بعد بھی وہ کسی کو الو کا پٹھا نہیں کہہ پاتا اور پھر دفتر کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ راستے میں ایک لڑکی کی ساڑی سائکل کے پہیے میں پھنس جاتی ہے، جسے وہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لڑکی کو ناگوار گزرتا ہے اور وہ اسے الو کا پٹھا کہہ کر چلی چاتی ہے۔

 

برمی لڑکی
گیان کی شوٹنگ تھی اس لیے کفایت جلدی سو گیا۔ فلیٹ میں اور کوئی نہیں تھا۔ بیوی بچے راولپنڈی چلے گئے تھے۔ ہمسایوں سے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یوں بھی بمبئی میں لوگوں کو اپنے ہمسایوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ کفایت نے اکیلے برانڈی کے چار پیگ پیے۔ کھانا

 

گورمکھ سنگھ کی وصیت
سردار گورمکھ سنگھ کو عبد الحی جج نے ایک جھوٹے مقدمے سے نجات دلائی تھی۔ اسی کی احسان مندی میں عید کے دن وہ سیوئیاں لے کر آتا تھا۔ ایک برس جب فسادات نے پورے شہر میں قیامت برپا کر رکھی تھی، جج عبد الحی فالج کی وجہ سے بستر مرگ پر تھے اور ان کی جوان بیٹیی اور چھوٹا بیٹا حیران پریشان تھے کہ اسی خوف و ہراس کے عالم میں سردار گورمکھ سنگھ کا بیٹا سیوئیاں لے کر آیا اور اس نے بتایا کہ اس کے پتا جی کا دیہانت ہو گیا ہے اور انہوں نے سیوئیاں پہنچانے کی وصیت کی تھی۔ گورمکھ سنگھ کا بیٹا جب واپس جانے لگا تو بلوائیوں نے راستے میں اس سے پوچھا کہ اپنا کام کر آئے، اس نے کہا کہ ہاں، اب جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔

 

موج دین
یہ کہانی مذہبی مساوات کے باوجود معاشرے میں رائج ثقافتی تقسیم کو بہت ہی واضح طور سے بیان کرتی ہے۔ موج دین ایک بنگالی نوجوان ہے، جو مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آیا ہوا ہے۔ وہاں سے اسے چندہ جمع کرنے کے لیے کشمیر بھیجا جاتا ہے۔ وہاں جا کر جب اسے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں جنگ ہونے والی ہے تو وہ بھی اس میں شامل ہونے کے لیے واپس لوٹ جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ مدرسے کے سربراہ کو بنگالی زبان میں ایک خط لکھتا ہے، جسے خفیہ محکمہ کے لوگ کوڈ زبان سمجھ کر اسے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ گرفتاری کے دوران اسے اس قدر ٹارچر کیا جاتا ہے کہ وہ جیل میں ہی پھانسی لگاکر مر جاتا ہے۔

 

عشقیہ کہانی
یہ عشق میں گرفتار ہو جانے کی خواہش رکھنے والے ایک ایسے نوجوان جمیل کی کہانی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ کسی لڑکی کے عشق میں بری طرح گرفتار ہو جائے اور پھر اس سے شادی کر لے۔ اس کے لیے وہ بہت سی لڑکیوں کا انتخاب بھی کرتا ہے۔ ان سے ملنے، انہیں خط لکھنے کے منصوبے بناتا ہے، لیکن اپنے کسی بھی منصوبہ پر وہ عمل نہیں کر پاتا۔ آخر میں اس کی شادی طے ہو جاتی ہے، اور رخصتی کی تاریخ بھی مقرر ہو جاتی ہے۔ اسی رات اس کی خالہ زاد بہن خودکشی کر لیتی ہے، جو جمیل کے عشق میں بری طرح گرفتار ہوتی ہے۔

 

بادشاہت کا خاتمہ
حسن و دلکشی کے خواہش مند ایک ایسے بے روزگار نوجوان کی کہانی ہے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ فٹ پاتھ پر رات بسر کرتے ہوئے گزرا تھا۔ اتفاقیہ طور پر وہ ایک دوست کے آفس میں چند دنوں کے لیے ٹھہرتا ہے جہاں ایک لڑکی کا فون آتا ہے اور ان کی گفتگو مسلسل ہونے لگتی ہے۔ موہن کو لڑکی کی آواز سے عشق ہے اس لیے اس نے کبھی اس کا نام پتہ یا فون نمبر جاننے کی زحمت نہیں کی۔ دفتر چھوٹ جانے کی وجہ سے اس کی جو بادشاہت ختم ہونے والی تھی اس کا خیال اسے صدمہ میں مبتلا کر دیتا ہے اور ایک دن جب شام کے وقت ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے تو اس کے منہ سے خون کے بلبلے پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔

 

اللہ دتا
فساد میں لٹے پٹے ہوئے ایک ایسے گھر کی کہانی ہے جس میں ایک باپ اپنی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے اور پھر اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کو بہو بنا کر لاتا ہے تو اس سے بھی زبردستی کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب اس کی بیٹی کو پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے بھائی سے طلاق دلوا دیتی ہے کیونکہ وہ اپنی سوت نہیں دیکھ سکتی۔

 

انقلاب پسند
اس کہانی کا مرکزی کردار سلیم ایک فطری انقلاب پسند واقع ہوا ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے حتی کہ اپنے کمرے کی ترتیب میں بھی انقلاب دیکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ دنیا سے غربت، بے روزگاری، ناانصافی اور استحصالی نظام کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ بازاروں میں تقریریں کرتا ہے لیکن اسے پاگل سمجھ کر پاگل خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

 

میرا نام رادھا ہے
یہ افسانہ عورت کے will power کا احاطہ کرتا ہے۔ راج کشور کے رویے اور تصنع آمیز شخصیت سے نیلم واقف ہے اسی لیے فلم اسٹوڈیو کے ہر فرد کی زبان سے تعریف سننے کے باوجود وہ اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ ایک روز سخت لہجے میں بہن کہنے سے بھی منع کر دیتی ہے اور پھر آخر کار رکشا بندھن کے دن مشتعل ہو کر اسے بلیوں کی طرح نوچ ڈالتی ہے۔

 

اصلی جن
ہم جنسیت کے تعلقات پر مبنی کہانی۔ فرخندہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بچپن میں ہی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا تو وہ اکیلے اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ جوانی کا سفر اس نے تنہا ہی گزار دیا۔ جب وہ اٹھارہ سال کی ہوئی تو اس کی ملاقات نسیمہ سے ہوئی۔ نسیمہ ایک پنجابی لڑکی تھی، جو حال ہی میں پڑوس میں رہنے آئی تھی۔ نسیمہ ایک لمبی چوڑی مردوں کی خصلت والی خاتون تھی، جو فرخندہ کو بھا گئی تھی۔ جب فرخندہ کی ماں نے اس کا نسیمہ سے ملنا بند کر دیا تو وہ نیم پاگل ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اس پر جن ہے، پر جب ایک دن چھت پر اس کی ملاقات نسیمہ کے چھوٹے بھائی سے ہوئی تو اس کے سبھی جن بھاگ گئے۔

 

دو قومیں
یہ کہانی مذہب اور محبت دونوں نکتوں پر یکساں طور پر بحث کرتی نظر آتی ہے۔ مختار اور شاردا دونوں ایک دوسرے کو بے پناہ محبت کرتے ہیں مگر جب شادی کی بات آتی ہے تو دونوں اپنے اپنے مذہب پر بضد ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کی محبت تو پیچھے رہ جاتی ہے اور مذہب ان پر حاوی ہو جاتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے راستے واپس چلے جاتے ہیں۔

 

ایکٹریس کی آنکھ
یہ نیم مزاحیہ افسانہ ہے۔ دیوی نام کی ایکٹریس جو خوبصورت تو نہیں ہے لیکن بہت پرکشش ہے۔ ایک مرتبہ وہ آنکھ میں غبار پڑ جانے کی وجہ سے ڈرامائی انداز میں چلاتی ہے۔ اس کی ہائے ہائے سے سیٹ پ

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل، گورنر نے وزیراعلی کی سمری پر دستخط کردیے

پڑھنے کے اگلے

عمران خان دور میں نیب آرڈیننس سے بری اور مستفید ہونے والوں کی تفصیلات طلب

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے