PK Press

حاجی صاحب کے نا خلف بچے

تحریر:غلام مصطفیٰ ملک


حاجی صاحب ” جب اشرافیہ کے نئے ” ابا جی ” مقرر ہوئے تو انہیں ” نئے اور تازہ بچوں ” سے رومانس ورثے میں ملا ، اب انکے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا وہ ظالم سوتیلے باپ کی طرح ان سے منہ موڑ لیتے ، یا پھر انہیں دنیا داری نبھانے کے لیے گود لے لیتے ۔
انہیں دوسرا آپشن قدرے آسان لگا ، اور انہوں نے لاڈلے بچوں کو گود لے لیا ، نئے بچے شجاع پاشا صاحب ، ظہیر جنجوعہ صاحب انکلز کی شفقت اور فیض بھائی کی صحبت سے کافی حد تک سنبھل چکے تھے ،شہباز بھی اکیلے پرواز سے خائف تھے لہذا بہتری اور ادارے کی توقیر اسی میں تھی کہ نیا رومانس شروع کرنے کی بجائے انہیں ہی موٹا ، تازہ ، تگڑا کیا جائے تاکہ وہ اچھے بچوں کی طرح تابعداری سے جی حضوری کرتے رہیں ۔
جی حضوری میں تو لاڈلوں نے کمال ہی کر دیا ، جس کا اشارہ کیا وہ معتبر ہو گیا ، جس سے کنارہ کشی کا کہا اسے راندہ درگاہ کر دیا ، جن کو چور اچکا ، ڈاکو ، چپڑاسی بولا گیا تھا ، حکم آیا تو انہی کو سر پر بٹھا لیا اور حن کو سینے سےلگانا تھا انکو پرے دھکیل دیا ، بچوں کی ایسی تابعداری اور جی حضوری بھلا تاریخ نے کب دیکھی تھی ؟
اس تابعداری اور معیشت کو 100 دنوں میں ٹھیک کرنے کے دعووٴں ، وعدوں نے رومانس میں مزید اضافہ کیا اور وہ ” حاجی صاحب ” اور انکے پیٹی بند بھائیوں کی آنکھ کا تارا بن گئے اب انہیں اقتدار دلانا ضد ٹھیرا ، اور وہ ان بچوں کی حمایت اور انکے مخالفین کی مخالفت میں آخری حدوں تک چلے گئے ۔ نئے گود لیے گئے بچوں کے حق میں عدلیہ، نیب،الیکشن کمیشن اور میڈیا کو اس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا کہ سونامی پاکستان کی بقا کی جنگ اور انکے مخالفین ملک دشمن اور غدار بنا دیے گئے، بااثر سیاستدان انکی جھولی میں ڈال دیے گئے جو نہ مانے انہیں من پسند میڈیا ، نیب کے آگے ڈال دیا گیا ، تمام حربوں سے مخالفین کو مکمل مات نہیں دی جا سکی تو RTS سسٹم ہی بٹھا دیا گیا اور انکی کامیابی کو پاکستان کی فتح سے تعبیر کیا گیا ، جشن ایسا منایا گیا کہ جنون ، جوش اور خوشی کے جذبات دکھانے کے لیے قاسم سوری کی فتح پر باقاعدہ ہوائی فائرنگ کرنا پڑ گئی ۔
اب اس حد تک سرپرستی اور شفقت کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ نئے جوان ہوتے بچے اپنے بوڑھے ہوتے والدین اور سرپرستوں کو سکون سے بٹھا دیتے ، انکی ریاست کے مکمل نان نفقے کا بندوبست کرتے ، گرتی معیشت کو سنبھالا دیتے اور بڑے ابا جی "انکل سام” کی جانب سے منہ موڑنے ، ہاتھ جوڑنے اور معاشی بندش کا توڑ نکالتے ، IMF سے کچھ وصول کرتے ،سعودی عرب سے ادھار مانگتے ، چین کو رام کرتے ، گلشن کا کاروبار چلاتے ، لیکن انہوں نے ابتدائی ماہ تقریروں ، جشن اور مخالفین کو رگڑا لگاتے اور انہیں رلانے پر گزار دیے ، کبھی ایران تو کبھی امریکی ، کبھی سعودی تو کبھی چین کے ماڈل لاتے لاتے سب کو ایک ایک کر ناراض کر چھوڑا ، جب ایک کروڑ نوکریوں ، ایک لاکھ مکانات اور قرضے منہ پر دے مارنے کے سنہری وعدے یاد دلائے گئے تو بتایا گیا کہ ” وہ صرف انتخابی نعرے تھے جو ہمارے چاچووں نے تیار کر کے دیے تھے ، ابے ہم سے کیا پوچھتے ہو صاحب اپنے مصاحبین سے پوچھ لیجیے نا ”
نتیجہ یہ نکلا کہ ” حاجی صاحب ” کو بنفس نفیس کاسہ ہاتھ میں لے کر در در جانا پڑا ، اب جب بچوں پر ناراضگی کا اظہار کیا تو انہوں ” ایکسٹینشن ” دے کر راضی کر لیا جس کے لیے انہیں باقاعدہ قانون سازی کرنا پڑی تھی ۔
بچوں کی نالائقی ، سستی ، ناتجربہ کاری اور نااہلی اپنی جگہ اب تو ان کے احسان کا مان رکھنا اور ضروی ہو گیا تھا جس کی بنا پر ” حاجی صاحب ” کو کھل کر خارجی ، داخلی سکیورٹی اور حتیٰ کہ معاشی معاملات بھی ہاتھ میں لینا پڑےاور یہ تلخ حقیقت تھی کہ لاڈلے بچوں کے دور میں اگر پاکستان تھوڑا بہت سفارتی اور معاشی حوالوں سے بچا تو اس میں ” حاجی صاحب ” صاحب کی شفقت پدرانہ کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔
اس بے پناہ شفقت ، محبت اور احساس پر ہر وہ شخص ” حاجی صاحب ” کا مخالف تھا جو کسی بھی طریقے سے لاڈلے بچوں کا متاثرہ تھا. بھلا انہیں کسی کی کیا پرواہ تھی مسئلہ تو تب بگڑا جب بار بار کی تنبیہ پر نہ بزدار سرکار کو بدلا گیا نہ گوگی آپا کا پریشر کم کروایا گیا نہ ذاتی دوستوں کو فوائد پہنچانے سے باز رکھا گیا ، ” حاجی صاحب ” سمجھ گئے کہ بچے اب بگڑتے جا رہے ہیں اور کسی کے جنتر ، منتر ، تعویز دھاگے اور عملیات کے سامنے انکی ایک نہیں چلتی اور اولاد نا خلف ہو چکی ہے لہذا ” حاجی صاحب ” کو اپنے خاندان سے بیٹھ کر باقاعدہ یہ طے کرنا پڑا کہ اب ان ان ناخلف بچوں کی سرپرستی سے باقاعدہ ہاتھ اٹھایا جائے ، ان کے کارناموں سے برات کا اعلان کیا جائے اور انہیں عاق کرنے کا باقاعدہ اشتہار دیا جائے اور اپنے آپ کو پرائی اولادیں پالنے کے عمل سے الگ کر لیا جائے اور ہر عمل میں نیوٹرل رہا جائے ۔
حاجی صاحب ” کا خیال تھا کہ دی ہوئی طاقت اور ہر لحاظ سے فراہم کی گئی سرپرستی ان بچوں کو گرنے نہیں دے گی اور گر بھی گئے تو سنبھل بھی جائیں گے انکے بے پناہ احسانات کے بدلے میں ہمیشہ تابعداری اور وفاداری کا دم بھرتے رہیں گے اور ممنون رہیں گے مگر بھلا ایسے بھی کوئی بھرے بازار میں کوئی انگلی چھڑاتا ہے ، نیوٹرل ہو جاتا ہے ، پہلے تو بچوں نے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ” حاجی صاحب ” نیوٹرل نہیں ہیں ، جواب میں انکی دبیز خاموشی تھی ، پھر باور کرایا گیا کہ وہ کیسے نیوٹرل ہو سکتے ہیں اس پر بھی شفقت پدرانہ نے جوش نہ مارا ، تو لاڈلے بچے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے
نیوٹرل تو صرف جانور ہوتے ہیں ”
اللہ، ایسی ناخلف اولاد توبہ توبہ
میمو گیٹ اور پانامہ جیسی آفت کاریوں کے باوجود ” حاجی صاحب ” اور انکے ہم وقتوں نے ایسی صورت حال بھلا دیکھی اور سوچی تھی؟
پر کیا کیا جائے کبھی ہاتھ سے باندھی گھانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑ جاتی ہیں، ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ ” حاجی صاحب ” اس سلوک کے قطعاً مستحق نہیں ہیں انکا یہ احسان کیا کم تھا کہ انہوں نے اپنے پیش رووں کی غلطیوں کو نبھایا ، بچوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے پاوں پر کھڑے ہوں ، اپنی نیپیاںخود بدلیں ، اپنا ذاتی قد کاٹھ بڑھائیں ، ڈیلیور کریں ، محنت کریں ، آگے بڑھیں اور ریاست کی اجتماعی غلطیوں کو کسی کے ماتھے کا داغ بنانے کی بجائے اسے اپنی فتح و کامرانی کا علم بنائیں ۔
لیکن ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ جب طاقت ور ہوتے ہیں تو اپنے ہر اچھے اور برے عمل کو جواز فراہم کرلیتے ہیں اور ایسے کارنامے بھی انجام دے ڈالتے ہیں جنکی اجازت ہمارا حلف ، آئین ، قانون اور اخلاقی روایات بھی نہیں دیتیں اور نہ ہی ہم اپنے محسنوں کا احسان مند ٹھرتے ہیں ، یہی کچھ غلطیاں” حاجی صاحب” سے بھی ہوئیں جن کا کفارہ وہ انہی کے ہاتھوں بھگت رہے ہیں ، جن کو پال پوس کر جوان کیا اور صاحب روزگار بنایا ، اب وہی انکے انتقال اقتدار پر یوم نجات منا رہے ہیں ۔ویسے ہزار بشری خامیوں کے باوجوہ آپکو ماننا پڑے گا کہ ” حاجی صاحب ” بہت کھلے ڈھلے ذہن کے مالک تھے ، منکسرالمزاج تھے ، ہٹ دھرم نہیں تھے ، متکبر نہیں تھے ، منتقم نہیں تھے جنہوں نے قادیانی تک بنا چھوڑا ان سے انتقام کا بھی نہیں سوچا، غلطی کی ، ڈنکے کی چوٹ پر اعتراف کیا اور جاتے جاتے خوبصورت جملہ کہہ گئے ” میں گم نامی میں چلا جاوں گا مگر ادارے سے روحانی رشتہ برقرار رہے گا ”
حاجی صاحب” آپ تو گمنامی سہہ لیں گے مگر آپ کے بالکے جیسے جیسے تنہائی کا شکار ہوں گے آپکو دھائیاں دیں گے ، گالیاں دیں گے ، بددعائیں دیں گے ، اقتدار کی یہ لڑائی ملک و قوم کو کہیں کا نہ چھوڑے گی، یہ عروج و زوال کی کہانی ، ذاتی پسند و ناپسند کا سفر آنے والوں کے لیے ایک سبق ہے ، ایک درس ہے کہ جو جس کا کام ہے اسی کو کرنے دیا جائے ورنہ یہاں لوگ قابل فخر سپوت ، عظیم جرنیل ، ، ابا جی بنانے سے” حاجی صاحب ” تک بنانے میں دیر نہیں لگاتے ۔
آہ ! "حاجی صاحب” اور ” حاجی صاحب کے ناخلف بچے ”

“باجوہ ڈاکٹرائن “

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

خواہش ہے پاکستان کے لئے کھیلوں : اعظم خان

پڑھنے کے اگلے

شہباز گل کو بلوچستان پولیس حکام نے طلب کرلیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے