PK Press

"باجوہ ڈاکٹرائن "

Gen Bajwa hands over baton of command to Gen Asim Munir

تحریر:غلام مصطفیٰ ملک


آج ایک عہد تمام ہوا ، پاکستان کے سولویں آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان باقاعدہ نئے مقرر ہونے والے آرمی چیف کے حوالے کر دی ۔
سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کئی حوالوں سے پاکستانی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب رہیں گے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں دو منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں دفعہ انکے حامیوں کے شدید مخالفت کا شکار ہوئے ۔
مجھے فوج کی تقرریوں ، تبادلوں ، تعینانتیوں اور ترقیوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے البتہ آرمی چیف کے لیے لابنگز ، من پسند تقرریوں کے پس منظر اور پس دیوار بہت ساری ڈیلز کا کچھ نہ کچھ علم اور آگاہی ضرور ہے ،
فوجی جرنیل سیاست میں مداخلت سے باز نہیں رہ سکتے وہ خود اس کھیل میں شریک ہونے کے خواہش مند ہوں نہ ہوں ، حالات ، واقعات اور بعض شخصیات انہیں گھسیٹ کا اپنے مکروہ کھیل کا حصہ بنا لیتے ہیں ، کچھ ایسی ہی غلطی جنرل باجوہ صاحب سے بھی ہوئی انکے کچھ مصاحبین نے باقاعدہ اس کھیل میں گھسیٹ لیا اور انہیں باور کرایا کہ وہی اس ملک اور قوم کے نجات دہندہ ہیں ۔
جنرل باجوہ صاحب کے عزائم اور مہم جوئی کا باقاعدہ نام ” باجوہ ڈاکرائن ” رکھا گیا ، جس کا اظہار 2018 میں فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ‘باجوہ ڈاکٹرائن’ ملک میں دیرپا امن یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔
‘باجوہ ڈاکٹرائن’ نے منتخب وزیر اعظم کو پانامہ کرتے کرتے اقامہ کی بنیاد پر گھر بھیج دیا اور آئندہ انتخابات میں یہ کامل بندوبست کیا کہ وہ کسی طور پر اقتدار میں نہ آسکیں ، ‘باجوہ ڈاکٹرائن’ نے نہ صرف تبدیلی سرکار کی صورت میں ایک نئی سرکار قوم کو دی بلکہ اسمبلی ، ملک ، معیشت کو چلانے کے لیے ہر وقت باقاعدہ راہنمائی بھی فرمائی ،جس کے بدلے میں ” ایکسٹینشن ” لی اور حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کیے رکھی ۔
‘باجوہ ڈاکٹرائن’ نے حکومت مخالف سیاستدانوں کو نہ صرف غردار ،چور اور کرپٹ کے سرٹیفکٹ بانٹے بلکہ انکی سیاسی منجھی ٹھوکنے کے پورے بندوبست کے ساتھ ساتھ اپنے ” ولی عہد ” کا اعلان بھی کر دہا ۔
میرے خیال میں یہی ‘باجوہ ڈاکٹرائن’ کی سنگین غلطی تھی کہ انہوں نے اس عہدہ کے باقی خواہش مندوں کی آس پر پانی پھیرا اور اپنے بے پناہ مخالفین بھی پیدا کر لیے ، جس کی وجہ سے سازشیں شروع ہوئیں ، بدلتے حالات میں ‘باجوہ ڈاکٹرائن’ نے یوٹرن لیا اور تبدیلی سرکار کو ہی تبدیل ہی کر کے رکھ دیا جس پر وہ سوشل میڈیا پر انکے حامیوں کے غیظ و غضب کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں ۔
سوشل میڈیا پر نئے چیف کی تقرری کے حوالے سے ایک طوفان برپا رہا ، ویسے آج کل۔ جس بچے کے پاس فون ہے وہ دفاعی تجزیہ نگار بن چکا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فلاں جنرل کو گھر بھیجو، اس والے کو سپہ سالار بناؤ، اور وہ جو دوسرا دبنگ لہجے والا تھا اس کو آئی ایس آئی کا سربراہ بناؤ۔ اگر یہ کرو گے تو فوج میری ہے ورنہ میں ابھی سے اس کو چوکیدار سے چور بنانے اور سمجھنے میں حق بجانب ہوں گا۔ یہ سوچ ملک ، قوم اور فوج کے لیے بہت نقصان دہ ہے ، ایک طرف مقتدرہ کی من مانیاں ہیں تو دوسری جانب عام آدمی اور ریاست کے نہ حل ہونے والے لاتعداد مسائل ہیں ، فوج اور عام آدمی میں تفریق سے شاہد فائدہ کسی کا نا اللہ نہ کرح ملک کا نقصان نہ ہو جائے ۔
ان سارے واقعات سے سبق ملتا ہے کہ جس طرح میاں صاحب کو گھر بھیجنا غلط تھا تو اسی طرح خان صاحب کو مکھن سے بال کی طرح نکال دینا بھی مناسب نہیں ہے ، سیاسی قوتوں نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا اور میرٹ پر تقرریاں کر دیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جنرل باجوہ صاحب کو نہ صرف
‘باجوہ ڈاکٹرائن’ کی ناکامی پر معافی مانگنی چاہئے بلکہ آئندہ آنے والوں کو بھی کسی قسم کی مداخلت سے باز رہنا چاہیے اس سے جوانوں کا مورال بلند اور ملک دشمنوں کو شکست ہو گی ۔
ورنہ یہی کہوں کہ ان آنکھوں نے بہت سارے
” چھڑدے سورج ڈھلڈے ویکھے
بجھےدیوےبلدے دیکھے

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

انگلینڈ کے تاریخی دورہ پاکستان پر برطانوی ہائی کمشنر کی جانب سے اعزازی تقریب

پڑھنے کے اگلے

وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے