PK Press

سی پیک اور دیگر باہمی روابط کے منصوبوں میں تعاون بتدریج فروغ پا رہا ہے، چینی میڈ یا

 

چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 187.5 بلین امریکی ڈالرز یو گیا، رپورٹ

 

بیجنگ :

چین اور جنوبی ایشیائی ممالک دوست، پڑوسی اور ترقیاتی شراکت دار ہیں۔صدی کی بڑی تبدیلیوں اور کوویڈ-19 وبا کے تناظر میں فریقین کے تعاون کی اہمیت مزید ابھرتی ہے۔ 2021 میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 187.5 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ 2019 میں کوویڈ -۱۹ وبا سے پہلے کے مقابلے میں 50 بلین ڈالر زیادہ ہے۔اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری اور دیگر باہمی روابط کے منصوبوں میں تعاون بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
19 سے 22 نومبر تک چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو صوبہ یون نان کے شہر کھون منگ میں کامیابی سے منعقد ہوئی ۔اس کا موضوع "نئے مواقع کا اشتراک اور نئی ترقی کی مشترکہ تلاش ” تھا۔اسی ممالک ،علاقے اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں،تیس سے زائد چینی سرکاری اداروں اور چونسٹھ اندرونی و بیرونی اہم صنعتی اداروں نے اس ایکسپو میں شرکت کی۔سال ۲۰۱۲ سے اب تک چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو اپنا دس سال کا سفر طے کر چکی ہے۔یہ صوبہ یون نان کے کھلے پن کی ایک کھڑکی بن چکی ہے اور چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی روابط کے لیے ایک مضبوط پل بھی ہے۔

صوبہ یون نان چین اور جنوبی ایشیا کو منسلک کرنے والا اہم صوبہ ہےاور حالیہ برسوں میں جنوبی اییشائی ممالک کے ساتھ تعاون و تبادلوں کو مسلسل وسعت دی جا رہی ہے۔دس برسوں میں تجارتی مالیت تین گنا بڑھی ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ چھ جڑواں شہروں سے ائیر لائنیں کام کر رہی ہیں۔چین-جنوبی ایشیا ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مرکز سے 80 سے زائد بین الاقوامی مںصوبوں کو عمل میں لایا گیا ہے۔اس وقت صوبہ یون نان میں زیر تعلیم جنوبی ایشیائی طلباء کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ایک بات قابل ذکر ہے کہ یون نان میں ثقافت و قدرت کے متنوع مناظر پائے جاتے ہیں اور یہاں چینی لوگوں کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے۔یون نان میں اس ایکسپو کے انعقاد سے بیرونی شرکاء یون نان اور چین کے متنوع ثقافت اور مالامال قدرتی وسائل سے لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں۔
چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو کے دوران، چائنا-جنوبی ایشیا تعاون فورم،چائنا-بحرہند خطے کی ترقی پر تعاون فورم،”بیلٹ اینڈ روڈ”سپلائی چین سمٹ سمیت دیگر سلسلہ وار سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ان میں چائنا-جنوبی ایشیا تعاون فورم چین اور جنوبی ایشیا نیز بحرہند کے ممالک کے درمیان سرکاری روابط اور تعاون کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔”بیلٹ اینڈ روڈ”سپلائی چین سمٹ اور چین-جنوبی ایشیا تجارتی فورم صنعتی و سپلائی چین کے استحکام پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔علاوہ ازیں،چین-جنوبی ایشیا صحت عامہ کا فورم،چین-بحرہند تھنک ٹینک فورم بھی منعقد ہوئے ہیں۔مشترکہ ترقی سے صحت عامہ تک، چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو کی متعلقہ سرگرمیاں مختلف شعبوں میں اتفاق رائے حاصل کر کے علاقائی تعاون کے مزید مواقع فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انیس نومبر کو چینی صدر شی جن پھنگ نے چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو کے لیے ارسال کیے جانے والے تہنیتی خط میں نشاندہی کی کہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک ہم نصیب معاشرے ہیں۔جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی سفارت کاری ،اقتصادی و تجارتی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کے اہم پلیٹ فارم کی حیثیت سے چائنا-جنوبی ایشیا ایکسپو ،جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر”بیلٹ اینڈ روڈ” کی اعلیٰ معیاری تعمیر، عالمی ترقیاتی انیشیٹو کے نفاذ کو مزید فروغ دے گی اور چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے مشترکہ خوبصورت اور خوشحال مستقبل کے لیےمزید خدمات سرانجام دے گی ۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین کی انٹیلجنٹ مینوفیکچرنگ کے استعمال کا پیمانہ عالمی صفِ اول میں داخل

پڑھنے کے اگلے

اسلام آباد میں عمران خان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ، جی ایچ کیو کا جواب سامنے آگیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے