PK Press

توشہ خانہ ریفرنس: ’آپ کو پریشر ڈال کر تو نہیں بھیجا گیا کہ جاؤ عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کردو؟

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں توشہ خانہ ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز ہوگیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت کی، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک اور ان کے وکیل سعد حسن عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرسے عدالت کے سامنے حلف لیا گیا، وقاص احمد ملک کی جانب سے بیان حلفی عدالت کے سامنے لکھوایا گیا۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے بیان حلفی میں کہا کہ مجھے اتھارٹی دی گئی ہے 21 نومبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی پیروی کروں ، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 190 کو 167 اور 173 کے ساتھ ملا کر کارروائی کی اتھارٹی دی گئی ، یہ کارروائی عمران خان کے کرپٹ پریکٹیسسز سے متعلق ہیں، الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ ریفرنس کی بنیاد پر ممبر اسمبلی کے نااہلی معاملے کو دیکھ سکتا ہے۔
وقاص احمد نے بیان حلفی کے متن میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ 31 دسمبر تک ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کو گوشواروں کی تفصیلات جمع کرانا ہوتی ہیں ، عمران خان نے 2018 ، 2019 ، 2020 ، 2221 کے گوشوارے جمع کروائے ۔
جج نے مسکراتے ہوئے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر سے مکالمہ کیا کہ آپ کو پریشر ڈال کر تو نہیں بھیجا گیا کہ جا کر دائر کرو ؟ میں ویسے کہہ رہا ہوں نہیں موڈ تو بتا دیں ، جس پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرنے عدالت کے سامنے جواب دیا کہ میں اپنی ڈیوٹی نبھارہا ہوں۔
الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھیجوایا تھا، ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشنر نے ڈسٹرکٹ کورٹ کو بھجوائی گئی شکایت میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ عمران خان پر کرپٹ پریکٹس کا ٹرائل کرے، عمران خان نے اثاثوں کی جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں ، وہ کرپٹ پریکٹیسسز کے مرتکب ہوئے، سیکشن 174 کے تحت جھوٹی تفصیلات جمع کرانے کی سزا بھی ہے۔
عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے، عمران خان کو 3 سال جیل کی اور جرمانہ کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا، توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،170 ،167 کے تحت بھجوایا گیا ہے۔

توشہ خانہ کیس کا پس منظر
سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لئے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمران جماعت کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف کو فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ڈکلیئر نہیں کیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے موقف اپنایا تھا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے جب کہ سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف کو بھی آئین کی اسی شق کے تحت اسی نوعیت کے معاملے میں تاحیات نااہلی قرار دیا گیا تھا، ان پر اپنے بیٹے سے متوقع طور پر وصول نہ ہونے والی سزا گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام تھا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

شفقت چیمہ ،14سال کی عمر میں جمعہ پڑھانے والا لڑکا پنجابی فلموں کا ولن کیسے بنا؟

پڑھنے کے اگلے

ابوظہبی ٹی 10کا میلہ کل سے سجے گا،6پاکستانی کھلاڑی ان ایکشن

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے