PK Press

حضرت محمد ﷺ کی چادر مبارک کی حفاظت کرنے والا خوش قسمت خاندان

آقائے دو جہاں سے منسوب چیزیں اس وقت دنیا کے کئی شہروں میں موجود ہیں، جن کی زیارت دنیا بھر کے مسلمان کرتے ہیں۔
ترکیہ کے شہر استنبول کے ضلع فاتح میں موجود 160 سال پرانی مسجد قائم ہے

جس کا نام بھی اس چادر مبارک کی بنا پر رکھا گیا ہے۔
ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق 160 سال پرانی اس مسجد میں آقائے دو جہاں ﷺ سے منسوب ایک چادر مبارک رکھی گئی ہے۔


اس چادر مبارک کو حرکہ شریف کہا جاتا ہے، سفید رنگا کی یہ چادر مبارک اس تاریخی مسجد کے ایک حصے میں رکھی گئی ہے، جسے میوزیم کا درجہ دے دیا گیا ہے اور چاہنے والے یہاں آ کر عبادت تو کرتے ہی ہیں ساتھ ہی زیارت بھی کرتے ہیں ۔1851 میں بنائی گئی اس مسجد میں بناوٹ اور خوبصورت ماضی کی یاد تازہ کر دیتی ہے، جبکہ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ مسجد اپنے اندر تاریخ کو کچھ اس طرح بیان کرتی ہے، کہ

در دیوار باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔
اس مسجد کی دیکھ بھال کے لیے قائم کمیٹی کی جنرل سیکریٹری سمیرا گُلدل کا کہنا تھا کہ

رمضان کے دوران ہر سال 10 لاکھ سے زائد لوگ زیارت کے لیے یہاں آتے ہیں،
اس مسجد اور حرکہ شریف کی حفاظت پر معمور خاندان کوئی عام خاندان نہیں ہےبلکہ حضرت اویس قرنی کے خاندان سے ہیں، جنہیں یہ چادر مبارک بطور تحفہ ملی تھی۔

Nafees Ur Rehman Durrani on Twitter: "The cloak is said to be the only physical token from the spiritual journey Mi'raj of the Prophet (PBHU) to the skies. The Prophet later gifted

حضرت اویس قرنی کی 59 ویں اولاد بارش سمیر بتاتے ہیں کہ جب میں تین سے چار سال کا تھا، تب سے مسجد میں رہ رہا ہوں۔ میں نے یہ چیز محسوس کی ہے کہ میری فیملی اس چادر مبارک کے حوالے سے کتنی حساس ہے اور

لوگوں کو زیارت کرانے کے حوالے سے بھی خوش ہوتی ہے۔
حضرت اویس قرنی کا تعلق یمن سے تھا جو حضرت محمد ﷺسے ملنے مدینہ گئے مگر اپنی والدہ کی بیماری کی وجہ سے انہیں حضور ﷺسے ملاقات کئے بغیر واپس آنا پڑا اسی لئے حضرت محمد ﷺنے حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کی چادر مبارک حضرت اویس قرنی کو دیں اور اس وقت سے حضرت اویس قرنی کی نسل آج تک اس چادر کی حفاظت کر رہی ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

کرہ ارض سے متعلق انسانوں کی ذمہ داریوں پر غور کیا جائے

پڑھنے کے اگلے

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے