PK Press

انقلابی شاعر فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے 38برس بیت گئے

انقلابی شاعر فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے 38برس بیت گئے

خوبصورت لب ولہجے کے معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی 38ویں برسی 20نومبر کو منائی جائیگی،

 

فیض احمد فیض 13فروری 1911کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، وہ علامہ اقبال، مرزا غالب کے بعد اردو ادب کے عظیم شاعر تھے۔

 

بیسویں صدی کے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کو بچھڑے 38برس گزر گئے، لیکن ان کی شاعری کا حسن آج بھی برقرار اور لوگوں کے دل و دماغ میں زندہ ہے۔
فیض احمد فیض وہ عہد ساز شاعر تھے، جنہیں زندگی ہی میں بے پناہ شہرت، عزت اور محبت ملی۔

فیض کی شاعری میٹھے پانی کا ایسا چشمہ ہے، جس کی مٹھاس روح تک اتر جاتی ہے۔
فیض کی شاعری میں امن، محبت، ہجر اور وفا سمیت معاشرتی نشیب و فراز اور مظالم کے خلاف انقلاب کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

فیض کو سوشلزم سے وابستگی اور آزادانہ اظہارِ خیال کی کڑی سزا بھگتنی پڑی، انہوں نے زندگی کے بہترین ماہ و سال قیدو بند میں گزارے، لیکن ان کی سوچ پر پہرے نہ لگ پائے۔
فیض ایک طرف انقلاب تو دوسری طرف محبت کے گیت الاپتے نظر آئے۔
ان کا مخصوص لہجہ اور اسلوب ہی وہ جادو ہے جو آج تک مداحوں کو اپنا اسیر کیے ہوئے ہے۔
فیض انگریزی، اردو اور پنجابی کے ساتھ فارسی اور عربی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے، ان کی شعری تصانیف میں غمِ جاناں اور غم دوراں ایک ہی پیکر میں یکجا ہیں۔
‘مجھ سے پہلی سی محبت’، ‘گلوں میں رنگ بھرے’، ‘بہار آئی’ اور ‘بول کے لب آزاد ہیں تیرے’، فیض کے وہ گیت ہیں، جو امر ہوچکے ہیں۔
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
جوچلے تو جاں سے گزر گئے
فیض احمد فیض نے ساری زندگی ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ہمیشہ شاعر کا منصب بھی نبھایا۔ وہ اردو شاعری کی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ان کی فکر انقلابی تھی، مگر ان کا لہجہ غنائی تھا۔
انہوں نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اورعاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ اردو شاعری میں ایک نئی جمالیاتی شان پیدا ہوگئی اور ایک نئی طرز فغاں کی بنیاد پڑی جو انہی سے منسوب ہوگئی۔
فیض نے اردو کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا اور انہی کی بدولت اردو شاعری سربلند ہوئی۔ فیض نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کسی ایک خطے یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے ہوتی ہے۔
نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور مرے دل مرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں اور سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی انہوں نے میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور مہ و سال آشنائی جیسی کتابیں یادگار چھوڑیں۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
9 مارچ 1951 میں آپ و راولپنڈی سازش یس میں معا ونت کے الزام میں حکومت وقت نے گرفتار ر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدر آباد اور راچی ی جیل میں گزارے۔ آپ کو 2 اپریل 1955 کو رہا ر کردیا گیا ۔ زنداں نامہ ی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لکھی گئیں۔
فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو لاہور میں جہان فانی سے کوچ کرگئے ۔ حکومت کی جانب سے ان کی گراں قدر خدمات پر انہیں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

مقتول فہد ملک کیس میں سزا یافتہ دو مجرمان کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

پڑھنے کے اگلے

جنت مرزا نے عمر بٹ سے بریک اپ کا اعلان کردیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے