PK Press

یاد رفتگاں

میر غلام احمد کشفی

تاریخ ساز۔۔۔۔۔۔۔علامہ میر غلام احمد کشفی

تحقیق وتحریر:۔ ڈاکٹر الہی بخش اعوان

جنت بے نظیرکشمیر کے دلدادہ،شمع آزادی کے پروانے،عشق وطن میں دیوانے،میدان صحافت کے شہسوار،خطابت کے علمبردار،اردو کے پرستار،کشمیری زبان و ادب کے راہوار،ارادے کے قوی،عمل کے دھنی اور

اصولوں پر ثابت قد م رہنے والے علامہ میر غلام احمد کشفی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے علاقہ کہوئی ہامہ کے موضع واچھیگام میں ۵جنوری۱۹۱۱ء میں پیدا ہوئے۔آپ نے علم و ادب ،تصوف اور

مذہبی ماحول میں آنکھ کھو لی اور نشوو نما پائی۔علامہ کشفی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔تاریخ ساز؟اس اصطلاح کے معنی کیا ہیں؟تاریخ بنانے والایا جسے تاریخ نے بنایا ہو؟میرے خیال میں

اس کے دونوں معنی ہی درست ہیں۔تاریخ ساز کی اصطلاح مختلف قسم کی شخصیات کے بارے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیںجن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن حالات و واقعات یا تاریخ بلکہ ان کے لکھنے والے انہیں عظیم بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ’’پیران نمی پرند مریدان می پرانند‘‘یعنی پیرنہیں اڑتے مرید انہیں اڑاتے ہیں۔یہ لوگ ان معنوںمیں تاریخ سازکہلاتے ہیںکہ انہیں تاریخ نے بنایا ہوتا ہے۔اگر ہم غور کریں تو ہمارے ارد گردایسے بہت سے تاریخ سازدکھائی دیں گے۔ اس کے بر عکس دوسرے معنوںمیں تاریخ ساز شخصئیات شاذ ہی نظر آتی ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیںجو تاریخ بناتی ہیں۔اور علامہ ڈاکٹر اقبال ؒ کی اصطلاح میں ’’دیدہ ور‘‘کے مصداق ہوتی ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ کشفی صاحب ان ہی معنی میںتاریخ ساز اور دیدہ ور کے مصداق ہیں۔
آپ کے والد بزرگوارمیر محمد سلطا ن صوفی منش اور بزرگ درویش تھے۔ان کا صوفیانہ کلام کشمیری زبان کے ادب میں ایک بلند مقام کا حامل ہے۔ علامہ کشفی نے میٹرک کے بعد اردو، عربی ،اور فارسی میںمولوی فاضل،منشی فاضل،ادیب فاضل اور علوم شرقیہ کی سندات حاصل کیں۔والد ماجد کی تربیت اور خود ان ان کی طبعی افتاد نے ایک طرف علم و ادب اور تصوف کے سرچشمے سے سیراب ہونے میں مدد دی تو دوسری طرف ریاست کے سیاسی ماحول نے انہیں سیاست کی جانب مائل کیا۔آپ نے تلوار کی بجائے قلم کے استعمال سے اس میدان میں بھی شہسواری کے جوہر دکھائے۔ صحافت میںراہوار قلم کو دوڑایاتو بہت سوں سے بازی لے گئے۔ پہلیــ’’ سیاست‘‘ ،’’انقلاب‘‘اور ’’زمیندار‘‘ جیسے سکہ بند اخبارات میں چھپتے رہے،پھر کشمیر کمیٹی کے سرکاری ترجمان ’’اصلاح‘‘کی ادارت سنبھالی۔ کچھ عرصہ محکمہ تعلیم میں بطور استاد ملازمت اختیار کی، لیکن سرکاری ملازمت آپ کے مزاج کے منافی تھی لہذا چند برسوںبعد ہی طبیعت اکتا گئی اور پھر سے صحافت کی جانب رخ کیا۔ریاستی جریدہ روزنامہ’’خدمت‘‘ سے بطور چیف ایڈیٹروابستہ ہو گئے۔اس کے ساتھ ساتھ آزاد صحافی کے طور پر مختلف اخبارات اور جرائد میں بھی لکھتے رہے۔تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور سیاست کا بھی۔
آپ کو شیخ عبداللہ کی بھی قریبی رفاقت حاصل رہی۔ ۱۹۴۶ء میں چلنے والی ’کشمیر چھوڑدو‘تحریک میں متحرک رہے۔ قید و بند کی صعوبتیںبرداشت کیںلیکن آزادی کی جدوجہد سے منہ نہ موڑا۔ بخشی غلام محمد کے دور حکومت میں ان سے اختلاف پیدا ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر چھوڑ کر۱۹۴۷ء میں آزادکشمیر آگئے اور مرتے دم تک یہاںزبان و قلم سے آزادیء وطن کے لیئے خدمات انجام دیتے رہے۔آزاد کشمیر ریڈیو سے وابستہ ہوئے تو وہاں سے وطن کی آزادی کا جہاد جاری رکھا۔کشمیری اور اردو زبان میںملی نغمے لکھے اور انہیں ریڈیو کے ذریعے عوام تک پہنچاتے رہے۔ ہفت روزہ’’ہماری آواز‘‘ کا اجراء دنیائے صحافت میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔مزید برآں ہفت روزہ ’’جدید کشمیر‘‘کی ایک عرصہ تک ادارت کے فرائض انجام دیے۔قران پاک کا سلیس اردو ترجمہ شائع کیا۔ حرم کے پاسبان نامی تصنیف نے بھارتی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔ جس کے نتیجے میں یہ کتاب ضبط کر لی گئی۔آزاد منش اور آزادی کے متوالے علامہ کشفی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے جس کا اظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کی بھرپور جدوجہد سے ہوتا ہے۔انہوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھاہراول دستہ بن گئے۔ صحافت،ادب،سیاست،تعلیم و تدریس، تحقیق،انتظامی امور ہر شعبے میںسرگرم عمل رہے۔
علامہ کشفی کو جس قدرکشمیر، آزادی کشمیر،اور کشمیری زبان و ادب سے پیار اور لگاوء تھااسی قدر پاکستان اور اردو زبان سے بھی لگائو تھا۔دونوں زبانوں میں زبان و قلم کے جوہر دکھائے۔ علامہ کشفی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاقہیکو آزادی کی منزل قرار دیتے تھے ۔ان کی ایک مشہور نظم’’الحاق پاکستان‘‘ ہے جس میں وہ پیغام دیتے ہیںکہ چپو اٹھائو،کشتی چلائواور منزل پر پہنچ کر اعلان کروکہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔وہ ایک مخلص دوست اور ہمدرد انسان تھے،جہاں ان کی علمی،ادبی،سیاسی،صحافتی اور مجاہدانہ زندگی سنہرے حروف سے مزین ہے وہاں ان کی انسان دوستی،خلوص اور مروت بھی جلی حروف میں تحریرکئے جانے کے قابل ہیں۔ وہ خود تو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں لیکن ان کی ملک و ملت اورآزادی وطن کے لئے جدوجہداور بے لوث قربانیاںہمیشہ یاد رہیں گی۔ وہ ایک عظیم سپہ سالار بھی تھے اور ایک ان تھک سپاہی بھی۔ خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را
اپنی ایک اور تصنیف’’کشمیر ۔۔ایک ثقافتی تعارف‘‘ میں وہ دعا کرتے ہیں’’خدا کرئے کہ یہ فردوس بر روئے زمین جلد آزاد ہو کراپنی گذشتہ رعنایئوں کے ساتھ اہل جنت کا مسکن بنے اور یہاں کے لو گ اس طرح اپنی ذہانت اور خطابت کا مظاہرہ کر سکیں‘‘، علامہ میر غلام احمد کشفی تقسیم ہند سے قبل اور آزادی کے بعد کی تاریخی کروٹوںکے چشم دید گواہ رہے ہیں اس لئے ان کی تحریروںمیں گہرا تاثر اورملی تصور جھلک رہا ہے،علامہ میر غلام احمد کشفی کو صحافی،شاعر،اور مجاہد آزادی کے علاو ہ مورخ کشمیر کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔وہ تاریخ ساز کردار کے حامل تھے ۔انہوں نے کشمیر کے نظروں سے گمشدہ ا وراق کا حوالہ دے کرتاریخی خدمات انجام دی ہیں۔ان کی جدوجہداور تگ و دوکے ساتھ صوتی اور صحافتی محاذ پرنا قا بل فراموش خدمات کے علاوہ قلم کے ذریعے کشمیر کے تاریخی واقعات کو قلمبند کرنے کو ایک عظیم کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ان کے کردار کا یہ پہلوبہت متاثر کن ہے اوران سے متعارف ہونے والے کو انہیں خراج تحسین پیش کرنے پر مائل کرتا ہے۔ان کی دیگر تصانیف میںکشمیر ہمارا ہے،حرم کے پاسبان،مردان حر،کچھ یادیںکچھ حقیقتیں ،عبادالرحمان بھی شامل ہیں۔ کشمیر ہمارا ہے،ریفرنس بک کی حیثیت رکھتی ہے اس کا پیش لفظ سابق وزیر خارجہ پاکستان جناب منظور قادر نے تحریر کیا ہے
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرتا رہے

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چینی صدر کا  چین امریکہ تعلقات کی تر قی کے لئے باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

پڑھنے کے اگلے

الیکشن کمیشن کیس، عمران خان کو نوٹس جاری

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے