PK Press

دنیا بدامنی اور تبدیلیوں کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکی، چینی صدر

 

با لی :

صدر شی جن پھنگ نے بالی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کی۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
شی جن پھنگ نے کہا کہ اس وقت دنیا بدامنی اور تبدیلیوں کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ چین، فرانس اور یورپی یونین کو آزادی، کھلے پن اور تعاون کے جذبے پر عمل کرنا چاہئے، دوطرفہ تعلقات کو درست سمت پر گامزن کر تے ہوئے دنیا میں استحکام اور مثبت توانائی کو فروغ دیناچاہئے.
شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی جانب سے اعلیٰ سطحی کھلے پن اور چینی طرز کی جدیدکاری کو فروغ دینے کی کوششوں سے فرانس سمیت دنیا کے تمام ممالک کو نئے مواقع میسر آئیں گے۔ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام ،خدشات کاخیال اورعملی تعاون کو مستحکم کرتے ہوئے روایتی شعبوں میں نئی پیشرفت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوشش کرنا چاہیے۔
صدر میکرون نے کہا کہ فرانس اور چین عالمی امن وترقی اور عالمی اقتصادی خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہیں۔ جدیدیت کا چینی ماڈل قابل ستائش ہے۔ فرانس آزاد سفارت کاری پر عمل پیرا ہے اور گروہی تصادم کی مخالفت کرتا ہے۔ موجودہ کشیدہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر فرانس کو امید ہے کہ چین کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور تعاون کے جذبے کو برقرار رکھا جائےگا، اعلیٰ سطحی مکالمے جاری کئے جائیں گے، معیشت ، تجارت، ہوا بازی اور جوہری توانائی سمیت تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بہتر کیا جائے گا ۔ چینی کاروباری اداروں کی جانب سے فرانس میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جائےگا۔ فرانس موسمیاتی تبدیلی، خوراک کے بحران اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ جیسے عالمی مسائل کو مشترکہ طور پر حل کرنے کے لئے چین کے ساتھ کثیر الجہتی مواصلات اور تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ فرانس یورپی یونین اور چین کے درمیان مذاکرات اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کو بھی تیار ہے.
دونوں فریقین نے یوکرین کی صورتحال سمیت دیگر بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدرشی جن پھنگ نے زور دے کر کہا کہ یوکرین کے بحران پر چین کا موقف واضح اور مستقل ہے اور چین جنگ بندی اور امن مذاکرات کی وکالت کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو اس کے لیے کوشش کرنا چاہیے جب کہ چین اپنے انداز میں اس سلسلے میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چینی صدر نے تائیوان کو چین امریکہ تعلقات کی اولین ریڈ لائن قرار دے دیا

پڑھنے کے اگلے

چین داسو دہشت گرد حملے کی تحقیقات کو بہت اہمیت دیتا ہے

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے