PK Press

چین امریکہ موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار امریکہ ہے، چینی وفد

 

بیجنگ :
اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے فریقین کی کانفرنس کا ستائیسواں اجلاس مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقد ہو رہا ہے۔ جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق کانفرنس میں شرکت کرنے والے چینی وفد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کی، جس میں صدر شی جن پھنگ کے خصوصی نمائندے اور موسمیاتی تبدیلی کے امور کے لیے چین کے خصوصی ایلچی شے چن ہوا نے چین اور امریکہ کے درمیان موسمیاتی تعاون، چین کی قابل تجدید توانائی کی ترقی اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو فراہم کی جانے والی مالی اعانت کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایک برطانوی صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ "امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے موسمیاتی مذاکرات کے دروازے کھول دیے ہیں ، لیکن چین اس میں حصہ لینے کے لئے تیار نہیں ہے”، شے چن ہوا نے زور دے کر کہا کہ یہ امریکہ ہی تھا جس نے یہ دروازے بند کیے تھے۔ چین اور امریکہ کے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تعاون کی ایک اچھی اور طویل مدتی تاریخ ہے ، اور یہاں تک کہ چین اور امریکہ کے پیچیدہ تعلقات میں بھی متعلقہ مواصلات اور رابطوں میں کبھی خلل نہیں آیا۔ انہوں نے کہا جب یہ تعاون خوش اسلوبی سے چل رہا تھا تو امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کرکے چین کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کی اور چینی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ۔نینسی پلوسی نے چین اور امریکہ کے تین مشترکہ اعلامیوں کی روح کو مجروح کیا اسی لیے ہم نے موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کیا، لیکن معطلی کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

امریکہ کو چین کے ساتھ اپنے اختلافات مناسب طور پر حل کرنے چاہیئں، چینی وزارت خارجہ

پڑھنے کے اگلے

سمندری تعاون سے متعلق چین اور آئی لینڈ ممالک کے مابین اعلی سطح فورم کا انعقاد

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے