PK Press

لانگ مارچ کا دوبارہ اعلان

تحریر:(راشد عباسی)پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز 28 اکتوبر کو لاہور سے ہوا تھا اور

ابتدائی لائحہ عمل کے تحت مارچ کے شرکاء نے 4 اکتوبر کو

اسلام آباد پہنچنا تھا،

مگر31 اکتوبر کو عمران خان نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں پہنچنے میں 8 سے 9 دن لگیں گے جس پر مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں،

اگرچہ پی ٹی آئی ابتداء سے ہی لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد لاکھوں میں ہونے کا دعوے کر رہی ہے لیکن غیرجانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ مارچ میں شرکاء کی

تعداد عمران خان کی توقع سے بہت کم ہے، یہی وجہ ہے انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کی تاریخ مزید بڑھا دی ہے،

وہ چاہتے ہیں کہ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی

کوئی ’’سیٹلمنٹ‘‘ ہو جائے اور انہیں ’’فیس سیونگ‘‘ مل جائے۔وزیر آباد میں جمعرات کو عمران خان کے کنٹینر پر حملے کے بعد عمران خان نے لانگ مارچ ملتوی کرنے

کا اعلان کر دیا تھا، اگرچہ اس حملے پر بھی طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں،

کوئی اسے عمران خان کی جان لینے کے لئے منصوبہ بند سازش قرار دیتا رہا تو

کوئی پی ٹی آئی کی لانگ مارچ سے جان چھڑانے اور عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کی حکمت عملی گردانتا رہا، بہر حال حملے کی وجہ جو بھی ہو، اس حوالے سے ابھی

تحقیقات ہونی ہیں، عمران خان کے لئے مارچ کو طویل عرصے تک مؤخر کرنے کا ٹھوس جواز ضرور ہاتھ گیا تھا،

ان کے پاس موقع تھا کہ اپنی صحت کا خیال کرتے

اور دوبارہ سے لانگ مارچ کی منصوبہ بندی اور کارکنوں کو متحرک کرتے، لیکن بوجہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور جمعرات سے دوبارہ لانگ مارچ اسی جگہ سے

شروع کرنے کا اعلان کر دیا جہاں پر حملہ ہوا تھا، یہ اعلان مخالفین کے لئے ہی بلکہ خود پی ٹی آئی کے بعض لوگوں کے لئے بھی حیرانی کا باعث ہے۔

ایک تاثر یہ

بھی ہے کہ عمران خان اہم فیصلوں پر پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کو بھی اعتماد میں نہیں لے رہے ہیں، بہرکیف یہ ایک الگ بحث ہے، عمران خان کا لانگ مارچ دوبارہ

شروع کرنے کا فیصلہ درست ہے یا غلط، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ لانگ مارچ کو شرکاء کے ذریعے ہی کامیاب بنایا جا سکتا

ہے،

لاہور سے وزیرآباد تک مارچ میں جتنی تعداد میں شرکاء شریک تھے، اس پر حکومتی صفوں میں بھی اطمینان ہی نظر آرہا تھا، اب اگر عمران خان اسلام آباد پہنچنے

تک شرکاء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وہ حکومت یا مقتدر حلقوں پر دباؤ نہ بڑھا پاتے

تو اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پھر انہیںکچھ

حاصل کئے بغیر ہی واپس لوٹنا ہوگا، یوں کئی دنوں تک جاری رہنے والی لانگ مارچ کی یہ مشق بے مقصد ہو کر رہ جائے گی جس کا عمران خان کو سیاسی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

شعیب سے علیحدگی کی افواہیں، ثانیہ کی نئی پوسٹ نے مداحوں کی تشویش بڑھا دی

پڑھنے کے اگلے

شادی کے 8 سال بعد شوبز کی مشہور جوڑی کے راستے جدا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے