PK Press

چینی صدر کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات

 

دونوں ممالک کے ما بین ریلوے اور ای کامرس سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کی دستاویزات پر دستخط

چین اور پاکستان ایک دوسرے کے اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، شی

سیلاب سے متاثرہ پاکستان کو قیمتی امداد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کر تے ہیں، پاکستان مضبوطی سے ون چائنا پالیسی پر کاربند ہے، وزیر اعظم شہباز شر یف
ثمر قند ()

چینی صدر شی جن پھنگ نے سمرقند کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین اور پاکستان قریبی پڑوسی ہیں اور ان کی تقدیر آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی صورتحال میں چاہے جو بھی تبدیلی آئے، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے قابل اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ چین دونوں ممالک کے درمیان چاروں موسموں کی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے اور نئے عہد میں چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کرکام کرنے کا خواہاں ہے۔

شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو کے حوالے سے فعال ردعمل پر پاکستان کو سراہتا ہے ۔دونوں فریقوں کو اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور گروہی محاز آرائی کی مخالفت اور کثیرالجہتی کے تحفظ کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مخلصانہ آواز کو بلند کرنا چاہیے۔

اس موقع پر شہباز شریف نے شدید سیلاب سے متاثرہ پاکستان کو بروقت اور قیمتی امداد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نےکہا کہ پاکستانی عوام صدر شی جن پھنگ کا بہت احترام کرتے ہیں اور چین کو پاکستان کا عظیم دوست سمجھتے ہیں۔شہباز شریف نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی آئندہ 20ویں قومی کانگریس کے کامیاب انعقاد کے لیے نیک خواہشات ظاہر کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مضبوطی سے ون چائنا پالیسی پر کاربند ہے، تائیوان، سنکیانگ اور ہانگ کانگ جیسے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر چین کے موقف کی مضبوطی سے حمایت کرتا ہے اور بعض قوتوں کی جانب سے چین کے اقتدار اعلیٰ کو نقصان پہنچانے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان ، ملک میں موجود چینی شہریوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کو باہمی سودمند تعاون کا نمونہ بنائےگا ، اور "دی بیلٹ اینڈ روڈ” کی تعمیر جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی بلندی تک لے جانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

اسی روز دونوں ممالک کے متعلقہ محکموں نے ریلوے اور ای کامرس سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چینی صدر کی چین، روس اور منگولیا کے صدور کی چھٹی ملاقات میں شرکت

پڑھنے کے اگلے

چین نے ایس سی او کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، وزیراعظم

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔