PK Press

چین، ماحولیاتی تحفظ میں چین کی تاریخی کامیابیاں

 

"چین کی یہ دہائی” کے موضوع پر پریس کانفرنسوں کے ایک سلسلے میں، ماحولیات کے وزیر ہوانگ رن زیو نے کہا کہ یہ دہائی چین کی ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بہترین دہائی رہی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ میں تاریخی اور جامع تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی معیار کے سلسلے میں، 2021 میں، چین کے بیشتر شہروں میں (PM2.5) کا ارتکاز 2015 کے مقابلے میں 34.8 فیصد کم ہو چکا ہے، اور پانی اور مٹی کو درپیش ماحولیاتی خطرات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا گیا ہے ۔دوسری جانب بیرونی فضلے کے ملک میں داخلے کو روکا گیاہے ۔ نیچر ریزروزکا رقبہ کل زمینی رقبے کے 18 فیصد تک جا پہنچا ہے ،اور 300 سے زائد اقسام کے نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پودوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کا رجحان مزید نمایاں ہو رہا ہے.
پچھلی دہائی میں،چین میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں فی یونٹ جی ڈی پی 34.4 فیصد کی کمی آئی ہے، اور توانائی کی کل کھپت میں کوئلے کا تناسب 68.5 فیصد سے کم ہو کر 56.0 فیصد رہ گیا ہے۔ قابل تجدید توانائی کی ترقی اور استعمال کا پیمانہ، اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، اور دنیا کی سب سے بڑی کاربن تجارتی منڈی قائم کی گئی ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 2030 تک عروج پر ہو گا، اور 2060 تک کاربن نیوٹرل کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ چین عالمی ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر میں ایک اہم شراکت دار اور رہنما بن چکا ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین، "آسیان پارٹنرشپ” میڈیا کوآپریشن فورم 2022 کا انعقاد

پڑھنے کے اگلے

2030 پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ کا کردار اہمیت کا حامل ہے، یو این

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔