PK Press

رئیس امروہوی کومداحوں سے بچھڑے 34 برس بیت گئے

rais amrohvi

اردو کے نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی کو اپنے مداحوں بچھڑے 34 برس بیت گئے،ان کے دلوں کو چھولینے والے اشعار آج بھی دنیا بھرمیں پسندیدگی کی انتہا پر ہیں،ادب سے محبت کرنیوالے اردو کے اس عظیم سرمایہ کو22ستمبر 1988کو نامعلوم افراد نے قتل کرکے ابدی نیند سلا دیا۔ممتاز شاعر، دانشور،کالم نگار، بات کی جائے قطعہ نگاری یا پھر ہو وہ مقام اعلی نثر نگاری کا رئیس امروہوی نے ملکی اور غیر ملکی سطح پر بے پناہ پذیرائی حاصل کی جو ان کی شہرت کی وجہ بنی۔ شاعری کے علاوہ نثر نگاری میں بھی انہوں نے اپنا نام پیدا کیا۔ رئیس امروہی نے مختلف موضوعات پر بھی کئی کتابیں تصنیف کیں۔عظیم شاعر امروہہ کے معروف ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد علامہ سید شفیق بھی شاعر اور عالم تھے، رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا، کراچی آنے کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور ہمیشہ کیلئے کراچی میں ہی رچ بس گئے۔رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پسِ غبار، لالہِ صحرا، ملبوسِ بہار،حکایات، آثار اور قطعات کے چار مجموعے شامل ہیں۔جبکہ مراقبے اور پیرا سائیکالوجی کے موضوعات پربھی ان کی تصانیف موجود ہیں۔ ان کا تعلق برصغیر کے ایک علمی ادبی گھرانے سے تھا۔ ان کے ایک بھائی جون ایلیا بھی صاحب طرز شاعر تھے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے "جوہری تعاون” سے عالمی امن کو خطرہ

پڑھنے کے اگلے

چین: کلوننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے قطبی بھیڑیے کی کامیاب پیدائش

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔