PK Press

دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت امریکہ کی جنگجوانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، چین

 

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ پریس کانفرنس میں امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے سوال کا جواب دیا۔ ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ حال ہی میں آزاد امریکی تحقیقاتی رپورٹر نورٹن نے امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے جاری کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ 1798 سے 2022 تک، امریکہ نے دوسرے ممالک میں 469 فوجی مداخلتیں کیں۔ سرد جنگ کے خاتمے سے اب تک تیس سے زیادہ سالوں میں امریکہ کی جانب سے 251 بار فوجی مداخلتی کارروائیاں کی گئیں ،جو سرد جنگ سے قبل کے 190 سال کی کل تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
اس حوالے سے وانگ وین بین نے کہا کہ امریکہ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ وہ قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کا احترام کرتا ہے اور اسے برقرار رکھے گا۔ تاہم، امریکی کانگریس کی طرف سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار امریکی قوانین کی جنگجو انہ فطرت اور بالادستی کے پس منظر کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ امریکہ کی 240 سالہ تاریخ میں صرف 16 سال بغیر جنگ کے گزرے ہیں، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اندازہ کیا گیا تھا کہ امریکہ اپنی بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں کمی کر دے گا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی فوجی مداخلتوں کی تعدد پہلے سے سات گنا زیادہ ہے ان تمام اعداد و شمار میں امریکی خصوصی آپریشنز اور خفیہ آپریشن وغیرہ شامل نہیں ہیں۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین کی جانب سے تعلیمی شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور تبادلوں کا بھرپور فروغ

پڑھنے کے اگلے

چین عالمی اقتصادی ترقی کے لیے استحکام اور طاقت کا منبع ہے

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔