PK Press

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے جوہری پھیلاؤ خطرناک تخریبی عمل ہے، رپورٹ

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے خاص طور پر امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوز کے تعاون کے معاملے پر بات کی۔اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
گزشتہ سال 15 ستمبر کو امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے دنیا کی مخالفت کے باوجود کم از کم 8 ایٹمی آبدوزیں بنانے میں آسٹریلیا کی مدد کی۔ اس مقصد کے لیے، آسٹریلوی فریق نے فرانس کے ساتھ روایتی طور پر چلنے والی 12 آبدوزوں کا معاہدہ ختم کر دیا جس کی مالیت 90 بلین آسٹریلوی ڈالر تھی۔
گزشتہ ایک سال کے دوران، امریکہ-برطانیہ-آسٹریلیا جوہری آبدوز تعاون کی عالمی برادری کی طرف سے شدید مذمت اور مخالفت کی گئی ہے۔
ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایٹمی آبدوز وں کے ری ایکٹر اس وقت ہتھیاروں کے درجے ایچ ای یو کا استعمال کررہے ہیں جن میں افزودگی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے۔بین الاقوامی ہتھیاروں کے کنٹرول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں ممالک کی جانب سے آسٹریلیا کو منتقل کیا گیا یہ ہتھیاروں کے درجے کے جوہری مواد سے 64 سے 80 تک جوہری ہتھیار وں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس طرز عمل کی وجہ آج کی ہنگامہ خیز دنیا میں ایٹمی پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئتیرس نے یہاں تک خبردار کیا کہ انسانیت اور ایٹمی ہتھیاروں سے دنیا کی تباہی کے درمیان صرف "ایک غلط فہمی” کا فاصلہ ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

” 1931 کے واقعے ” کی یاد کے لیے گھنٹی بجانے کی تقریب کا انعقاد

پڑھنے کے اگلے

دباو قبول نہیں، عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے، شہباز، نواز ملاقات میں اتفاق

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔