PK Press

نہال ہاشمی اور عمران خان کا کیس ایک جیسا ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد(نیوزڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی دوسری سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نہال ہاشمی اور عمران خان کا کیس ایک جیسا ہے۔ نہال ہاشمی نے کسی جج کا نام لیے بغیر دھمکی دی تھی۔
ان کی معافی بھی سپریم کورٹ نے قبول نہیں کی تھی۔ یہ تو اس سے بھی زیادہ سخت زبان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق جانا ہے کوئی اثر انداز نہیں کر سکتا۔ بہت بڑا جرم کیا گیا لیکن احساس نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی توہین عدالت فوجداری نوعیت کی ہے، اظہار رائے کی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
سماعت کے لیے عمران خان اپنے وکیل حامد خان کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے ہیں جبکہ عدالتی معاونین میں منیر اے ملک اور مخدوم علی خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بتائیں مدینہ منورہ میں کیا ہوا؟ وہ incitement تھی، آپ کا جواب ایک justification ہے، سیاسی لیڈر کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، ایک ایک لفظ جو وہ استعمال کرے، ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنا چاہیے، فتح مکہ سے سیکھنا چاہیے، الفاظ کا چنا ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی incitement نہ ہو،
جسٹس جہانگیری نے کہا کہ شہباز گل کیلئے 6 میڈیکل بورڈز بنائے گئے، 14 ڈاکٹرز نے انہیں چیک کیا، کسی نے نہیں کہا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا،
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات اپنے موکل عمران خان کو نہیں بتائی؟
شعیب شاہین ایڈووکیٹ روسٹرم پر آ گئے جیل سپرنٹنڈنٹ کے میڈیکل افسر نے کنفرم کیا تھا کہ جسم پر نشانات تھے،
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے لیے چیزوں کو مشکل نہ بنائیں، آپ کی پوری لیگل ٹیم سماعت کے موقع پر موجود تھی،
اب آپ کا تاثر prevail کرے گا یا جوڈیشل آرڈر؟
عمران خان کے وکیل حامد نے موقف اپنایا کہ میں اس طرف نہیں جا رہا بلکہ کیس ختم کرنے کی بات کر رہا ہوں،
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سوشل میڈیا کی بات نہ کریں، کیا کسی سیاسی جماعت کے کیڈر نے اپنے کارکنوں کو سوشل میڈیا پر غلط بات کرنے سے روکا؟ تمام سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کو پراپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، یہ عدالت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ توہین عدالت تو ہوئی ہے، لیکن عدالت ابھی تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

متحدہ عرب امارات کا سیلاب متاثرین کیلئے ایک کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

پڑھنے کے اگلے

آرمی چیف کے تقرر کا فیصلہ دباو میں آکر نہیں کریں گے، خواجہ آصف

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔