PK Press

بجلی کے بلوں میں حد سے زیادہ اور ناقابل برداشت اضافہ سے انڈسٹری اور کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا ہے ،ایم اکرم فرید

akram farid

akram farid

 

اسلام آباد ( سٹاف رپور ٹر ) ایگزیگٹو ممبر پاکستان سٹیل ری رولنگ ملز ایسوسی ایشن اور سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایم اکرم فرید نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہویے حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے بجلی کے بلوں میں حد سے زیادہ اور ناقابل برداشت اضافہ سے کاروبار اور صنعت تباہ ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ حکومت بجلی کے بلوں میں حد سے زیادہ اور ناقابل برداشت اضافہ ہونے پر کاروباری افراد کے حقیقی تحفظات کو بھی نہیں سن رہی اور یہ بجلی کے بل ناقابل ادائیگی ہیں ۔ ایم اکرم فرید نےمزید کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو فوری طور پر اس مایوس کن صورتحال اور آنے والے دنوں میں ہزاروں کاروباری اداروں کے ممکنہ دیوالیہ پن کا جائزہ لینا چاہیے اور کاروباری برادری کے ساتھ انتہائی اہمیت کے حامل مشاورتی عمل کو فوری شروع کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے پاس 55 سے60 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل ادا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اب بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور فکسڈ چارجز لگانے کا کوئی جواز نہیں بچا ہے کیونکہ اگست 2022سے بیس ٹیرف میں کیا جانے والا 5 روپے کا اضافہ اور 9.91روپے فی یونٹ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ (ایف پی اے) اور فکسڈ چارجز کو فل الفور واپس لیا جا ئے۔یہ سب اضافہ انڈسٹری کی پروڈکٹ کے سیل کے بعد کیا ، جو کسی صورت قابل وصول نہیں ہے اور یہ نقصانات کاروباری طبقے کے لیے ناقابلا برداشت ہیں اور ایسے حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں ہے، بجلی کے نرخوں اورٹیکسوں میں ہوشربا اضافہ سے سٹیل میلٹرز انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی ہے جس سے لاکھوں مزدوروں کا ڈالر کے ریٹ کی فلیکچیوشن کی وجہ سے انڈسٹری بند ہونے اور لاکھوں افراد بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ,آئے روز بجلی کے نرخ بڑھانے، کیوٹی اے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ،مختلف چارجزاور ٹیکسوں کی مد میں بے انتہا اضافہ کی وجہ سے تمام انڈسٹری خصوسی طور پرسٹیل انڈسٹری معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور ان کے جلد بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگربڑھتا ہوا افراط زر، شرح سود، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اورٹیکسوں کی بھرمارجاری رہی توانڈسٹریاں بند کرنے پرمجبورہوجائیں گی اور یہ کاروباردیوالیہ ہوجائیں گے، جس سے لاکھوں مزدور بیروزگار ہوجائیں گے۔میاں اکرم فرید نے مزید کیا کہ سٹیل میلٹرز اور ری رولنگ انڈسٹری بجلی کو خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور موجودہ معاشی تناظر میں یہ انڈسٹری شدید دباو میں آگئی ہے۔ کاروباری ادارے ایل سی کھولنے اورسکریپ درآمد کرنے سے قاصر ہیں۔ شدید مشکلات کی وجہ سے اسلام آباد ،لاہور اور گوجرانوالہ ، حطار کی کچھ سٹیل انڈسٹریاں بند ہو چکی ہیں یا اس انڈسٹری نے اپنا کاروبار ادھا کر لیا ہے ۔ اس کے باوجود بھی ان کے بجلی کے بلوں میں 100 فیصد ایم ڈی آئی چارج ہو رہا ہے جو سراسرناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کے وزیر اعظم ، وزیرخزانہ اس مسلہ کے طرف توجہ دے کر ا انڈسٹری کومکمل تباہی سے بچائیں۔ جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے اور ملکہ معیشت میں اہم حصہ ہے

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

جاپان کی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی جنگ کی فتح کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر سمپوزیم کا انعقاد

پڑھنے کے اگلے

سیلاب متاثرین کیلئے امدادپر جاپان کے شکرگزار ہیں،چودھری سالک

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔