PK Press

اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 18برس بیت گئے

اردو ادب کی معروف شخصیت اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 18برس بیت گئے،

اشفاق احمد کی برسی 7ستمبر کو عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جائے گی ۔

اشفاق احمد اس جہان فانی سے کوچ کرجانے کے اتنے برس بعد ان کی جگہ کوئی نہ لے سکا، جو اپنے قصے، کہانیوں سے علم و حکمت، عقل ودانش اورفکرودانش کے موتی بکھیرسکے۔
اشفاق احمد 22 اگست 1925 کو غیر منقسم ہندوستان کے ضلع ہوشیارپور کے گاوں خان پور میں پیدا ہوئے۔ 1947میں قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہوگئے۔ افسانہ اورڈرامہ نگاری کے ساتھ فلسفی ، ادیب اور دانشور ہونے کے علاوہ بہترین براڈ کاسٹرتھے۔
گورنمٹ کالج لاہورسے اردو ادب میں ماسٹرز کرنے کے بعد ریڈیو آزاد کشمیر سے منسلک ہوئے۔ روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد بھی رہے اور وطن واپسی کے بعد ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا۔ 60 کی دہائی میں ایک فیچر فلم دھوپ اور سائے بھی بنائی۔ ریڈیو پاکستان پر ان کے پروگرام تلقین شاہ اور پی ٹی وی پر ڈراما سیرئیل ایک محبت سو افسانے سے انہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ نوے کی دہائی میں اشفاق احمد نے سماجی و روحانی موضوعات پر گفتگو کا پروگرامزاویہ شروع کیا جس نے ان کی شہرت کو ایک نئی جہت عطا کی۔
1953 میں شائع ہونے والے افسانے گڈریا نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔ اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے ، اجلے پھول، سفردرسفر، کھیل کہانی، طوطا کہانی اور زاویہ جیسے بہترین شاہکار شامل ہیں۔
اشفاق احمد نے بانو قدسیہ سے شادی کی، جو خود بھی معروف مصنفہ اور ادیبہ تھیں۔ اشفاق احمد کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ اشفاق احمد 7 ستمبر 2004 کواپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

پاک فضائیہ کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری

پڑھنے کے اگلے

ظہور الٰہی کی 41ویں برسی 25ستمبر کو عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جائیگی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔