PK Press

لازوال گیتوں کے خالق احمد راہی کو بچھڑے 20 سال ہو گئے

ahmed rahi

احمد راہی کو تمغہ حسن کارکردگی، نگار ایوارڈ اور بولان ایوارڈ سے نوازا گیا
اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر احمد راہی کو ہم سے جدا ہوئے بیس برس بیت گئے ۔

خوب صورت احساسات، جذبات اور تنہائی کے عکاس، معروف فلمی گیت نگار اور

مصنف احمد راہی نے تقسیم ہند کے بعد داتا کی نگری کو اپنا مسکن بنایا۔

احمد راہی 12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا تھا۔

احمد راہی نے کئی دہائیوں پر مشتمل فنی کیرئیر میں متعدد سپرہٹ نغمے تحریر کیے۔

فلم ہیر رانجھا میں احمد راہی کے لکھے گیتوں، ونجھلی والڑیا توں ایہہ گل بھلیں نا اور سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔

احمد راہی نے پنجاب کے ساتھ اردو فلموں کے لیے بھی گانے تحریر کیے۔

فلم پاکیزہ میں ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں گایا گیت تم تو کہتے تھے بہار آئے گی لوٹ آوں گا بہت مشہور ہوا۔

انہوں نے ہیر رانجھا سمیت کئی مقبول زمانہ فلموں کے لیے شہرہ آفاق گیت لکھے۔

احمد راہی کا شعری مجموعہ ترنجن پنجابی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

احمد راہی کو تمغہ حسن کارکردگی، نگار ایوارڈ اور بولان ایوارڈ سے نوازا گیا۔

دلوں کو چھو جانے والے نغمات کا خالق احمد راہی خود تو 2 ستمبر 2002 کو چل بسا لیکن ان کے لکھے گیتوں کا سحر آج بھی برقرار ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق کنٹری رپورٹ جاری کر دی

پڑھنے کے اگلے

فیفا ورلڈ کپ: یواے ای کا شائقین کیلئے ملٹی انٹری ویزا کا اعلان

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔