PK Press

کرپشن کا الزام، میانمار کی سابق سربراہ کو سزا سنا دی گئی

میانمار کی فوجی عدالت نے سابق رہنما آنگ سان سوچی کو کرپشن کے الزام میں مزید 6 سال قید کی سزا سنادی ہے جس سے ان کی ابتدائی 11 سال قید کی سزا بڑھ کر 17 سال ہوگئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آنگ سان سوچی کا دورہ حکومت گزشتہ سال یکم فروری کو فوجی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوا تھا، جس کے بعد سے وہ زیر حراست ہیں، اور ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور انتخابی دھوکا دہی سمیت متعدد مقدمات چلائے گئے، مقامی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 11 سال قید کی سزا سنائی۔
امریکا نے آنگ سانگ سوچی کی اس سزا کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کی توہین قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر منصفانہ طور پر حراست میں لیے گئے تمام جمہوری طور پر منتخب عہدیداروں سمیت آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کرے۔
رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کی وجہ سے ہوئی۔ میانمار کی فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

مریم نواز نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کر دیا

پڑھنے کے اگلے

چوہدری شجاعت آئینی صدر ، پارٹی کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے، شافع حسین

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔