PK Press

چین، پاکستان سمیت 30 اسلامی ممالک کے سفیروں کا دورہ سنکیا نگ

دورہ سنکیانگ نے وفد میں شامل سفیروں پر

گہرے تاثرات چھوڑے ہیں،چینی میڈ یا
بیجنگ (نیوزڈیسک)پاکستان، سعودی عرب، الجزائر، عراق سمیت

چین میں تعینات 30 اسلامی ممالک کے سفیروں اور سفارت کاروں نے سنکیانگ کا دورہ کیا ہے۔

بد ھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق دورہ سنکیانگ نے وفد میں شامل سفیروں پر گہرے تاثرات چھوڑے ہیں ۔

چین میں الجزائر کے سفیر حسن ربیحی نے کہا ” یہاں کا پھل بہت میٹھا ہے۔

آپ کی زندگی یہاں کے پھلوں کی مانند میٹھی ہے ۔”

یہ آج سنکیانگ میں بسنے والی تمام قومیتوں کے لوگوں کی زندگی کا حقیقی عکس ہے،

اور یہ سنکیانگ کا دورہ کرنے والے اُن تمام ملکی اور غیر ملکی دوستوں کے حقیقی جذبات کی ترجمانی ہے کہ

وہ سنکیانگ کی آئندہ ترقی کے حوالے سے کس قدر پراعتماد ہیں ۔

سنکیانگ چین کے دور افتادہ شمال مغربی علاقے میں واقع ہے۔

ماضی میں اس کا شمار چین کے کم ترقی یافتہ علاقے میں ہوا کرتا تھا،

لیکن آج جو ترقیاتی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں

وہ بڑی محنت کا نتیجہ ہیں۔ 2022 کی پہلی ششماہی میں،

سنکیانگ کی جی ڈی پی کی

شرح نمو 4.9 فیصد تک جا پہنچی ہے ، جو ملک کے تمام صوبوں

اور شہروں میں تیسرے نمبر پر ہے، اور اس کی درآمدات اور برآمدات کی شرح نمو 37 فیصد تک پہنچ چکی ہے ،

جو کہ ملک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اقتصادی ترقی نے سماجی استحکام اور بہتر انسانی حقوق کے تحفظ سمیت لوگوں کے لیے

ایک خوشگوار زندگی لائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سنکیانگ کی ترقی نے دنیا کو مشترکہ ترقی کے حقیقی مفہوم سے روشناس کروایا ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ واضح کر چکے ہیں کہ

"سب کی مشترکہ ترقی ہی اصل ترقی ہے۔”

چین کے ایک جامع معتدل خوشحال معاشرے کی

تعمیر کے سفر میں، ترقی یافتہ صوبوں اور شہروں نے نسبتاً غریب

اور پسماندہ علاقوں کی مشترکہ ترقی کے لیے ہر

ممکنہ مدد فراہم کی ہے ۔ سنکیانگ کی ترقی کو چین کے

دیگر حصوں کی معاونت اور کوششوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

چین کے 19 صوبوں اور شہروں نے

سنکیانگ کی 80 سے زیادہ کاؤنٹیوں کی مدد کے لیے

ایک "پُل” تعمیر کیا ہے۔

ہر مددگار صوبے اور شہر نے اپنی ترجیحات اور مقامی وسائل کی خصوصیات کے مطابق ٹھوس

ترقیاتی منصوبے ترتیب دیے ۔

انہوں نے ہنر مند افراد ، ٹیکنالوجی، گورننس ،

فنڈز اور دیگر پہلوؤں میں سرمایہ کاری کو بڑھایا ہے ،

تاکہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں مضبوط محرک پیدا کیا جا سکے۔

اس کے نتیجے میں سنکیانگ کی ترقی کا خاکہ ایک حقیقت بن چکا ہے، اور پورے ملک کی بے لوث مدد سے ایک ایسا خوبصورت سنکیانگ دنیا کے سامنے آیا ہے جو خوشحالی سے بھرپور ہے ،تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور جہاں لوگ سکون اور اطمینان کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ملک کے تمام حصوں کی مدد سے سنکیانگ کو ایک دور افتادہ علاقے سے آج ایک کھلے پن کے مرکز میں ڈھال دیا گیا ہے، سنکیانگ نے "سلک روڈ اکنامک بیلٹ” کے تحت جغرافیائی ثمرات اور بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن کے فوائد کو اجاگر کیا ہے جہاں شمال، وسط اور جنوب کے تین بڑے چینلز آپس میں ملتے ہیں۔ چائنا۔یورپ ریلوے ایکسپریس، جسے "اسٹیل کیمل ٹیم” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے آج ایشیا اور یورپ کے 19 ممالک کے 26 شہر وں کے درمیان فعال ہے ۔ چائنا ۔یورپ ریلوے ایکسپریس "بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک اور خطوں کے درمیان باہمی روابط کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، ترقی کی وسیع صلاحیت اور نمایاں امکانات کو اجاگر کر رہی ہے اور ہر کسی کو سنکیانگ کی پائیدار ترقی کا روشن مستقبل دکھا رہی ہے ۔ نئے عہد میں سنکیانگ کی ترقی کے لیے صدر شی جن پھنگ کی قیادت اور مرکزی حکومت کی حکمت عملی کی رہنمائی اور مشترکہ ترقی کے کامیاب عمل نے، مختلف شعبوں میں سنکیانگ کی ترقیاتی کامیابیوں کو دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔ سنکیانگ ایک کشادہ علاقہ ہے۔ اگر آپ سنکیانگ کے بارے میں جاننے اور سنکیانگ کی خوبصورتی کو دیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ کے پاس وقت اور موقع ہے، تو میرا مشورہ ہے کہ آپ سنکیانگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے جائیں۔ آپ یقینی طور پر اپنی زندگی کا ایک یادگار سفر کریں گے اور ایک ایسا سنکیانگ دیکھیں گے جو مغربی میڈیا کے "جھوٹ” سے بالکل مختلف ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین کی معیشت عالمی معیشت کا انجن بن گئی ہے، عالمی سروے کے نتائج

پڑھنے کے اگلے

ممنوعہ فنڈنگ: پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔