PK Press

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ پر ہارٹ سرجری بند، مریض سرکاری ہسپتال جانے پر مجبور

heart surgery

خیبر پختونخوا میں نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ کے تحت دل کے امراض کے علاج کی بندش کی وجہ سے مریض اب سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں آپریشن کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق صحت سہولت پروگرام کے تحت ملنے والی فیس کم ہونے کی وجہ سے سینئرہارٹ سرجنز نے بھی صحت کارڈ پرعلاج کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے عارضہ قلب میں مبتلا مریضوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
صحت کارڈ پر علاج نہ کرنے والے خیبرپختونخوا کے بیشتر ماہرین امراض قلب پرائیویٹ ہسپتالوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا ایک مطالبہ سامنے آیا ہے جس پر بات چیت جاری ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو فیس بڑھا دیں گے۔
’صحت کارڈ پر نجی ہسپتالوں میں عام شہری کو طبی سہولت فراہم کرنے کا مقصد امیر اور غریب کے فرق کو ختم کرنا ہے۔ صحت کارڈ پر شہریوں کو علاج فراہم کرنا اب قانون کا حصہ ہے اس لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ جہاں ضرورت ہوگی وہاں فیس بڑھائی جائے گی۔‘
وزیر صحت نے کہا کہ جو ڈاکٹر نجی ہسپتالوں میں صحت کارڈ پر علاج نہیں کرنا چاہتے وہ بے شک نہ کریں مگر سروسز کی بلاتعطل فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’گذشتہ سال 8 لاکھ سے زائد شہریوں نے صحت کارڈ کے ذریعے مختلف امراض کے علاج کی مفت سہولت حاصل کی تھی۔ جبکہ اوپن ہارٹ سرجری ایک مہنگا آپریشن ہے لیکن صحت کارڈ کے تحت کی جا رہی ہیں۔‘

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

خانہ کعبہ کے اردگرد سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں

پڑھنے کے اگلے

واٹس ایپ میں گروپس میسجزسے پریشان صارفین کے لئے نیا فیچر آگیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔