PK Press

والدین مجھے اور ظہیر کو قبول کر لیں،دعا زہرہ کی خواہش

والدین کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے والی

کم عمر دعا زہرہ نے

شوہر ظہیر احمد کے ہمراہ ایک ٹی وی انٹرویو میں

والدہ کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ میں

ہونے والی ملاقات کی روداد سنا دی۔سوشل میڈیا پر

دعا زہرا اور ظہیر احمد کا ایک

ویڈیو انٹرویو وائرل ہو رہا ہے جس میں دعا اور ظہیر کی جانب سے

کئی انکشافات کئے گئے ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں

والدین سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے

دعا کا کہنا تھا کہ سماعت کے موقع پر والدہ سے یہ نہیں کہا کہ

میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، والدہ نے جج کو جھوٹ بولا ہے۔

دعا زہرہ نے بتایا کہ والدین مجھے ملاقات کے دوران کہتے رہے

کہ جج سے کہو کہ آپ ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو لیکن میں نے

ان سے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتی۔دعا کا کہنا تھا کہ

میں نے والدہ سے کہا کہ اگر آپ چاہتی ہیں تو صلح کر لیں

تاہم والدہ کا کہنا تھا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے،

 

بس آپ جج سے وہ کہو جو ہم کہہ رہے ہیں جس پر

میں نے انکار کر دیا لیکن والدین نے جج سے جھوٹ بولا کہ

میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

نشہ آور اشیا کے حوالے سے

دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ مجھے کسی نے نشہ نہیں دیا،

نہ بلیک میل

کیا اور نہ ہی زبردستی کوئی بیان دلوایا گیا،

میں نے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کا فیصلہ کیا۔

انٹرویو کے دوران عمر سے متعلق کئے گئے سوال پر دعا کا کہنا تھا

کہ والدین نے جو عمر برتھ سرٹیفکیٹ میں

لکھوائی وہ کم تھی، میری اصل عمر 17 سال ہے لیکن

میرے والدین نے میری عمر دو تین سال بڑھوا کر لکھوائی ہے،

جو عمر میری میڈیکل ٹیسٹ میں آئی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔

ساتھ ہی دعا زہرہ نے والدین سے درخواست بھی کی کہ

ہم نے شادی اسلام کے مطابق کی، مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی

جس پر معافی مانگتی ہوں لیکن درخواست کرتی ہوں

کہ والدین دل بڑا کر کے مجھے اور ظہیر کو قبول کر لیں،

دعا کا مزید کہنا تھا کہ ظہیر کے کسی گینگ سے ہونے والی

افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، ان کی فیملی بہت اچھی ہے

اور مجھے بہت خوش رکھا ہوا ہے۔

دعا کہ شوہر ظہیر احمد نے کہا کہ میں نے پنجاب سے

ایف ایس سی پری میڈیکل کیا ہے

اور میں اس کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت کا کام بھی کرتا ہوں،

سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی

باتوں کو ہم سب دیکھ رہے تھے

اور ہم ان چیزوں کو دیکھ کر ہنستے تھے

کہ ایسا کچھ نہیں ہے

جیسا دکھایا اور بتایا جا رہا ہے۔دعا زہرہ سے کیسے بات ہوئی

اس حوالے سے ظہیر نے بتایا کہ شروعات میں

ہم ’پب جی‘ پر ملے اس کے بعد بات چیت شروع ہو گئی

لیکن دعا کے گھر والوں نے اس کے گیم کھیلنے پر پابندی لگادی

اور ہم 3 سال 4 ماہ سے ریلیشن شپ میں تھے،

پھر ہم نے الگ گیمز میں بات چیت شروع کر دی

اور پھر شادی کا فیصلہ کیا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

مائیکرو سافٹ نے ‘انٹرنیٹ ایکسپلورر’ کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا

پڑھنے کے اگلے

بااختیار افراد نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم کرکے فائدہ اٹھایا، سپریم کورٹ

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔