PK Press

چین کی جانب سے تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی شدید مخالفت

 

امر یکی اقدام آبنائے تائیوان کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے، وزارت د فا ع
بیجنگ ()
چین کی وزارت دفاع کے ترجمان تان کیفائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کے علاقے تائیوان کو ہتھیاروں اور فوجی تکنیکی مدد کی فروخت ون چائنا پالیسی اور  چین۔امریکہ تین مشترکہ اعلامیے کی سنگین خلاف ورزی ہے،بالخصوص سترہ اگست کے اعلامیہ کی روشنی میں یہ چین کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت ہے۔چینی میڈ یا کے مطا بق جمعہ کے روز ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام چین کی خودمختاری اور سلامتی کے مفادات کو مجروح کرتا ہے اور آبنائے تائیوان کے امن اور استحکام کو سنگین طور پر خطرے میں ڈال رہا ہے۔ چین اس پر  شدید عدم اطمینان اور سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
تائیوان چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ چین کا اتحاد تاریخ کا ناگزیر رجحان ہے۔ چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے مذکورہ منصوبے کو فوری طور پر واپس لے، تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اور امریکہ اور تائیوان کے درمیان فوجی تعلقات کا سلسلہ بند کرے، اور "تائیوان کی علیحدگی” کے حوالے سے علیحدگی پسند قوتوں کو غلط اشارے بھیجنا بند کرے، تاکہ دونوں ممالک اور دونوں افواج کے درمیان تعلقات کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی حکومت نے 8 جون کو اعلان کیا کہ اس نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی ہے، اور تائیوان کو 120 ملین ڈالر مالیت کے جنگی جہازوں کے اسپیئر پارٹس اور متعلقہ تکنیکی مدد فراہم کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔

آسٹریلوی طیارے نے چینی فضا ئی حدود کی خلاف ورزی کی، چین

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

روسی قونصل جنرل نے عمران خان کے سستا تیل بیانیے سے ہوا نکال دی

پڑھنے کے اگلے

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کو جوہری آبدوز تعاون کی عالمی برادری کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔