PK Press

امریکہ عالمی امن و ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح معنوں میں ادا کرے، چین

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے یومیہ میڈیا بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن کے اس دعوے کے جواب میں کہ امریکہ ایک "غیر کامل لیکن آزاد” آرڈر تشکیل دینا چاہتا ہے ، کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ جو چاہے کر سکتا ہے جبکہ دوسرے ممالک صرف وہی کر سکتے ہیں جو امریکہ کہے یا چاہے ۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ترجمان نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ من مانی ، غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر دوسرے خودمختار ممالک پر پابندیاں عائد سکتا ہے جبکہ دوسرے ممالک صرف دستبردار ہو سکتے ہیں؟ ترجمان نے کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک کی جائز خودمختاری، سلامتی اور ترقی کے حقوق پر حملہ کر سکتا ہے، انہیں دبا سکتا ہے اور قبضہ کر سکتا ہے، جبکہ دوسرے ممالک صرف انتظار کر سکتے ہیں اور کبھی اپنا دفاع نہیں کر سکتے؟ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ آزادی نہیں بلکہ تسلط اور غنڈہ گردی ہے۔
چاؤ لی جیان نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی بھی امریکہ سے یہ "غیر کامل لیکن آزاد”آرڈر نہیں چاہتا ہے ۔دنیا مساوی حقوق ، اشتراک، مشترکہ سلامتی، مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی خواہاں ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ امریکہ خود پر غور کرے اور عالمی امن اور ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح معنوں میں ادا کرے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین کے دستخط کردہ آزاد تجارتی معاہدوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہو گئی

پڑھنے کے اگلے

پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات کے قیام کو 75 برس مکمل

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔