PK Press

سنجے دت جیل میں کیا کام کرتے تھے اور کتنے پیسے کمائے؟

sanjay dutt

سنجے دت کا شمار بالی وڈ کے ان چند اداکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی فلموں سے بہت نام کمایا لیکن وہ ہمیشہ تنازعات میں گھرے رہے۔اپنے زمانے کے معروف اداکار اور سیاست دان سنیل دت اور اداکارہ نرگس کے بیٹے سنجے دت نے بالی وڈ کو کئی بلاک بسٹر فلمیں دیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ سال 1993 کے ممبئی دھماکوں کے کیس کے معاملے میں جیل میں بھی گزارے۔اب سنجے دت نے فلمی اور حقیقی دونوں زندگی میں ایک نئی شروعات کی ہے۔ وہ یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ بلاک بسٹر ثابت ہونے والی فلم کے جی ایف-2 میں نظر آئے۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) سے سنجے دت نے اپنے فلمی سفر، خاندان اور جیل جانے کے بارے میں کھل کر بات کی۔1993 میں 12 مارچ کو ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس معاملے میں سنجے دت کا نام بھی آیا تھا۔ سنجے دت کو بعد میں ابو سالم اور ریاض صدیقی سے غیر قانونی بندوقیں حاصل کرنے، اپنے پاس رکھنے اور پھر انھیں تباہ کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔2013 میں سپریم کورٹ نے ٹاڈا عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور سنجے دت کو پانچ سال قید کی سزا سنائی اور سنجے دت نے یہ سال جیل میں گزارے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اتنے مشکل وقت میں کبھی آپ کی ہمت پست نہیں ہوئی تو سنجے دت نے کہا کہ کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ اپنے حوصلے کھو بیٹھے ہوں۔اس دوران سنجے دت نے جیل میں حوالدار سے ملنے والے مشورے کا بھی ذکر کیا۔سنجے نے کہا کہ جب میں جیل میں تھا تو ایک کانسٹیبل نے مجھے سے کہا کہ سنجو بابا اگر آپ امید کرنا چھوڑ دیں گے تو جیل کا وقت چٹکیوں میں گزر جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں امید کیسے چھوڑ سکتا ہوں، اس نے کہا کوشش کر لو۔ میں نے اس کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا اور کوشش کی۔ مجھے امید چھوڑنے میں دو تین ہفتے لگے، میں ٹھیک کہہ رہا ہوں، جب میں نے امید چھوڑ دی تو وقت تیزی سے گزرنے لگا جیسے اڑ رہا ہو۔

 

 

جیل میں مختلف کام کرکے پانچ چھ ہزار روپے کمائے

 

سنجے دت کا کہنا ہے کہ انھوں نے جیل میں بیگ بنانے، ریڈیو جاکی کے طور پر کام کرنے جیسے مختلف کام کرکے پانچ چھ ہزار روپے کمائے۔ سنجے دت نے کہا کہ جیل میں پانچ چھ ہزار روپے کمائے۔ میں نے انھیں سنبھال کر رکھا اور اپنی بیوی کو دے دیا ہے۔ تھیلے بنانا، باغ میں کام کرنا یا ریڈیو کا کام کرنا سب سیکھنے کے کام ہیں اور وہ وقت سیکھنے کا بھی وقت تھا۔ایک سوال کے جواب میں‘انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ مجھے اچھا لگتا ہے اگر سلمان، شاہ رخ، اجے، سنیل یا اکشے کی کوئی فلم چلتی ہے۔ ہم ایک انڈسٹری، ایک خاندان ہیں۔ ہم لوگوں کے درمیان ایک حیرت انگیز رشتہ ہے۔‘سلمان خان کے ساتھ اپنے پر مسرت لمحات کو یاد کرتے ہوئے سنجے دت نے ایک واقعہ سنایا۔ انھوں نے کہا میں ایک زمانے میں ہارلی والے بوٹ پہنا کرتا تھا۔ ہارلی پر پٹی لگی ہوتی تھی، سلمان نے اچانک جوتے کی بیلٹ کاٹ دی۔ بعد میں میں نے اس سے کہا کہ اب دوسری پٹی بھی کاٹ دو، کہنے کا مطلب ہے کہ ہمارے درمیان کچھ ایسا ہی مضبوط رشتہ ہے۔سنجے دت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیرئیر سے مطمئن ہیں اور اچھی اور بری دونوں فلموں میں کام کر چکے ہیں اور انھیں ابھی بہت کام کرنا ہے۔سنجے دت نے کہا کہ انھیں گھر والوں سے بہت پیار ملا لیکن ایک بات انھیں پریشان کرتی ہے کہ ان کی والدہ انھیں بہت پہلے چھوڑ کر چلی گئیں۔ سنجے کہتے ہیں کہ میں اپنی ماں سے بہت پیار کرتا تھا، اپنے والد سے بھی۔ جب میری ماں چلی گئیں تو ہم کافی چھوٹے تھے۔ یہ بہت بری بات ہے کہ ہم ان کے سامنے بڑے نہیں ہوئے اور نہ ہی انھوں نے اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھا۔ میرے والد نے بھی میرے بچے کو نہیں دیکھا۔ برا بھی لگتا ہے اور یاد ہمیشہ آتی ہے۔ انھوں نے ہمیں جو اقدار سکھائے وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے۔سنجے کا کہنا ہے کہ ان کے والد ان کے لیے چٹان کی طرح تھے، جب وہ نہیں رہے تو ایسا لگنے لگا جیسے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہو۔ کچھ سال تو بہت مشکل بیتے۔ سنجے دت اپنی اہلیہ مانیتا کو خاندان کا ایک مضبوط ستون بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں بھی مانیتا نے پورے گھر کو سنبھال رکھا ہے۔

سنجے دت کی نئی فلم کی پہلی جھلک سامنے آگئی

https://pkpress.net/2022/02/23/toolsidas-junior/

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

افغانستان امن و استحکام قائم کرنے کے اہم دور سے گزر رہا ہے، چین

پڑھنے کے اگلے

پاکستان اور ترکی کو باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا،وزیراعظم

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔