PK Press

اشتعال انگیز تقریر کیس میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور

ali wazir

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )اشتعال انگیز اور ملک مخالف تقریر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق اشتعال انگیز اور ملک مخالف تقریر سے متعلق کیس کی سماعت آج بدھ 11 مئی کو سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایم این اے علی وزیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

 

 

سماعت کے دوران عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ محسن داوڑ، منظور پشتین اور ڈاکٹر جمیل کو گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مقدمے میں نامزد تین ملزمان کی ضمانت کو بھی چیلنج نہیں کیا گیا علی وزیر کی ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی۔پولیس نے علی وزیر پر 6 دسمبر 2020 کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں ریلی سے خطاب کے دوران عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور سیکیورٹی فورسز پر توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزام پر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا تھا۔کراچی پولیس نے متعلقہ ایس ایچ او کے ذریعے ریاست کی مدعیت میں ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 120 بی، 153 اے، 505 (2)، 188 اور 34 شامل کی گئی تھیں۔

 

بعد ازاں رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 16 دسمبر 2020 کو مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ صوبائی پولیس نے کہا تھا کہ علی وزیر کے خلاف ملک مخالف تقریر پر کراچی میں مقدمہ درج ہوا تھا اور سندھ پولیس نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کو ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد 19 دسمبر 2020 کو انہیں بذریعہ طیارہ کراچی لایا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 20 دسمبر 2020 کو علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر 3 رہنماؤں کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔علی وزیر 31 دسمبر 2021 سے کراچی کی مرکزی جیل میں قید ہیں، انہیں اشتعال انگیز تقاریر کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق علی وزیر کو پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس ریلی میں انہوں نے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کے نعرے لگائے تھے، عدالت نے قومی اسمبلی کے رکن کو 4 مارچ تک جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔عدالت کی ہدایت پر پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ علی وزیر کو پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی ہدایات پر ریلی نکالنے پر گرفتار کیا گیا۔اس سے قبل 30 نومبر 2021 کو سپریم نے رکن قومی اسمبلی کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی تھی۔ پی ٹی ایم کی جانب سے رواں سال 13 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر ان کے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف دھرنا بھی دیا گیا تھا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت ان کے ایم این اے کے خلاف مقدمہ ختم کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کرے۔

https://pkpress.net/category/%d9%82%d9%88%d9%85%db%8c/page/3/

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار،ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پڑھنے کے اگلے

عالیہ بھٹ کی فلم "گنگو بائی” نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔