PK Press

نیک نیتی کے باوجود تنقید برداشت کرتے ہیں ، چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ جب آپ سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں تو کچھ لوگ آپ کے حمایتی اور کچھ مخالف ہوتے ہیں ، ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ نیک نیتی کے باوجود تنقید کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔بدھ کو سپریم کورٹ میں لا کالجز کی تعداد اور قانون کی معیاری تعلیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

 

 

سپریم کورٹ نے لا کالجز قائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کار سے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم دے دیا۔ عدالت نے وزارتِ قانون اور وفاقی حکومت کو قائمہ کمیٹی کے قیام میں معاونت کا حکم بھی دیا۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ قائمہ کمیٹی ملک میں لا کالجز کے معیار سے متعلق قوائد و ضوابط اور طریقہ کار وضع کرے۔، قائمہ کمیٹی میں ایکسپرٹ اور ماہر وکلا شامل کیے جائیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کمروں میں بنے لا کالجز نہیں چلیں گے۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے کہا کہ وزیر قانون سے میں خود مشاورت کر لوں گا۔

ملک کو میچور جمہوریت کی طرف لیکر جانا ہوگا،چیف جسٹس پاکستان

https://pkpress.net/2022/04/22/cjp-3/

 

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ موجودہ وزیر قانون خود پاکستان بار کا حصہ ہیں غیر جانبداری سے کمیٹی کا قیام کیسے کریں گے؟۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب آپ سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں تو کچھ لوگ آپ کے حمایتی اور کچھ مخالف ہوتے ہیں ، ہم سے بہتر کون جانتا ہے کہ نیک نیتی کے باوجود تنقید کو کیسے برداشت کرتے ہیں۔صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ پورے معاشرے میں تنقید ہی ہو رہی ہے، آپ نے صبر سے تکلیف برداشت کی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی بات نہیں، آخر سچائی ہی غالب آتی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں وکیل ظفر اقبال کلانوری سمیت وکلا نے لا کالجز کی تعداد اور غیر معیاری تعلیم سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

حکومت نے عید الفطر کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا

پڑھنے کے اگلے

آنگ سان سوچی کو کرپشن کے جرم میں پانچ برس کی سزا سنا دی گئی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔