PK Press

عمران خان کو چھپکلی سے ڈر لگتا ہے، آصف زرداری کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین وسابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو وزیراعظم بننے کی آفر میں نے کی تھی ،ہماری ملاقات انتہائی خفیہ تھی ،ہمیں عمران خان سے نہیں اس کی سوچ سے مسئلہ تھا،حکومت میں پیپلزپارٹی کی شمولیت کے حوالے سے ابھی بات چیت چل رہی ہے ،ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہوں ،کسی کو خریدا نہیں ، پرانے تعلقات کام آئے ، نیب کے اختیارات محدود کریں گے ،انتخاباتی اصلاحات سرفہرست ایجنڈا ہے ، پی ٹی آئی کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ استعفوں کی بجائے پارلیمنٹ میں آئیں ،سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

 

 

نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں آصف زرداری نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان مجھے نمبر ون ٹارگٹ اس لئے کہتے رہے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ جو لوگ ہیں زیادہ تر ہماری نرسری سے گئے ہیں ، بابر اعوان وغیرہ کو میری سیاسی صلاحیت کا ادراک تھا ،انہوں نے کہا ہوگا کہ یہ آپ کو گرا دے گا اس کا خیال کرنا ،میں نے 2007میں بھی دوستوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنا لی تھی۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ایک برنس مین ہیں جنہوں نے عمران خان کو فنانس کیا ،لندن میں کیس چل رہا ہے اور اب امریکہ حوالگی کی بات چل رہی ہے ، یہ کیس اب امریکہ میں چلے گا۔اس سوال پر کہ کیا یہ اتحاد آگے چلے گا ،آصف زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آگے بڑھ کر دیا ہے لیا نہیں، ہم سب چیزوں کو ساتھ رکھتے ہیں ، اتحاد میں جتنے بھی دوست آئے ہیں ان کے ساتھ ہمارے معاہدے ہوئے اور میں ان کا ضامن ہوں۔پرویز الٰہی سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی سیاست میں ہم سے تھوڑے سینئر ہیں ان کےلئے کوششیں کرتا رہا لیکن پھر انہیں کسی نے گمراہ کیا، دراصل جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو مسئلہ ہوتا ہے ۔پرویز الٰہی کو اب بھی کہتے ہیں کہ وہ سیاسی دائرے میں واپس آجائیں ۔آصف زرداری نے کہا کہ شہبازشریف کو میں نے ہی وزیراعظم بننے کےلئے راضی کیا اور پھر نامزد کیا ، جب میں نے انہیں آفر کی تو یہ کہا کہ میرے پاس ستر ووٹ ہیں ،

 

وزیر اعظم شہباز شریف کیلئے ایوانِ صدر میں شیروانی کون لایا تھا؟

https://pkpress.net/2022/04/12/pmshehbazsharif/

 

میرا ماضی ایسا ہے کہ انہیں پتا تھا کہ جو وعدہ کیا پورا کیا ، جب میں نے شہبازشریف سے وزیراعظم بننے کےلئے کہا تو انہوں نے کہا کہ میں نوازشریف اور دوسرے دوستوں سے اس بارے میں بات کروں گا ، یہ ہماری خفیہ ملاقات تھی ۔آصف زردای نے کہا کہ عمران خان کے جتنے مشیر تھے وہ نہ تو سیاسی تھے اور نہ ہی سیاست کو سمجھتے تھے ،ہمارا مسئلہ عمران خان کی ذات سے نہیں ان کی سوچ سے تھا۔پیپلزپارٹی کی حکومت میں شمولیت سے متعلق سابق صدر نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت چل رہی ہے ، ہمارے چیئرمین اپنی والدہ کی طرح سی ای سی کو ساھ لے کر چلتے ہیں ، سی ای سی والے جو کہیں گے ویسے ہی ہوگا۔آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کو انتخابات میں دوتہائی اکثریت کرنے کے حوالے سے غلط فہمی ہے ، آج کے پاکستان میں یہ بہت مشکل ہے ، انہوں نے پہلے بھی کلین سویپ نہیں کیا تھا، جہانگیر ترین جہاز بھر بھر کے لوگ لاتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ بہت فعال ہے اور آج کل یہ بہت خطرناک ہوگیا ہے ، سب کو اپنی عزت کا ڈر ہے ،ان لوگوں کو ذؐمہ داری سکھائی جانی چاہیے،اگر میری پارٹی کے لوگ کوئی چھوٹی بات کریں گے تو میں ان کو سمجھائوں گا ، میرے لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری تو میں نے ان سے کہا کہ یہ نہ کہیں بلکہ یہ کہیں ایک زرداری سب سے یاری ۔انسان سب پہ بھاری نہیں ہوسکتا ۔

 

 

 

اس سوال پر کہ موجودہ حکومت کتنا عرصہ چلے گی آصف زرداری نے کہا کہ سب مل کر سوچیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کب الیکشن کی طرف جانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریٖڈنگ کے میں بھی خلاف ہوں یہ نہیں ہونی چاہیے ،جن لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا ان سے مستقبل کے اتحاد کی بات ہوئی یا پھر پارٹی ٹکٹ کی ، کیا بگٹیوں ،مینگل یا مگسی کو کوئی خرید سکتا ہے؟ دراصل میرے پرانے تعلقات کام آئے ہیں ۔تحریک انصاف کے استعفوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کو سمجھانا چاہیے کہ وہ واپس آجائیں ،سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کریں ، جتنی مخالفت یا اپوزیشن کرنی ہے پارلیمنٹ میں آکر کریں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے حکومت چلانے کی ناکام کوشش کرے رہے اب سڑکوں پر ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں یہ جمہوریت کا حسن ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے جیل میں ڈالے جانے کا افسوس نہیں لیکن میری بہن کو جو جیل بھیجا وہ ناجائز تھا اس کے ساتھ پراپیگنڈہ کیا گیا تھا اور کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، عمران خان کے پاس پراپیگنڈہ مشنری مضبوط ہے ،اس نے باہر سے لوگوں کی خدمات حاصل کیں ،گولڈ سمتھ فیملی کی بھی اس کو پوری حمایت ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ نیب نے احساس ذمہ داری لانے کی ضرورت ہے کہ پہلے یہ کیس پڑھیں اور دیکھیں کہ واقعہ کیس ہے ،یہ تو بغیر سنے ،پڑھے بکتر بند گاڑی میں ڈال کر اڈیالہ بجھوا دیتے ہیں۔بزنس کمیونٹی کے حوالے سے نیب کے کردار کو ختم کرنا ہے ،کاروباری برادری خوفزدہ ہے ،نیب کے اختیارات محدود کرنے ہیں اس کے علاوہ انتخابی اصلاحات ہمارا پہلا ایجنڈا ہے ۔اس سوال پر کہ کیا ان کا اگلا ہدف صدر یا چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا ہے؟ آصف زرداری نے کہا کہ اگلا ہدف پاکستان ہے ، پاکستان کو بنانے کےلئے جو بھی اقدامات لینے پڑے لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر عارف علوی شہباز شریف سے حلف لے لیتے تو کیا فرق پڑتا؟ میں نے بھی تو نوازشریف سے حلف لیا تھا، عارف علوی نے عمران خان کو خوش کرنے کےلئے یہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے جس سے نمٹنا ہے ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو چھپکلی سے ڈر لگتا ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کو چھپکلی سے ڈر لگتا ہے، میں تھانوں میں تین تین ماہ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ’عمران خان صرف 8 گھنٹے کیلئے تھانے گیا، اسے تو چھپکلی سے بھی ڈر لگتا ہے، تھانے کے ماحول میں عمران خان کو ڈال دیا تو یہ گورا صاحب پریشان ہو جائے گا۔‘

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

چین سی پیک کی تعمیر بارے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان کا معترف

پڑھنے کے اگلے

عمران خان ن لیگ کا ہاضمہ خراب کرکے ہی دم لیں گے،پرویز الٰہی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔