PK Press

اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر پاکستان کو بلوچ طلبہ سے ملاقات کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر پاکستان اور سیکرٹری داخلہ کو بلوچ طلبہ سے ملاقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان کے سیکرٹری آئندہ سماعت پر رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قائدِ اعظم یونیورسٹی کے بلوچ طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ بلوچ طلبہ کا تحفظ یقینی بنائیں، ان کا اپنے صوبے میں جانے پر ہراسگی یا اغوا کا خدشہ دور کریں۔

 

 

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر پاکستان کی سیکرٹری داخلہ سے بلوچ طلبہ سے متعلق ملاقات ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ بلوچ طلبہ کی صدر پاکستان سے ملاقات کرائیں، جو طالبعلم لاپتہ ہوا تھا وہ اتنا عرصہ کہاں رہا، ایک دن بھی کوئی بچہ غائب کیوں ہو۔وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ بچے بلوچستان میں اپنے گھر نہیں جا رہے کہ وہاں سے اٹھا لیے جائیں گے۔

 

https://pkpress.net/2022/04/03/arif-alvi/

بلوچ طلبہ

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جو بلوچ طلبہ کے ساتھ ہو رہا ہے اسکا کوئی جواز نہیں ہے، موجودہ صورتحال جو بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا، یہ عدالت تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے اور اسے ہلکا لیا جاتا ہے، وزیر داخلہ بلوچ طلبہ سے کہتے ہیں میں ایک دن کا مہمان ہوں، یہ کس طرح کا رویہ ہے؟ اس طرح تو ملک نہیں چل سکتے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ اس عدالت کے پسندیدہ طلبہ ہیں، ان کے تمام تحفظات دور کیے جانے چاہئیں لیکن نہیں ہو رہے، طلبہ کو اپنے صوبے میں جانے پر کوئی خوف کیوں ہو، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت ان سے ملتی نہیں ہے، یہ عدالت صدر پاکستان سے امید رکھتی ہے کہ وہ بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، صدر اسلام آباد کی تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کریں کہ بچوں کی نسلی پروفائلنگ نہ ہو۔عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔

https://www.bolnews.com/urdu/pakistan/

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

خاتون اول کی قریبی دوست فرح خان نے خاموشی توڑ دی

پڑھنے کے اگلے

امریکا نے روسی جہاز ساز اور ہیرو ں کی کان کنی کرنے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔