PK Press

استعفیٰ نہیں دوںگا، تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کا مقابلہ کروں گا،وزیراعظم کا قوم سے خطاب

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن مرحلے میں ہے اور ہمارے پاس اس وقت صرف دو راستے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے قوم سے اہم بات کرنی ہے ملک کے مستقبل کے لیے، میرا یہ خطاب براہ راست ہے جس کا مقصد قوم کو اعتماد میں لینا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بہت بڑے سیاست دان اور وکیل تھے، زیادہ تر لوگ کو سیاست سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، اللہ نے مجھے سب کچھ دیا، میری زندگی میں ضرورت سے زائد پیسہ تھا میرے پاس سب کچھ تھا لیکن میں پھر بھی سیاست میں آیا۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے والدین غلامی کے دور میں پیدا ہوئے، وہ تحریک پاکستان میں شریک تھے اور مجھے احساس دلاتے تھے کہ تم آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو، خودداری آزاد قوم کی پہچان ہوتی ہے، سیاست میں اس لیے آیا کہ ہمارا ملک کبھی بھی وہ ملک نہیں بن سکتا جو علامہ اقبال اور محمد علی جناح کا خواب تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ جو پاکستان کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا اور اس کا تصور ریاست مدینہ ہے، جب میں نے 25 برس قبل سیاست شروع کی، میں نے منشور میں انصاف کو شامل کیا، طاقتور اور کمزور کے لیے قانون یکساں ہو۔انہوں نے کہا کہ کلمہ طیبہ انسان کو غلامی سے آزاد کرتا ہے، میرے پاس سب کچھ موجود تھا ایسا انسان اپنی زندگی کے بائیس سال خرچ کرکے سیاست میں کیوں آئے گا؟ وجہ کیا ہے؟ مجھے سے لوگ سوال کرتے تھے کہ سیاست میں کیوں آیا؟ اپنی قوم کی خاطر آیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایک مسلمان قوم غلام قوم نہیں بن سکتی، پیسے اور خوف کی غلامی شرک ہے، یہ سب ہمارے منشور میں شامل ہیں، اگر ایمان نہیں ہوتا تو سیاست میں نہیں ہوتا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک پر بیرونی طاقتیں اثرانداز ہوتی ہیں، میں نے فیصلہ کیا کہ اقتدار میں آیا تو ہمارے ملک کی فارن پالیسی ایک آزاد پالیسی ہوگی جو کہ پاکستانیوں کے لیے ہوگی، وہ پالیسی جو ہمارے مفادات پر مبنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمیں اسی کمرے میں کہا گیا کہ امریکا کی حمایت نہیں کی تو وہ زخمی ریچھ کی طرح ہمیں ہی نہ مار دے، افغان جہاد کے بعد دو سال بعد ہی امریکا ہم پر پابندیاں لگادیتا ہے، نائن الیون کے بعد واشنگٹن کو ہماری حمایت کی ضرورت پڑ جاتی ہے لیکن جو حمایت ہم نے کی اور پاکستانیوں نے اپنی 80 ہزار جانوں کی قربانی دی لیکن کسی نیٹو ممالک میں اتنی جانیں نہیں دی گئیں۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

نیپرا نے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا

پڑھنے کے اگلے

قومی اسمبلی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد 3اپریل تک ملتوی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔