PK Press

راجہ صاحب کا گڑ

تحریر:سیدخاورعباس

قومی سیاست میں 55 سال تک اہم کردار ادا کرنے والے زیرک ، مدبر سیاستدان اور نامور شاعر جناب نواب زادہ نصراللہ خان جن کے آموں کے باغات تھے جب آموں کا موسم آتا تو نواب صاحب مختلف پارٹیاں کرتے،،صحافیوں ، سیاستدانوں ، وکلا مختلف ممالک کے سفیروں اور شاعروں کے اعزاز میں آموں کی محفل سجاتے اور چلتے ہوئے انکو تحفے کے طور پر آموں کی پیٹیاں عنائیت کرتے،کچھ اسی طرح ہمارے ایک دوست راجا شکیل حیدر پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں اور "اوورسیز پاکستان کشمیر ویلفئیر کونسل” کے مرکزی چئیرمین جبکہ سابق مسلم لیگ ن یوتھ ونگ برطانیہ کے سابق چیف آرگنائیزر۔ مسلم لیگ برطانیہ کے سابق صدر و سابق ڈپٹی سکریٹری جنرل رہ چکے ہیں اور راجا صاحب ن لیگ کو خیر آباد کہہ کر ق لیگ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں کافی منجھے ہوئے سیاستدان مانے جاتے ہیں اور ایک زمانے میں صحافت میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں ،کافی بارونق اور باذوق انسان ہیں ،

راجا صاحب نواب تو نہیں لیکن دل کے نواب ضرور ہیں البتہ خاندانی راجا ہیں،،،، راجا صاحب کا انداز بھی کچھ نواب صاحب سے ملتا جلتا ہے، گڑ کے موسم میں اپنے گاؤں میں سپیشل گڑ بنواتے ہیں جس میں انکا خلوص۔ پیار ، محبت کے علاوہ سات میوہ جات جن میں مونگ پھلی،، چنے ،،بادام کی گری،،سوغی،، چار مغز، سونف،، اور تل بھی ڈالتے ہیں اور پھر اسکی صفائی لسی اور دودھ سے کرتے ہیں اور اس کو دیسی گھی سے تڑکا بھی لگاتے ہیں،،کہتے ہیں گڑ میٹھے پر تو مکھی بھی جاں دیتی ہے اور ہم تو پھر بھی انسان ہیں۔ ویسے بھی میٹھا کھلانا مذہبی لحاظ سے سنت رسول ص بھی ہے راجہ صاحب اسی سنت رسول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سال کے حساب سے تقسیم کرتے ہیں

راجا صاحب جب اپنے دوستوں کے پاس جاتے ہیں تو یہ مٹھائی کے بجائے گڑ کا تحفہ لے کر جاتے ہیں اور جب دوست ان سے ملنے ان کے گھر جاتے ہیں تو واپسی پر انہیں گڑ کا تحفہ دیتے ہیں ،راجا صاحب کے اپنے خلوص کا اظہار کرنے کا بس طریقہ ہے
اور راجا صاحب یہ گڑ برطانیہ دوبئی امریکہ اور دوسرے ممالک تک بھی اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب تک پہنچاتے ہیں کچھ دوست اس کی تعریف میں شکریہ کے طور پر راجہ صاحب کو یاد کرتے ہوئے اپنی دعاؤں میں یاد کرتے ہیں جس میں میں ناچیز شامل ہے، کہتے ہیں کہ گڑ ویسے دوائی بھی ہے۔ ھاضمہ۔ اور پیٹ کی بیماریوں کو دور کرتا ہے اور کچھ دوست رات کو کھانے کے بعد ھاضمے اور میٹھے کے طور پر رات کو استعمال کرتے ہیں کچھ بڑی اور پرانی بزرگ مائیں اور بہنیں اس کے میٹھے چاول اور چائے میں بھی استعمال کرتے ہیں گڑ والے میٹھے چاول تو ہماری پنجاب کی مشہور سوغات میں شامل ہوتی ہے ویسے بھی آج کل لوگ گھروں میں چینی کی بجائے اب گڑ کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں ہاں البتہ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگوں کو گڑ تقسیم کرنے والا خود شوگر کا مریض ہے لیکن بہت من موجی انسان ہر ایک سے پیار ہر ایک کو احترام دینے والے انسان ہیں ۔ راجا صاحب کو اپنی مٹی سے بہت پیار ہے وہ رہتے برطانیہ میں ہیں لیکن ان کا وہاں جی نہیں لگتا تو ہر ایک ماہ وہ پھر پاکستان چلے آتے ہیں کافی بیمار بھی ہو جاتے ہیں ان کی اولاد ان کو سفر کرنے سے منع بھی کرتے ہیں اس کے باوجود وہ ہر دوسرے اپنے وطن آتے ہیں اپنے والدین اور بڑی بہن کے قبر پر جا کر حاضری دیتے ہیں گاؤں میں لوگوں سے ملتے ہیں ان کی جو بھی مشکلات ہوتی ہیں ان کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ،

جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے انہیں یہی کہتے سنا کہ میں اپنے ملک اور عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں کرتے بھی ہیں بس ایک گلا ضرور ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے ملک میں آ کر ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جگہ جگہ کام میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اس کے باوجود بھی وہ پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں،راجا شکیل حیدر اپنے ملک ا ور اپنی عوام کے لئے ایک صاف پانی فلٹریشن پلانٹ لگانے کا ارداہ رکھتے ہیں اور یہ پلانٹ ان علاقوں میں لگانے کا ارداہ رکھتے ہیں جہاں پانی کی قلت زیادہ ہے اور پانی پینے کے قابل نہیں ہے وہ پر امید ہیں کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے لئے اپنے پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک ضرور پہنچائیں گے۔راجا شکیل حیدر کشمیر سے بھی بے پناہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے برطانیہ میں اوورسیز پاکستان کشمیر ویلفئیر کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا ہے جس سے وہ آزاد کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں ہر سال مقبوضہ وادی کی آزادی کے لئے برطانیہ میں ریلیاں نکالتے ہیں اور اجلاس کا انعقاد بھی کرتے ہیں،یہی ان کی اپنے ملک سے محبت کے اظہار ہے۔اب موجودہ حکومت یا آنے والی حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کریں یہی اوورسیز پاکستانی معشیت میں ریڑ کی ہڈی کی

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

کیا آپ کا فیس بک اکاونٹ لاک ہوگیا؟ تو وجہ جان لیں

پڑھنے کے اگلے

چین کا کسی بھی دھمکی اور دباؤ کو قبول نہ کر نے کا اعلان

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔