PK Press

شہنشاہِ جذبات محمد علی کو بچھڑے 16برس بیت گئے

بے مثال اداکاری پر انہیںتمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا
کئی کامیاب فلموں میں لازوال کردار ادا کرنے والے اداکار محمد علی کو ہم سے بچھڑے 16 برس بیت گئے مگر ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اداکار محمد علی 19 مارچ 2006 کو ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ گئے تھے۔ فلم نگری پر تین دہائیوں سے زائد عرصے تک راج کرنے والے محمد علی کو شہنشاہِ جذبات بھی کہا جاتا ہے۔محمد علی کا تعلق رام پور سے تھا۔ وہ 19 اپریل 1931 کو پیدا ہوئے تھے۔

 

 

ان کے والد سید مرشد علی امام مسجد تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے ہجرت کرکے پہلے ملتان اور پھر حیدرآباد کو اپنا مستقر بنایا۔ محمد علی نے سٹی کالج حیدرآباد سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ ان کے بڑے ارشاد علی ریڈیو پاکستان سے بطور براڈ کاسٹر وابستہ تھے۔ انہی کے توسط سے محمد علی کو ریڈیو پاکستان کے مختلف ڈراموں میں کام ملا۔1960 کی دہائی کے آغاز پر محمد علی کو ہدایت کار قمر زیدی نے اپنی فلم آنکھ اور خون میں کاسٹ کیا، لیکن یہ فلم مکمل نہ ہوسکی۔ 1962 میں فلم چراغ جلتا رہا ریلیز ہوئی جس میں محمد علی نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ یہ ان کی پہلی فلم تھی، جب کہ بطور ہیرو پہلی نمائش پذیر فلم شرارت تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار رفیق رضوی تھے۔ اس سے قبل محمد علی مسٹر ایکس نامی جاسوسی فلم میں ہیرو کے طور پر کام کرچکے تھے،

 

لیکن اس کی نمائش تاخیر سے ہوئی اور یوں پہلی بار شائقین نے انھیں فلم شرارت میں ہیرو کے روپ میں دیکھا تھا۔”خاموش رہو وہ فلم تھی جس نے محمد علی کو شہرت اور مقبولیت دی۔ اس فلم نے مصروف ترین اداکار بنا دیا۔ ان کی کئی فلمیں نمائش پذیر ہوئیں۔ محمد علی نے اداکارہ زیبا سے شادی کی اور دونوں نے فلم نگری میں عزت، وقار اور نام و مقام پایا۔ محمد علی اور زیبا کی مشترکہ فلموں کی تعداد 70 ہے جن میں پچاس سے زائد فلموں میں وہ ہیرو، ہیروئن کے طور پر نظر آئے۔ 29 ستمبر 1966 وہ فلم "تم ملے پیار ملا کی عکس بندی میں مصروف تھے جب انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔

کشور کمار اور بپی لہری کا آپس میں کیا رشتہ تھا؟

https://pkpress.net/2022/02/16/bapppilehri/

محمد علی نے مجموعی طور پر 268 فلموں میں کام کیا جن میں اردو فلموں کی تعداد 251 تھی۔ لیجنڈ اداکار محمد علی نے مجموعی طور پر 9 نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیے۔جذباتی مکالمات کی ادائیگی، آواز کا اتار چڑھاو اور تاثرات پر کمال دسترس اور حقیقت سے قریب تر اداکاری محمد علی کو اپنے زمانے کے اداکاروں میں ممتاز کرتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ناقدین انھیں ایشیا میں سلور اسکرین کے عظیم فن کاروں میں شمار کرتے ہیں۔محمد علی کو ان کی شان دار پرفارمنس اور بے مثال اداکاری پر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے

https://www.humnews.pk/category/sports/نوازا گیا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

کروڑوں برس پرانی سب سے بڑی شکاری وہیل کی باقیات دریافت

پڑھنے کے اگلے

پی ٹی آئی کے14 منحرف ارکان کیخلاف کارروائی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔