PK Press

شہباز گل کو رمیش کمار سے بدزبانی مہنگی پڑگئی، 10کروڑ کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر

اسلام آباد (نیوزڈیسک )ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو لائیو ٹی وی شو کے دوران بدزبانی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رمیش کمار نے اپنے وکیل ایڈوکیٹ ثاقب جیلانی کے توسط سے شہباز گل کے خلاف دس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا ہے، لیگل نوٹس کے متن کے مطابق شہباز گل کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام سمیت دیگر میڈیا پلیٹ فارمز میں اپنا معافی نامہ شائع کرائے اور دس کروڑ روپے کا ہرجانہ ادا کرے بصورت دیگر ڈیفیمیشن آرڈیننس کے سیکشن 8 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے ڈاکٹر رمیش کمار اور اہل خانہ کو واٹس ایپ پر قتل کی دھمکیوں اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر رمیش کمار نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈی جی سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کے نام اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز گل نے ٹی وی پروگرام کے دوران بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے ہیں،

 

 

شہباز گل کے ایماء پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے انہیں اور انکی فیملی کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ڈاکٹر رمیش نے پانچ سو سے زائد نازیبا واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے ایف آئی اے سے گھناؤنے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت کڑی کاروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔ مزید برآں پیمرا نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن فرنٹ ود کامران شاہد کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار کو ناحق تضحیک کا نشانہ بنانے کے خلاف دنیا نیوز کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، پیمرا کے مطابق ٹی وی اینکر کامران شاہد کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی جبکہ لائیو ٹی وی شو کے دوران وقفے کا میکانزم بھی نہیں اپنایا گیا، ٹی وی چینل پر قابل اعتراض کلمات کا نشر ہونا پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 سمیت سپریم کورٹ کے سوموٹو کیس نمبر 28/2018 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پیمرا نے شو کاز نوٹس میں دنیا نیوز کے سربراہ کو 28 مارچ کو تحریری جواب کے ساتھ پیمرا ہیڈکوارٹرز طلب کرلیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے نامعلوم مقام سے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں اپنی فیملی کو ہراساں کیے جانے کے بعد سندھ ہاؤس منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا،تاہم سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد انہیں اور انکی فیملی کو سیکیورٹی کے سخت خدشات لاحق ہوگئے ہیں، انہوں نے تھانہ سیکرٹریٹ میں تحریری درخواست میں آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی سے اپنی اور اہل خانہ کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

پی ٹی آئی کے14 منحرف ارکان کیخلاف کارروائی

پڑھنے کے اگلے

سیالکوٹ گیریژن میں اسلحہ کے گودام میں آگ لگ گئی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔