PK Press

شہبازشریف کی مائنس پی ٹی آئی کےساتھ قومی حکومت بنانے کی تجویز

مسلم لیگ (ن) کے صدرشہباز شریف نے مائنس پی ٹی آئی فارمولے کےساتھ پانچ سال کےلئے قومی حکومت بنانے کی تجویز دےدی ۔نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پانچ سال کےلئےقومی حکومت تشکیل دی جانی چاہیے جو سر جوڑ کر ملک کی خدمت کرے تاہم انہوں نے کہا کہ قومی حکومت میں پاکستان تحریک انصاف شامل نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ۔شہبازشریف نے کہا کہ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں بہار آئی کہ آئی ، بائیس کروڑ خوشحالی اور نئی زندگی کےلئے باہر آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا جانا میری اور نہ کسی اور سیاسی جماعت کی خواہش ہے کہ بلکہ بائیس کروڑ کی عوام کی مصیبتوں اور مشکلات کو پیش نظر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں اس طرف جانا چاہیے ، پشاور سے لیکر کراچی تک عوام اس حکومت سے بیزار ہیں ، ہم نے جو راستہ چنا ہے وہ آئینی ، قانونی اور سیاسی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو میڈیا نے بھی پروموٹ کیا تھا جبکہ وہ پرویز مشرف کے جلسوں کو جھنڈا لیکر لیڈ کرتے رہیں ،یہ بات تاریخ کا حصہ ہے،عمران خان کہا کرتے تھے کہ ٹیکس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھانا چوری ہوتی ہے اور وزیراعظم کو چور اور ڈاکو کہتے رہے ۔

 

پیٹرول کی قیمت چالیس روپے پر لے آئوں گا

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں پیٹرول کی قیمت چالیس روپے پر لے آئوں گا اور لوٹے گئے دو سو ارب روپے واپس لائوں گا ، دو سو ارب تو دور کی بات عمران خان دو ارب بھی لے آتے تو میں یہ کہتا کہ ملک کی بڑی خدمت کی ہے ، عمران خان یہ بھی کہتے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے میں خودکشی کر لوں ، چلو اگر مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا بھی پڑا تو کیا کیا،یہ حقیقت ہے کہ نوازشریف کے دور میں بھی قرضے لئے گئے لیکن ہم نے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی ،سی پیک کے ذریعے بھی بجلی کے منصوبے لگے ، اب بھی وافر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر اہلیت نہیں ، اب یہ بات ختم ہونی چاہیے کہ کرپٹ نہیں ہے ،چینی کی ایکسورٹ کا معاملہ دیکھ لیں،ایکسپورٹرز کو اربوں روپےکی سبسڈی دی گئی ۔اس سوال پر کہ کیا وہ کارکردگی سے متعلق کارکردگی سے متعلق عمران خان کا چیلنج قبول کرتے ہیں شہبازشریف نے کہا کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ جس کے پاس عقل کا ذرا بھر مادہ ہو نا زبان میں شائستگی ہو ، جو دن رات جھوٹ بولے ، جو شخص ہاتھ ملانے کا روادار نہ ہو اور دن رات چور ڈاکو کا منترہ کرتا رہے ،ریاست مدینہ کی بات کرے اور کام اس کے برعکس ہوں ایسے شخص کے ساتھ بیٹھنا وقت کا ضیاع ہے ، جو شخص دھوکہ دیتا ہے ، گالی دیتا ہے ہم اس کے ساتھ کیوں بیٹھیں ۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر نہ صرف پوری پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا بلکہ پی ٹی آئی کو بھی مشاورت میں شامل کیا تھا حالانکہ یہ دن بھر جلسوں میں ہوتے تھے ، میں نے ان سے کہا کہ آئین چارٹر آف ڈیموکریسی کریں لیکن انہوں نے حقارت کے ساتھ میری تجویز کو نہ صرف رد کیا بلکہ مذاق بھی بنایا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان معاشی طو رپر تباہ ہوچکا ہے جبکہ سفارتی طور پر اس حکومت نے ملک کو تنہا کردیا ۔

 

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم سعودی عرب کے بغیر کشمیر کاز کو پروموٹ کریں گے ،سعودی عرب پاکستان کےلئے درد رکھنے والا دوست ہے پھر امریکہ کے 74سال سے تعلقات ہیں جن میں اتار چڑھائو آتا رہا ہے لیکن یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ایپسلوٹلی ناٹ ،امریکہ نے تو اڈے مانگے ہی نہیں تھے ،شہبازشریف نے کہا کہ سستی گیس کی جگہ مہنگا تیل خریدا گیا ،ڈاکہ زنی کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ، چین پر کیا کیا الزامات نہیں لگائے گئے ،انہوں نے چین جا کر ہمارے دور میں کی گئی سرمایہ کاری کا فرانزک آڈٹ کرایا لیکن کچھ ثابت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور حکومت میں غریب لوگوں کی جیب کاٹی گئی، ادویات میں عامر کیانی نے اربوں روپے کی کرپشن کی ،کیا تحقیقات ہوئیں، بی آئی ٹی میں کیا ،خود حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے ،یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنانے کے دعوے تو کئے گئے لیکن نہ یونیورسٹیاں بنیں نہ ہسپتال ،اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ،اپوزیشن کو پونے چار سال تک دیوار کے ساتھ چن لیا گیا، یہ ہے نیب نیازی گٹھ جوڑ، عمران کو دیانتدار وزیراعظم کہنا چھوڑ دیں ۔شہبازشریف نے کہا کہ سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ہمیں ناکامی ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جدوجہد جاری نہ رکھیں ،حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد میری ذات نوازشریف ،مولانا یا کسی اور اپوزیشن رہنما کی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی التجا ہے کیونکہ ملک تباہ ہوچکا ہے ۔

 

 

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ ہمارے پاس دو سو ارکان ہیں ان کی زبان مبارک ہو، بلاول نوجوان ہیں ، ہمت کر رہے ہیں، دیگر رہنما بھی کام کر رہے ہیں ، انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے ، اس بدترین حکومت سے نجات ملے گی۔ چوہدری برادران سے ملاقات کے حوالے سے شہبازشریف نے کہا کہ انہوں نے نوازشریف کی طرف سے گلدستہ پیش کیا تھا، سیاسی میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا، کل کے دوست آج کے مخالف اور آج کے مخالف کل کے دوست ہوتے ہیں ،چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے اچھے انداز میں بات ہوئی ، انہوں نے نوازشریف کےلئے اچھی انداز میں بات کی اور کہا کہ پرانے تعلقات بحال ہونے چاہیئں جس پر نوازشریف نے خوشی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پہلے مرحلے میں یہ کوشش ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو، ہماری پارٹی کا یہ موقف ہے کہ اس کے بعد الیکشن کی طرف جانا چاہیے لیکن اس فیصلے میں پیپلزپارٹی ، پی ڈی ایم اور دیگر جماعتوں سے مشاورت درکار ہے ، میرا موقف ہے کہ ملک کے مفاد میں الیکشن سے پہلے ضروری اقدامات کرنے چاہیئں،پی ٹی آئی کے علاوہ ایک قومی حکومت بنانی چاہیے جو پانچ سال شبانہ روز اور اخلاص کےساتھ ملک کی خدمت کرے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی کےساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔عمران خان کے اس دعوے کے ان کو ہٹانے کے پیچھے غیر ملکی سازش ہے ،شہبازشریف نے کہا کہ جس شخص نے پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکری کی بات کی پھر ایک گھر نہ بنا اور لوگوں کو بیروزگاری کیا ،کیا یہ غیر ملکی سازش ہے ؟اربوں روپے کی کرپشن ہوئی کیا یہ بھی غیر ملکی سازش ہے ؟ آئی ایم ایف سے قرضے لئے گئے ، پاکستان کی نسلوں کو جھکڑ لیا گیا، اسٹیٹ بینک بل کے معاملے پر پارلیمانی روایات کو بلڈوز کیا گیا، اس معاملے پر اسد قیصر نے اسپیکر کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی ورکر کا کرداراداکیا ۔ ارکان کی ہارس ٹریڈنگ کے الزام پر شہبازشریف نے کہا کہ جب جہاز پر ممبرز کو بنی گالہ پہنچایا جاتا تھا تو کیا وہ ہارس ٹریڈنگ نہیں تھی ، آپ ثابت کریں کہ ہم نے لوگوں کو پیسے دیے ، اگر ایک دھیلے کا بھی عمل دخل ہوتو میں جرم دار ہوں ، اگر حکومتی اتحادی فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اپوزیشن بینچوں میں بیٹھیں گے اور پی ٹی آئی سے اتحاد توڑتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے ، پی ٹی آئی کے لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر کہہ رہے ہیں کہ ہم عمران خان کے ساتھ نہیں رہیں گے ، کئی لوگوں نے یہ کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے ساتھ پرائز بانڈز بھی لگا دیں تو ہم اس کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے یہ کہا کہ جولوگ ووٹ ڈالنے جائیں گے انہیں ہجوم سے گزرنا ہوگا،یہ دھمکی ہے ، ہم تصادم نہیں چاہتے ،ہم چاہتے ہیں کہ آئین اور قانون کے مطابق خوش اسلوبی کےساتھ لوگ ووٹ ڈالنے جانے جائیں اگر یہ رکاوٹ ڈالیں گے تو یہ آئین اور قانون کےساتھ تصادم ہوگا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

عدم اعتماد ،ہمارے نمبرز اتحادیوں کے بغیر بھی پورے ہیں، بلاول بھٹو

پڑھنے کے اگلے

شلپا شیٹھی کی والدہ بڑی مشکل میں پھنس گئیں

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔