PK Press

بھارت،ہندو انتہا پسندوں کا پورے ملک میں حجاب پر پابندی کا مطالبہ

بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے حق میں عدالتی فیصلے کے بعد ہندو انتہا پسند تنظیمیں حجاب کے خلاف سرگرم،ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔

 

تفصیلات کے مطابق کرناٹک ہائیکورٹ نے حال ہی میں اپنے فیصلے میں کلاس رومز کے اندر مسلمان طالبات پر حجاب پہننے پر پابندی برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس کے بعد ہندو انتہا پسند تنظیموں نے عدالتی فیصلے کو جواز بناتے ہوئے ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی مسلمان طالبات کے کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہندو تنظیم اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے صدر رشی تریویدی نے کہا کہ ہم ہندو قوم ہیں اور ملک کے تعلیمی اداروں میں کسی قسم کی مذہبی تفریق نہیں دیکھنا چاہتے ۔

اسلام میں حجاب پہننا لازمی نہیں ،

بھارتی ہائیکورٹ نے مسلم طالبات کی اپیلیں خارج کردیں

https://pkpress.net/2022/03/15/indian-high-court/

انہوں نے کہا کہ ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور پورے ملک میں حجاب پر پابندی کے خواہاں ہیں ۔حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ذیلی تنظیم ویشوا ہندو پریشت کے رہنماوں نے کہا ہے کہ ہم نے وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی حجاب کا مطالبہ کیا ہے اور جلد ملک کی سب زیادہ گنجان آباد ریاست اتر پردیش میں بھی پابندی کےلئے تحریری مطالبہ کریں گے ۔ واضح رہے ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ ویشوا ہندو پریشت گجرات کے سیکرٹری جنرل اشوک راول نے کہا ہے کہ جب مسلح افواج ،پولیس اور حکومتی دفاتر میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے تو پھر سکولوں اور کالجوں میں اس کا کیا جواز ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حجاب پہننا دراصل فرقہ ورانہ کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے ۔ گجرات کے وزیر تعلیم جیتو وغانی نے وشوا ہندو پریشت کے اس مطالبے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ریاست کے ایک وزیر اور ایک سرکاری افسر نے نام نہ ظاہر کرنےکی شرط پر بتایا کہ سکولوں میں حجاب پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

شلپا شیٹھی کی والدہ بڑی مشکل میں پھنس گئیں

پڑھنے کے اگلے

ڈی چوک میں سیاسی جماعتوں کے جلسے روکنے کے لیے درخواست دائر

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔