PK Press

ولادیمیر زیلنسکی کااداکاری سے یوکرین کے صدرتک کا سفر

جب ولادیمیر زیلنسکی پہلی بار صدر کے طور پر ٹی وی سکرین پر نظر آئے تو اس وقت وہ ایک کامیڈی سیریز میں بطور اداکار صدر کا کردار نبھا رہے تھے۔ لیکن وہ 2019 میں حقیقی صدر بن گئے۔اب وہ چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کے لیڈر ہیں اور ان کے ملک پر روس نے کئی سمتوں سے حملہ کر رکھا ہے۔

 

 

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ولادیمیر زیلنسکی ٹی وی سیریز سرونٹ آف دی پیپل میں ایک استاد کے کردار میں نظر آتے ہیں جس کی ایک ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔ اس میں وہ ملک میں کرپشن کے خلاف ایک جذباتی تقریر کرتے ہیں جو لوگوں کو پسند آتی ہے اور وہ ملک کی صدارت تک پہنچ جاتے ہیں۔ولادیمیر زیلنسکی نے اپنی جماعت کا نام بھی اسی ٹی وی پروگرام کے نام سرونٹ آف دی پیپل پر رکھا اور اپنی ساری انتخابی مہم سیاست میں کرپشن ختم کرنے اور ملک کے مشرقی حصے میں امن بحال کرنے کے نعرے پر چلائی۔

 

 

اب روس کی فوج یوکرین کی سرحدیں عبور کر کے اندر داخل ہوچکی ہے اور ولادیمیر زیلنسکی ایک ایسے بحران سے دوچار ہو چکے ہیں جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے یورپ میں سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔زیلنسکی جب اپنے ملک کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے تو وہیں وہ مغربی رہنماوں سے یہ بھی کہتے رہے کہ اپنے بیانات سے وہ یوکرین میں خوف کی فضا پیدا نہ کریں۔یوکرین کے شہر کریویرخ میں یہودی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ولادیمیر زیلنسکی نے کیئو کی نیشنل اکنامک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی لیکن ان کا شوق انھیں اداکاری کی طرف کھینچ کر لے گیا۔وہ ایک نوجوان کے طور پر روسی ٹی وی کے کامیڈی شوز میں حصہ لیتے تھے۔

 

انھوں نے 2003 میں ایک پروڈکشن کمپنی بنائی جسے انھوں نے اپنی کامیڈی ٹیم کروٹل 95 کا نام دیا۔زیلنسکی کی پروڈکشن کمپنی کے پروگرام یوکرین کے ون پلس ون نیٹ ورک پر نشر ہوتے تھے۔ جب انھوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو چینل ون پلس ون کے ارب پتی مالک کلوموسکی نے ان کی حمایت کی۔2010 تک ولادیمیر زیلنسکی کی ساری توجہ اپنے ٹی وی کیریئر پر تھی۔ولادیمیر زیلنسکی کے لیے سیاسی میدان میں عروج 2014 کے واقعات کے بعد آیا جب ملک کے روس نواز صدر وکٹر یانوکوچ کو مہینوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔اس کے بعد روس نے کریمیا پر حملہ کر کے اسے اپنے ساتھ ملا لیا اور ملک کے مشرقی حصوں میں جنگ شروع ہو گئی جو آج تک جاری ہے۔ولادیمیر زیلنسکی کا ڈرامہ سرونٹ آف دی پیپل 2015 میں چینل ون پلس ون پر نشر ہوا جس میں انھوں نے ویزلی گولوبورو کا کردار ادا کیا۔ شو میں ان کی ایک جذباتی تقریر نے انھیں صدارت تک پہنچا دیا تھا۔

 

 

ولادیمیر زیلنسکی 2019 میں صدر پیٹرو پوروشینکو کو ایک واضح مارجن سے شکست دے کر ملک کی حقیقی صدارت تک پہنچ گئے۔

انھوں نے 73 فیصد ووٹ حاصل کیے اور 20 مئی 2019 کو ملک کے چھٹے صدر کا حلف اٹھا لیا۔ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے انتخابی وعدے کے عین مطابق ڈنباس، جہاں 2014 سے لڑائی جاری تھی اور 14 ہزار لوگ مارے جا چکے تھے، کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے روس کے ساتھ بات چیت کی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ مگر یہ کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

 

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر زیلنسکی ملک کے مشرقی حصے میں جاری لڑائی کو ختم کرانے میں ناکام رہے۔جب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ڈنباس کے رہائشیوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا تو منسک معاہدے کی کامیابی کے امکانات کم ہو گئے۔ لیکن اس کے باوجود 2020 میں سیز فائر معاہدہ ہوا جو عمومی طور پر کامیاب رہا۔ البتہ کبھی کبھار لڑائی بھی ہوتی رہی۔لیکن جب صدر زیلنسکی نے یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کی باتیں کرنا شروع کیں تو اس سے روسی صدر ناراض ہوئے۔ان کے مخالفین نے ان پر ناتجربہ کاری کے الزامات بھی لگائے۔لیکن مغربی ممالک نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے بیانات جاری کرنا شروع کیے تو انھوں نے قدرے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے مغربی رہنماں سے کہا کہ وہ یوکرین میں خوف کی فضا پیدا کرنے سے باز رہیں۔

 

 

انھوں نے قوم کو متحد کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے سولہ فروری کو یونیٹی ڈے منایا۔ وہ تواتر کے ساتھ فرنٹ لائن پر فوجیوں سے ملتے رہے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روس کے حملے سے بچنے کے لیے نیٹو میں شمولیت کی خواہش کو ترک کر سکتے ہیں تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارے پاس اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو کی ممبرشپ ایک راستہ ہے۔ولادیمیر زیلنسکی کے انتخابی وعدوں میں ایک وعدہ یہ تھا کہ وہ اشرافیہ کے سیاسی اور معاشی اثر کو یوکرین سے ختم کریں گے۔بعض لوگوں کو شک تھا کہ وہ ایسا نہیں کر پائیں گے کیونکہ وہ خود ایک ارب پتی کی مدد سے اقتدار تک پہنچے تھے۔لیکن انھوں نے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کی کچھ کوشش ضرور کی۔

 

 

انھوں نے یوکرین کی اشرافیہ کی سب سے نمایاں شخصیت وکٹر میدودیچک کو گھر میں نظر بند کر دیا اور ان پر ملک سے غداری کا مقدمہ بھی درج کرایا۔پھر ایک ایسا قانون متعارف کرایا جس میں یہ بتایا گیا کہ اشرافیہ کون ہیں اور ان پر پابندیاں عائد کی گئیں۔صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مخالفین نے ان کے کریشن کے خلاف اقدامات کو مصنوعی قرار دیا اور دعوی کیا کہ وہ صرف امریکی انتظامیہ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔صدر جو بائیڈن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جولائی 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے فون پر بات کی اور مطالبہ کیا کہ وہ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے خلاف کرپشن کی انکوائری کا اعلان کریں، جس کے بدلے انھیں امریکہ کا دورہ کرایا جائے گا اور انھیں فوجی امداد بھی ملے گی۔

 

 

 

جب صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر سے ٹیلیفون پر بات چیت کی خبریں سامنے آئیں تو ٹرمپ پر الزام لگا کہ وہ بطور امریکی صدر اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ بضد تھے کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا لیکن پھر انھیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ریپبلیکن پارٹی نے صدر ٹرمپ کی صدارت کو بچا لیا تھا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

وزیراعظم عمران خان آج شام6بجے قوم سے خطاب کرینگے

پڑھنے کے اگلے

حکومت نے بجلی کی قیمت میں 5روپے94پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔