PK Press

رحمان ملک سرکاری ملازم سے بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی کیسے بنے؟

رحمان ملک ،سرکاری ملازمت سے بینظیر بھٹو کے معتمد خاص تک

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک70برس کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے،رحمان ملک کورونا سے متاثر ہونے کے بعد طبی مسائل کا شکار تھے۔ ۔تفصیلات کے مطابق رحمان ملک پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر داخلہ کے منصب پر فائز رہے۔
ذرائع کے مطابق ان کے ترجمان نے سابق وفاقی وزیر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رحمان ملک کو سانس لینے میں مشکلات ہوئیں تو انہیں اسلام آباد کے نجی اسپتال میں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔
سینیٹر رحمان ملک کے پھیپھڑے کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ ان کی میت کو گھر منتقل کر دیا گیا ہے، اہلِ خانہ کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک نے سوگواروں میں بیوہ اور دو بیٹوں کو چھوڑا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک کا شمار بے نظیر بھٹو کے بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان میثاق جمہوریت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
سینیٹر رحمان ملک 12 دسمبر 1951 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع سیالکوٹ سے تھا۔
رحمان ملک نے اپنے کیریئر کا آغاز فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)میں بطور ڈائریکٹر کیا تھا۔ بے نظیر بھٹو جلا وطن ہوئیں تو رحمان ملک بھی جلا وطن ہو گئے اور ان کے ساتھ ہی واپس آئے۔
2008 کے انتخابات ہوئے تو انھیں وزیراعظم کا مشیر برائے داخلہ تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں وہ سینیٹر منتخب ہوکر وزیر داخلہ بن گئے۔
وزارت داخلہ سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین بھی رہے۔
پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں وہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات کی صورت میں پل کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رحمان ملک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان کے کردار کو سراہا جاتا رہا ہے۔ کراچی یونیورسٹی نے انھیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی تھی جبکہ حکومت نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات پر انہیں ستارہ شجاعت اور نشان امتیاز سے نوازا تھا۔
اپنی زندگی میں رحمان ملک کئی تنازعات کا شکار بھی رہے۔ امریکی بلاگر سنتھیا رچی نے ان پر الزامات لگائے تاہم عدالت میں جانے کے بعد دونوں کے درمیان صلح ہو گئی۔
رحمان ملک کو میڈیا میں رہنے کا فن آتا تھا۔ اپنے دور حکومت میں وہ دن میں متعدد مرتبہ میڈیا سے مخاطب ہوتے تھے۔

رحمان ملک 4کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں مودی وار ڈاکٹرائن اور انڈیا اینٹی پاکستان سینڈروم شامل ہیں۔مودی وار ڈاکٹرائن، داعش اور ٹاپ 100 انویسٹی گیشنز شامل ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے رحمان ملک کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک نے ہمیشہ دیانت داری اور اصولوں کی سیاست کی، جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی تو رحمان ملک تھے کہ جنہوں نے دہشت گردی کے خاتمے میں ایک اہم کردار ادا کیا،حکومتی و سیاسی ذمہ داریوں کو رحمان ملک نے ہمیشہ بہترین طریقے سے نبھایا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رحمان ملک کی تصنیفات اس بات کی گواہ ہیں کہ خطے کی صورت حال پر ان کا عبور غیرمعمولی تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا سینیٹر رحمان ملک کے انتقال پر اظہارِ افسوس
وزیراعظم عمران خان نے سینیٹر رحمان ملک کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا۔وزیرِ اعظم کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ میں لکھا کہ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور سوگواران کو صبرِ جمیل عطا کریں۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لائے ، حکومت مکمل تیار ہے، فوادچوہدری

پڑھنے کے اگلے

پیکا قانون کے سیکشن 20 کے تحت کسی کو گرفتار نہ کیا جائے

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔