PK Press

سکاٹ لینڈ کے جزیرے سکائی کی چٹانوں پر اڑنے والے ڈائنوسار کی باقیات دریافت

برطانیہ میں سب سے بڑے اڑنے والے ڈائنوسار کی باقیات دریافت

لندن ، جراسک دور کے سب سے بڑے ڈائنوسار ٹیروسار کے فوسل (باقیات)سکاٹ لینڈ کے جزیرے سکائی کی چٹانوں پر ملے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) کی رپورٹ کے مطابق پی ایچ ڈی کی طالبہ امیلیا پینی نے سکائی کے ساحل پر قدیم چونے کے پتھر کی چٹانوں پر ٹیروسار کے نوکیلے دانتوں والے جبڑے کی دریافت کی تھی۔
2017 کی اس ابتدائی دریافت کے بعد اب اس فوسل ڈھانچے پر ایک تفصیلی تحقیق جاری کی گئی ہے۔

جریدے کرنٹ بیالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس اڑنے والے ڈائنوسار کے پر 2.5 میٹر لمبے تھے۔

پی ایچ ڈی کی طالبہ نتالیا جگیلسکا کی سربراہی میں اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سائنس کے لیے ایک نئی پرجاتی ہے۔

اسے سکاٹ لینڈ کی ایک مقامی زبان گیلک سے ڈیئرک جارک سکیاچ کا نام دیا گیا ہے جس سے مراد ایسا رینگنے والے جانور ہے جو اڑ بھی سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گلاسگو میں ہنٹیرین میوزیم اور سکائی میں سٹیفن میوزیم کے محققین کو اس ڈائنوسار کا فوسل حاصل کرنے کے لیے چٹان کاٹنا پڑی۔ یہ ایک مشکل اور شور مچانے والا کام تھا جسے پانی کی تیز لہروں کی آمد کے دوران سرانجام دیا گیا۔ بعد ازاں یہ فوسل یونیورسٹی آف ایڈنبرا لایا گیا۔
محقق نتالیا بتاتی ہیں کہ ڈیئرک ایک بہترین مثال ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پیلینٹولوجی (قدیم زندگی کے علوم) ہمیں ہمیشہ حیرت میں مبتلا کرتی ہے۔
ٹیروسار کے مکمل فوسل بہت نایات ہیں۔ اڑنے والے جانوروں کے جسم بہت ہلکے ہوتے ہیں جیسے آج کے پرندوں کے۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس وجہ سے وہ بہت کمزور ہوتے ہیں اور ان کے فوسل عموما محفوظ حالت میں نہیں پائے جاتے۔

ٹیروسار کا یہ فسل مکمل اور اچھی حالت میں موجود ہے، خاص کر اس کی کھوپڑی کی باریکیاں۔ اس کی مدد سے ایڈنبرا اور سینٹ اینڈریوز کی یونیورسٹیوں اور نیشنل میوزیمز سکاٹ لینڈ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس ڈائنوسار کی بینائی بہت اچھی ہے۔ اس فوسل کو نیشنل میوزیمز سکاٹ لینڈ میں دکھایا جائے گا اور اس پر مزید تحقیق کی جائے گی۔

https://www.bbc.com/news/science-environment-60407928

فوسل کی دریافت کے بعد سکاٹ لینڈ کے جزیرے سکائی پر چٹان کی کٹائی کا کام کیا گیا

نتالیا کہتی ہیں کہ ہم ڈیئرک کا مزید تفصیلی مطالعہ کریں گے تاکہ یہ پتا لگایا جاسکے کہ وہ کیسے رہتے تھے اور ان کا رویہ کیسا تھا۔

یونیورسٹی آف ایڈنبر کے سٹیو بروسیٹ سکائی کے اس دورے کی سربراہی کر رہے تھے۔ انھوں نے اسے ایک اعلی سکاٹش فوسل قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت محفوظ انداز میں موجود ہے۔ ہم نے سکاٹ لینڈ میں ٹیروسار کا ایسا فوسل پہلے کبھی نہیں دیکھا اور یہ شاید 1800 کی دہائی میں (فوسل کی متلاشی)میری ایننگ کے وقت کے بعد برطانیہ کا پہلا بہترین ڈھانچہ ہے۔

خیال ہے کہ ٹیروسار 17 کروڑ سال قبل سکائی کے آسمان میں اڑا کرتے تھے
اس کے حجم سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیروسار ہماری سوچ سے زیادہ بڑے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ کریٹیشیس دور سے بہت پہلے کی بات ہے جب ان کا مقابلہ پرندوں سے تھا۔ یہ بہت اہم پیشرفت ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کورونا وائرس کا شکار

پڑھنے کے اگلے

سنجے دت کی نئی فلم کی پہلی جھلک سامنے آگئی

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔