PK Press

پاکستانی ادکارہ مدیحہ امام کی سالگرہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی

کہا جاتا ہے کہ تمام صلاحیتیں کسی ایک شخص میں ملنا بے حد مشکل ہیں، کہیں خوبصورتی ہے تو کہیں ذہانت۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان شوبز انڈسٹری کافی خوش قسمت رہی ہے کہ اسے ہمیشہ ہی ایسے فنکار ملے ہیں جو نہ صرف ذہین اور فنی خصوصیات سے مالا مال ہیں بلکہ خوبصورتی میں بھی ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری میڈیا انڈسٹری میں بیشمار فنکار ایسے ہیں جو پلک جھپکتے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھوتے چلے گئے۔ پاکستان کی کم عمر، خوبصورت اور معصوم سی اداکارہ مدیحہ امام کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں ہوتا ہے، جن کی بے پناہ صلاحیتوں نے انھیں مختصر عرصے میں نہ صرف قومی بلکہ بین الا قوامی سطح پر بھی ایک باصلاحیت فنکارہ تسلیم کروا دیا ہے۔8فروری 1991 کو کراچی میں پیدا ہونے والی مدیحہ امام نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ انھوں نے کم وقت میں بطور وی جے، اداکارہ اور میزبان اپنی ایک پہچان بنائی اور جلد ہی انھیں ناظرین کی بے حد پسندیدگی بھی حاصل ہوگئی۔ مدیحہ امام کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو انھوں نے ابتدا بطور وی جے کی۔ انھوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دیئے، ایسے میں بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ مدیحہ کامعصوم چہرہ اور متناسب سراپا ماڈلنگ انڈسٹری کی آنکھوں کو نہ بھاتا۔ ایسے میں توقعات کے عین مطابق، کچھ عرصے بعد ہی ماڈلنگ انڈسٹری کی جانب سے مدیحہ کو آفرز آنا شروع ہوگئیں جنھیں مدیحہ نے بخوشی قبول کرتے ہوئے اپنے ماڈلنگ کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا۔مدیحہ امام نے پاکستان کے مشہور ڈیزائنر اور مشہور میگزین کی جانب سے فوٹو شوٹ بھی کروائے جنھیں لوگوں نے بے حد پسند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدیحہ امام ہر برانڈ کا پہلا انتخاب بن گئیں۔ مدیحہ کا ماڈلنگ کیریئر نہ صرف فوٹو شوٹ تک محدود رہا بلکہ انھوں نے مختلف برانڈز کی جانب سے کروائے جانے والے فیشن ویک میں ریمپ واک میں بھی شرکت کی۔مشہور و معروف ماڈل مدیحہ امام نے اپنی کامیابی کا سفر یہی تھمنے نہ دیا، آگے بڑھنے کی لگن میں جب اس خوبصورت اور معصوم ماڈل کو ڈرامہ انڈسٹری کی جانب سے اداکاری کی پیشکش ہوئی تو اس نے یہاں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کی ٹھان لی۔ مدیحہ امام کا پہلا ڈرامہ 2013 میں آن ایئر ہوا، جس میں انہوں نے معاون کردار ادا کیا۔ اپنی بیساختہ اور معصومانہ اداکاری کی بدولت اداکارہ نے پہلے ڈرامے کے ذریعے ہی ناظرین کے دل ایسے جیتے کہ اس کے یکے بعد دیگرے انھیں مختلف ٹی وی سیریلز اور مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھا جاتا رہا۔ تاہم اب باری معاون نہیں مرکزی کردار نبھانے کی تھی۔ یہ کامیابی بھی مدیحہ کو جلد حاصل ہوگئی اور انھیں علی فیضان کی ہدایات میں نجی ٹی وی وی کے لیے بننے والے ڈرامے دھانی کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ جاوید بابر کی پیشکش دھانی کے مرکزی کردار کے لیے ایک شوخ و شنگ اور زندگی کی خوبصورتیوں سے محبت کرتی لڑکی کی تلاش تھی، جس پر مدیحہ امام پورا اترتی تھیں۔ اس کردار کو انھوں نے پوری ایمانداری اور جاندار اداکاری کے ذریعے بے حد خوبصورتی سے نبھایا۔ اس ڈرامہ سیریل سے متعلق ایک انٹرویو میں مدیحہ امام کا کہنا تھا کہ فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے ہی ایک فنکار منفرد شناحت بنا سکتا ہے۔ جدید دور میں فنکار کی خداداد صلاحیتیں ہی اس کے لئے کامیابی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ عریانی کسی فنکار کے لیے وقتی شہرت کا باعث ضرور بنتی ہے لیکن مستقبل میں زہر قاتل ثابت ہو تی ہے۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں تین ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دیدی

پڑھنے کے اگلے

تاجروں کے لئے کاروباری آسانیاں پیدا کئے بغیرترقی ناممکن ہے، ڈاکٹر امجد

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔