PK Press

لتامنگیشکر عمر بھر پاکستان کی دھرتی پر قدم کیوں نہ رکھ سکیں؟

بیسویں صدی کی تین چیزیں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک انسان کا چاند پر جانا، دوم دیوار برلن کا گرنا اور تیسرا لتا منگیشکر کا پیدا ہونا۔لتا منگیشکر کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا نامور غزل گائیک جگجیت سنگھ نے۔ لتا منگیشکر نے اپنی 92 برس کی زندگی میں لگ بھگ 60 برس تک گائیکی کی۔برصغیر میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے لتا منگیشکر کی آواز سنی اور اس سے متاثر نہ ہوا ہو۔ گائیکی کے فن سے وابستہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ لتا منگیشکر جیسی مدھر اور پاکیزہ آواز، سروں کی پختگی اور باجے کی تین سپتک تک آسانی سے گانا ان کا خاصا تھا۔کس قدر عجیب بات ہے کہ انھوں نے لگ بھگ پوری دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن وہ پاکستان میں اپنے ان گنت چاہنے والوں کے روبرو اپنی پوری زندگی نہ ہو سکیں۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق لتا منگیشکر کی خواہش تھی کہ انھیں سرکاری سطح پر ریاست پاکستان کی طرف سے دعوت دی جائے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ سنہ 1996 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بیان دیا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ لتا منگیشکر پاکستان آئیں اور وہ لاہور میں اپنی آواز کا جادو جگائیں۔نوازشریف کا یہ بیان پاکستان کے تمام اخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا۔تب میں نے لتا منگیشکر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے لتا منگیشکر نے معصومیت سے بتایا تھا کہ مجھے پاکستان سے ابھی کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ ایک ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ضمن میں دیا گیا بیان تھا۔میں نے لتا جی سے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سمیت 18 کروڑ (اس وقت پاکستان کی آبادی)پاکستانی عوام کی طرف سے آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے، بتائیں کہ کیا آپ پاکستان آنا پسند کریں گی؟ لتا منگیشکر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے پوری دنیا میں لوگ ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور آپ کا گانا بہت پسند کرتے ہیں لیکن عجب اتفاق ہے کہ میں اپنے کیریئر کے دوران پاکستان میں کبھی بھی نہ گا سکی۔لتا منگیشکر نے بتایا کہ ایک مرتبہ استاد نصرت فتح علی خاں نے انھیں اپنی بیٹی ندا نصرت کی سالگرہ پر لاہور آ کر گانے کی دعوت دی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خاں نے ایک مرتبہ مجھے اپنے والد استاد فتح علی خاں اور تایا استاد مبارک علی خاں کی برسی، جو وہ اپنے آبائی شہر لائل پور میں منعقد کرواتے تھے، میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی لیکن بدقسمتی سے میں پاکستان نہ جا سکی۔محمد نوازشریف کی طرف سے پاکستان آ کر لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے لتا منگیشکر کا کہنا تھا کہ مجھے اگر سرکاری سطح پر پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تو اسے بخوشی قبول کروں گی۔لتا جی نے یہ بھی کہا تھا کہ برصغیر کے گانے بجانے والے لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کو عزت افزائی سمجھتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی سمجھتی ہوں اور اگر مجھے پاکستان اور پاکستانیوں نے بلایا تو ضرور آں گی۔لیکن وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ دعوت نامہ بعدازاں صرف ایک بیان ہی ثابت ہوا اور باقاعدہ طور پر لتا منگیشکر کو کوئی دعوت نامہ نہ بھیجا گیا اور لتا اپنی زندگی میں پاکستان نہ آ سکیں۔لیکن ایسا ضرور ہوا کہ وہ اپنی طویل زندگی میں ایک مرتبہ اپنی پسندیدہ سینئر، گرو اور بہت پیاری سہیلی ملکہ ترنم نورجہاں سے ملاقات کرنے پاکستان اور انڈیا کی سرحد واہگہ تک آئی تھیں۔لتا منگیشکر نے بی بی سی کو بتایا تھاکہ یہ سنہ 1953-54 کی بات ہے، میں اپنی ایک فلم کی تیاریوں کے سلسلہ میں امرتسر میں تھی۔ امرتسر اور لاہور میں بہت کم فاصلہ ہے، امرتسر میں مجھے ہر وقت دیدی نور جہاں یاد آتی تھیں، ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی، لیکن دل نہیں بھرتا تھا۔ دیدی نورجہاں کو تقسیم کے وقت دیکھا تھا اور اب دل چاہ رہا تھا کہ اپنی دیدی کو گلے لگاوں۔لتا جی نے بتایا کہ جب وہ نور جہاں سے بات کرتی تھیں تو وہ ایک دوسرے کو اپنے مشہور گیت سناتی تھیں۔ ایک دن یونھی امرتسر سے نورجہاں سے ٹیلی فون پر بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ میں آپ کے اتنی قریب آئی ہوں، کیوں نہ ایک دوسرے سے ملاقات کی جائے۔ نورجہاں یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے اپنی جانب انتظامات کے لیے کہہ دیا۔ وقت اور دن طے پایا، اس جانب میں نے بھی پرمٹ کے لیے کہہ دیا۔ ان دنوں پرمٹ آسانی سے مل جاتے تھے۔پھر وہ دن آیا جب واہگہ باڈر پر میں اور نورجہاں ایک دوسرے کے گلے ملیں۔ نومین لینڈ پر ہم نے ایک دوسرے سے بہت باتیں کیں لیکن یہ وقت آنکھ جھپکتے گزر گیا، کبھی کبھار تو مجھے یہ وقت ایک زندگی سا لگتا ہے اور سوچوں تو یہ وقت ایک لمحہ بن کر زندگی سے خارج ہو گیا تھا۔ بچھڑتے وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

خیال رہے سروں کی ملکہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر عمر میں چل بسیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات کئی جسمانی اعضا کی خرابی کے باعث گلوکارہ لتا منگیشکر اتوار کی صبح ممبئی کے ہسپتال میں چل بسیں۔ بریچ کینڈی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر این سنتھانم نے گلوکارہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لتامنگیشکر ان کے ہسپتا ل میں کووڈ 19 کے مریض کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔ ان کا کورونا کا علاج کیا گیا تھا لیکن بعد میں وہ کووڈ پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کرگئیں۔ بھارت میں گلوکارہ کی موت پر آج (پیر کو) کا ریاستی سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریاستی سوگ کے دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور کوئی تفریح نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ لتا منگیشکر کو 8 جنوری کو ہلکی علامات کے ساتھ کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت(آئی سی یو) کے وارڈ میں داخل کیا گیا تھا اور وہ تقریبا 20 روز تک وینٹی لیٹر پر رہی تھیں۔گزشتہ روز لتا منگیشکر کی حالت ایک بارپھر بگڑنے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ بریچ کینڈی ہسپتا ل کے ڈاکٹر پرتت صمدانی نے لتا منگیشکر کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گلوکارہ اب بھی آئی سی یو میں ہیں اور ڈاکٹرز کی زیر نگرانی رہیں گی۔لتا منگیشکر کی بگڑتی حالت کا سن کر اداکارہ شردھا کپور سمیت متعدد بالی ووڈ فنکار ان سے ملنے اسپتال پہنچے تھے۔ جب کہ مادھوری ڈکشٹ، روینہ ٹنڈن سمیت متعدد فنکاروں نے گلوکارہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی تھی۔لتا منگیشکر کی بہن گلوکارہ آشاہ بھوسلے بھی اپنی بہن سے ملنے گزشتہ روز اسپتال پہنچیں تھیں اور ان کی صحت کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ اب لتا دیدی کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم لتامنگیشکر جانبر نہ ہوسکیں۔لتا منگیشکر28 ستمبر 1929 کو اندور بھارت میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد دِینا ناتھ منگیشکر بھی گلوکار اور اداکار تھے۔ چنانچہ وہ شروع سے ہی گلوکاری کی طرف مائل تھیں۔لتا منگیشکر مختلف زبانوں میں 30 ہزار سے زائد گانے گا چکی ہیں وہ 1974 سے 1991 تک گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ریکارڈ ہولڈر کے طور پر شامل رہیں۔ بک کے مطابق وہ دنیا میں سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرانے والی گلوکارہ ہیں۔لتا منگیشکرکو بے شمار ایوارڈز ملے۔ خود ان کا کہنا تھا کہ ان کا سب سے بڑا ایوارڈ لوگوں کا پیار ہے۔ ان کے پاس بھارت کا سب سے بڑا سویلین اعزاز بھارت رتنا بھی ہے۔ وہ بھارت کی دوسری گلوکارہ تھیں جنہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔اس کے علاوہ انہیں پدما بھوشن (تیسرا بڑا سول ایوارڈ) اور پدما وی بھوشن (دوسرا بڑا سول ایوارڈ) سے بھی نوازا گیا۔ 1974 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام دنیا میں سب سے زیادہ گانے گانے والی گلوکارہ کے طور پر آیا۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

شہزاد اکبر سمیت دیگر وزرا بھی فرار ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہیں،شاہد خاقان عباسی

پڑھنے کے اگلے

پی ایس ایل7،شاداب نے ایک نیا اعزاز اپنے نام کرلیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔