PK Press

"ریاست مدینہ” اور سانحہ مری

حاصلِ کلام / طاہر محموداعوان
ہمارے قومی سانحات کی تاریخ میں ایک اور "اضافے” کیساتھ "سانحہ مری” بھی گزر گیا ۔ ہمیشہ کی طرح اس سانحہ پر بھی ملک بھر میں بہت شور اٹھا، اپوزیشن نے جی بھر کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ،حکومتی ترجمانوں نے وضاحتیں پیش کیں، وزیراعظم نے نوٹس لیا ،وزیراعلی عثمان بزدار سمیت پنجاب اور راولپنڈی کی پوری انتظامیہ مری جاکر بیٹھ گئی ، مرنے والوں کے لواحقین کے لئے امداد کا اعلان ہوا ،ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پرطوفان برپا ہوا جو کچھ روز مزید جاری رہے گا اور اسکے بعد حالات پھر سے معمول پر آجائیں گے ۔ پچھلے کئی سانحات کی طرح یہ سانحہ بھی محض ایک تاریخ بن جائے گا اور ہم پھر سے کسی نئے سانحے کی مذمت کا انتظار کرنے لگ جائیں گے ۔ہر حادثہ یا سانحہ اپنے پیچھے کچھ سبق چھوڑ جاتا ہے ،ایسے سبق جن سے سیکھ کر قومیں اپنی اصلاح اور آئندہ کے لئے ایسے کسی سانحے سے بچنے کا سامان کرتی ہیں ۔ ہماری حالت البتہ مختلف ہے کیونکہ نہ تو حکومتی سطح پر اور نہ ہی عوامی سطح پر ہم نے بحثیت قوم کبھی اپنی ذمہ داری کا احساس کیا ہے اور نہ ہی ایسے کوئی آثار نظر آتے ہیں کہ جلد یا بدیر ہم ہجوم سے ایک قوم بنتے نظر آئیں۔ اس سانحہ کے نتیجے میں قوم پر یہ عقدہ بھی کھلا کہ مری میں ایک رات کے لئے کمرہ 25 ہزار سے پچاس ہزار تک میں دیا گیا ، گرم پانی کا گلاس سینکڑوں روپے میں ملا ، انڈہ جنس نایاب ہوکر پانچ سو تک بکا ، ہوٹل والوں نے ہیٹر چلانے کے دام گھنٹوں کے حساب سے چارج کئے ۔ برف سے گاڑی نکالنے کے لئے ٹائروں پر جو زنجیر لگائی جاتی ہے ،موقع پرستوں نے آدھا کلومیٹر کے لئے اسکے بھی دس ،دس ہزاروصول کئے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قوم اور حکومت پر یہ صورتحال پہلی بار کھلی ،اس لئے میں نے اسے "عقدہ” لکھا حالانکہ اسلامی ملک میں مسافروں کے ساتھ یہ سلوک تو روز اول سے جاری ہے۔ہمارے دین میں مسافر کے ساتھ بھلائی کا حکم ہے لیکن آپ جس مرضی موٹروے پر چلے جائیں ،مسافر اڈوں کا رخ کر لیں یا ائیرپورٹ چلے جائیں ۔ دس روپے کی چیز 100 روپے میں اور 100 کی ایک ہزار میں ہی ملے گی ۔ موجودہ حکومت نے شروع میں موٹرویز پر ہوٹلوں کو اس بات کاپابند بنا یا تھا کہ وہ ریٹ لسٹیں نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں ، کچھ عرصے کے بعد نظام کے "ڈھیلے پن "کی وجہ سے یہ حربہ بھی غیر موثر ہوگیا ۔ہمارے وزیراعظم "ریاست مدینہ ” کے فلاحی پہلوئوں کے بڑے مداح ہیں ۔انہیں علم ہوکہ مدینہ کی ریاست میں مسافروں کے کیا حقوق تھے اور ہمارے ہاں کیا ہورہاہے ؟ ہونا تو یہ چاہے کہ مسافروں کو کھانے پینے اودیگر ضرورت کی اشیا مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر ملیں ،یہی انکا حق ہے لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے ۔حکومتی ادارے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے تک تو کم نہیں کراسکتے ،اور ان سے کیا توقع رکھی جائے ؟ ٹرانسپورٹ اتھارٹیز یا ٹریفک پولیس افسران صرف اتنا کردیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ہر گاڑی میں ایک اسٹیکر نمایاں جگہ چسپاں کروا دیں جس پر شکایت کے لئے چوبیس گھنٹے اوپن نمبر درج ہو۔جس گاڑی میں یہ اسٹیکر نظر نہ آئے ،اسے کم از کم پانچ ہزار روپے سے 10ہزار تک جرمانہ کیا جائے ۔ٹریفک وارڈن بھی گاہے بگاہے یہ اسٹیکر چیک کریں ،باقی کا کام عوام خود کرلینگے ۔ایک ڈرائیور اور ایک کنڈیکٹر درجنوں مسافروں کو اس لئے یرغمال بنا لیتا ہے کہ لوگ سڑک پر بے یار و مددگار ہوتے ہیں ،کبھی دن ہوتا ہے اور کبھی رات اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ بدتمیزی،زائد کرایہ وصولی یا روٹ مکمل نہ کرنے کی شکایت کہاں کرنی ہے ؟ ہمارے ہاں یہ بھی المیہ ہے کہ جرم یا عوام کے حقوق کی پامالی چوبیس گھنٹے ہوتی ہے اور داد رسی کرنے والے ادارے یا افسران صرف شام چار بجے تک دستیاب ہوتے ہیں ،اس کے بعد ملک "آٹو” پر لگ جاتاہے یا بات اگلے دن تک چلی جاتی ہے اور اگلا دن کس نے دیکھا ہے ؟اب تو سمارٹ فون کا دور ہے ،اگر ایسی کوئی ایپ بنا دی جائے جس میں تمام روٹس کے کرائے نامے اورفوری شکایت کا آن لائن آپشن موجود ہو تو نہ صرف نطام میں بہتری لائی جاسکتی ہے بلکہ بہت سی افردی قوت بھی بچائی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح قومی شاہراہوں ،ائیرپورٹس اور تفریحی مقامات پر موجود ہوٹلز ،ریسٹورنٹس ،ٹک شاپس ،ٹائر شاپس وغیرہ پر بھی ایسے ہی بینرز اور اسٹیکرز نمایاں جگہوں پر لگائے جانے چاہیں جن پر داد رسی کے لئے ٹیلفون نمبرز ،وٹس ایپ وغیرہ لکھے ہوں اور رابطہ کرنے پر فوری داد رسی کی جائے ۔ اس کے لئے بھی کوئی ایپ بنائی جاسکتی ہے ۔ وزیراعظم کی سٹیزن پورٹل ایپ کامیاب ہوسکتی ہے تو باقی بھی ہوسکتی ہیں ،ضرورت صرف اچھے ویژن ،ذمہ داری کے احساس اور عوامی خدمت کے جذبے کی ہے ۔ہر کام حکومت کی کابینہ نے نہیں کرنا ہوتا ،مختلف اداروں کے ذمہ داران بھی حکومت کا ہی حصہ ہوتے ہیں اور اپنے طور پر ایسے انقلابی اقدامات شروع کرسکتے ہیں جن کا عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ ہو اور نظام کو بہترکیاجاسکے ۔ سانحہ مری جیسے واقعات ہمارے اسی کرپٹ اور کھوکھلے نظام کا ہی شاخسانہ ہیں ، جب میرٹ کا قتل ہوگا اور لوگ لاکھوں روپے رشوت دیکر نوکریاںحاصل کرینگے تو نتیجہ ایسی ہی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی صورت نکلے گا ۔ وزیراعلی عثمان بزدار نے سردست اہلیان مری کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے علاقے کو ضلع کا درجہ دینے اور الگ انتظامی افسران لگانے کا اعلان کیا ہے لیکن کیا چند مزید نوکریاں ،چند مزید دفاتر ،چند مزید افسران اور ان کے پروٹوکول پر مزید فنڈز لگانے سے مسائل حل ہونگے ؟ حقیقی تبدیلی کے لئے سرکاری نوکریوں کا نظام شفاف بنانا ہوگا ، میرٹ کو فروغ دینا ہوگا تاکہ اہل لوگ سامنے آئیں اور مری جیسے سانحات نہ ہوں ۔ کچھ ذمہ داریاں ہماری بھی ہیں ، ہر مسئلے کو حکومت پر ڈالنے کا بھی فائدہ نہیں ۔ہمیں اپنے رویے بھی دیکھنا ہونگے ۔ ٹریفک پولیس راولپنڈی کے مطابق گزشتہ اتوار سے جمعہ تک مری میں ایک لاکھ 57ہزار گاڑیاں داخل ہوئیں ،اس سے قبل نیوائیر نائٹ ویک اینڈ پر بھی 83ہزار گاڑیوں نے مری کا رخ کیا ۔ایسی کیا ہلچل ہے ؟ اللہ نے زمین کی سیر کا حکم دیا ہے لیکن اسراف سے بھی منع فرمایا ہے ۔ ہر جگہ ہجوم کا حصہ بننے سے گریز کریں ،خاص طور پر فیملی کے ساتھ کہیں جاتے ہوئے رش سے بچیں ۔ ہوٹلز ،ریسٹورنٹس اور دیگراشیائے ضروریہ خریدتے وقت ایک حد سے ذیادہ دام مت بھریں ،ہوسکتاہے آپ دے سکتے ہوں لیکن آپکی وجہ سے قیمتوں کو پر لگ جائیں اور متوسط طبقہ بھی لپیٹ میں آجائے ۔ اللہ کرے سانحہ مری سے ہم سیکھ جائیں اور انفرادی و اجتماعی رویوں میں بہتری لے آئیں ۔آمین نوٹ:آپ مجھے ٹوئٹر @Tahirmawanپر فالو کرسکتے ہیں ۔
بشکریہ نوائے وقت

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

گوادر بندر گا ہ قاز قستان کے تجا رتی روا بط کو فرو غ دینے کا شا ندار مو قع ہے، قازق سفیر

پڑھنے کے اگلے

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کر لیا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔