PK Press

حکومت نئی تمباکو مصنوعات پر مکمل پابندی عائد کرے،سول سوسائٹی کا مطالبہ

اسلام آباد:سول سوسائٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمباکو کی نئی مصنوعات جیسے ای سگریٹ ، ویپ اور دیگر مصنوعات پر بین لگا یا جائے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمباکو کے استعمال کے ساتھ ساتھ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے نئی مصنوعات کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں جو خاص طور پر ہمارے نوجوانوں میں تباہی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمباکو کی صنعت کے خلاف کریک ڈاون کرے اور ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار سوسائٹی فار الٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ "پائیدار تمباکو کنٹرول پالیسی کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کا کردار” کے عنوان سے ایک سیمینار میں مقررین نے کیا ۔ مقررین میں ڈاکٹر منہاج سراج، پراجیکٹ ڈائریکٹر، ٹوبیکو سموک فری کیپٹل، ڈاکٹر ثمرہ مظہر ڈپٹی ڈائریکٹر ،نیشنل فوکل پوائنٹ برائے ڈبلیو ایچ او ایف سی ٹی سی ، حکومت پاکستان، ۔ مظہر عارف، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوسائٹی فار الٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ، شہزاد عالم، پروگرام منیجر ڈبلیو ایچ او، اور خرم ہاشمی، سینئر ٹیکنیکل ایڈوائزر، دی یونین شامل تھے ۔ مقررین نے انسداد تمباکو قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد میں شدید کمی ہے، مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ قوانین پر عمل درآمد کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں ۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تمباکو نیشنل ٹوبیکو کنٹرول کے قوانین کی موجودگی کے باوجود سرکاری اداروں میں بھی تمباکو کا استعمال کیا جا رہا ہے، مقررین نے انسداد تمباکو کے حوالے سے کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان کے کردار کو سراہا۔ مقررین نے کہا کہ سول سوسائٹی کو حکومت پر زور دینا چاہیئے کہ کہ وہ بین الاقوامی اداروں پر انحصار کم کرتے ہوئے ایک مستحکم ،آذاد اور طویل مدتی قومی تمباکو کنٹرول پالیسی اپنائے کیونکہ پاکستان میں تمباکو سے سالانہ 160,100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پاکستان فریم ورک کنونشن فار ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی)کا رکن ملک ہے اور ایف سی ٹی سی رکن ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ ایک قدم آگے بڑھیں اور تمباکو کنٹرول کے لیے طویل مدتی پائیدار پالیسیاں اپنائیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے تحت، ایف سی ٹی سی کے رکن ممالک تمباکو کنٹرول کے لیے پالیسی سازی کے ذمہ دار ہیں اس ضمن میں بین الاقوامی اداروں کا کام قابل تعریف ہے ،لیکن، وفاقی اور صوبائی سطح پر پائیدار قومی تمباکو کنٹرول پالیسی یا حکمت عملی کے لیے، حکومت کو صحت کے دیگر مسائل کی طرح وزارت صحت اور ٹوبیکو کنٹرول سیل کو تمباکو کنٹرول کے لیے فنڈز فراہم کرنا چاہیے۔ سیشن کے اختتام پر عالمی ادارہ صحت کے پروگرام منیجر شہزاد عالم نے سول سوسائٹی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ تمباکو کے استعمال کے ساتھ ساتھ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے نئی مصنوعات کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے ان کو بین کرے یہ مصنوعات خاص طور پر ہمارے نوجوانوں میں تباہی پھیلا رہی ہیں ان کی روک تھام کے لئے اساتذہ اور والدین کے لئے مسلسل ٹریننگ کا اہتمام ہونا چاہیئے اسی سلسلے میں منبر و محراب کے ذریعہ علما اکرام کی خدمات بھی حاصل کرنی چاہیے ۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

ایف آئی اے کی انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے خلاف کارروائی،4 ملزمان گرفتار

پڑھنے کے اگلے

وقت بتائے گامیٹروٹرین ملک کوزیادہ فائدہ پہنچائے گی یاصحت کارڈ ،وزیراعظم

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔