PK Press

پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس، ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر سوال اٹھ گئے

NA Secretariat

NA Secretariat

 رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں سیکرٹری دفاع نے کہا کہ بھارت کرتار پورراہداری کو ناکام دیکھنا چاہتا تھا، منصوبے کی تکمیل میں بہت مشکلات پیش آئیں، ڈی جی ایف ڈبلیو او نے کہا کہ 5 دہائیوں میں ایف ڈبلیو او نے ترقی کی منازل طے کیے ،ہزاروں سکھ کرتار پور آتے ہیں،16.5ارب کرتار پور راہداری کی پی سی ون لاگت تھی،افتتاح کے 7 ماہ بعد منصوبے کے فنڈز جاری کیے گئے،ہمیں نیسپاک نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ ڈھائی سے 3سال کا ہے،ہم نیکرتار پورراہداری منصوبہ 10 ماہ میں مکمل کیا،چھ ماہ میں 800 میٹر لمبا پل راوی پر بنایا گیا،کرتار پور کے مہمان خانے میں 2 ہزار لوگ آسکتے ہیں،چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ بہت کم وقت میں آپ نے بہت اچھا کام کیا،مستقبل میں بھی کوالٹی ورک پر توجہ دیں، ڈی جی ایف ڈبلیو او نے کہا کہ ہمیں نیسپاک نے کہا تھا کہ یہ منصوبہ ڈھائی سے 3سال کا ہے،ہم نیکرتار پورراہداری منصوبہ 10 ماہ میں مکمل کیا،چھ ماہ میں 800 میٹر لمبا پل راوی پر بنایا گیا، کرتار پور کے مہمان خانے میں 2 ہزار لوگ آسکتے ہیں،چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ بہت کم وقت میں آپ نے بہت اچھا کام کیا،مستقبل میں بھی کوالٹی ورک پر توجہ دیں، دس ماہ میں منصوبہ مکمل کیا گیا مگر اسکی منظوری نہ لی گئی،کیا کرتار پور میں گرونانک کی زمین تھی؟ ایف ڈبلیو او حکام نے کہا کہ ہم نے ساری زمین ایکوائر کی ہے،اگر یہاں کوئی زمین گرونانک کی ملکیت تھی وہ پتہ کرکے بتا دیں گے۔حکومتی رکن نور عالم خان نے ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دئیے،نور عالم خان نے کہا کہ ایف ڈبلیو او پاکستان آرمی کا ذیلی ادارہ ہے،کیا آڈیٹر جنرل سے پوچھا گیا کہ کہاں کہاں قانون سے ہٹ کر کام ہوا،ایف ڈبلیو او کا کام فوج کیلئے پہاڑوں پر ایمرجنسی حالات میں تھا۔نور عالم خان نے کہا کہ کیا ایف ڈبلیو او کنٹریکٹر کے طور پر پرائیویٹ منصوبوں کے ٹھیکے لے سکتا ہے؟،گوادر کی سڑکیں ایف ڈبلیو او نے بنائیں آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،موٹروے ایم ون ایم ٹو جب سے ایف ڈبلیو او کے پاس گئی کھڈے پڑ گئے،ایف ڈبلیو او کے ماتحت ٹول پلازوں کے ریٹس بڑھا دئیے گئے۔نور عالم خان نے کہا کہ فوج کی وردی میں ایف ڈبلیو اوکے اہلکار ٹول پلازوں پر لوگوں سے ناروا رویہ اپناتے ہیں،پاک فوج میرا ادارہ ہے تمام ادارے ہمارے اپنے ہیں ،آپ پارلیمنٹ میں آئے ہیں ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،لیکن میرے سوالات سنجیدہ ہیں ان پر غور کی ضرورت ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ صرف ایک منصوبہ کیوں باقی منصوبوں پر کام بھی ہونا چاہیے،پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے جو پیرامیٹرز بنائے گئے وہ ہائی لائٹ ہونے چاہیے۔سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ملک کے باقی منصوبوں پر بھی کرتاپور کی طرح کام ہونا چاہیے.چئیر مین کمیٹی نے کہا کہ آڈٹ کے حوالے سے جو بات ہے وہ ہونی چاہیے۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ ایک ادارے نے خود پیسے لگائے منصوبہ لگایا ہے،پیپرا میں کچھ چیزیں پہلے سے ہیں جن کو دیکھ رہے ہیں۔ جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ دیکھیں جو نکلتا ہے کمیٹی میں لے آئیں۔

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

ن لیگ کا خیبر پختونخوا سے صفایا ہو گیا ہے،شہباز گل

پڑھنے کے اگلے

نوازشریف بہت جلد پاکستان واپس آجائیں گے،مریم نوزا

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔