PK Press

میرا پیارا شہر شیخوپورہ

Sheikhkupra pakistan

Sheikhkupra pakistan

تحریر: نبیلہ شہزاد، لاہور
میری جائے پیدائش تو لاہور ہے کیونکہ میرا ننھال اسی شہر میں ہے اور اب میرا سسرال بھی لاہور میں ہی ہے لیکن میری پہچان، میرا میکہ، شیخوپورہ میں ہے۔ بچپن میں اسکول میں مضمون، میرا شہر لکھتے ہوئے ہمیشہ شیخوپورہ کا تعارف ہی دیا۔ عورت ہونے کے لحاظ سے مجھے بھی پاکستان کا سب سے زیادہ پیارا شہر، میکہ شہر ہی لگتا ہے۔ شادی کے بعد جب میں ایک دو بار شیخوپورہ بازار خریداری کے لیے گئی تو میرا بھائی شوکت کہنے لگا۔ ”عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ ساری دنیا بھی گھوم لے لیکن پسند و تعریف وہ اپنے میکے بازار کی ہی کرے گی۔ ہماری امی ہمیشہ خریداری کے لیے لاہور جاتیں رہیں اور اب ہماری بہن لاہور سے شیخوپورہ خریداری کے لئے آتی ہے“۔ اب یہ تو خواتین کو اپنے اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھنا پڑے گا کہ میرے بھائی کے اس جملے میں کتنی صداقت ہے۔
شیخوپورہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ایک تاریخی شہر ہے۔ یہ لاہور سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب کی جانب واقع ہے۔ اسے 1922ءکو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ اس شہر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی چہیتی ملکہ راجکماری جودھا بائی اپنے لاڈلے بیٹے سلیم نورالدین جہانگیر کو پیار سے شیخو کہہ کر پکارتیں تھیں۔ شاہی قلعہ لاہور سے باہر دریائے راوی کے دوسری جانب واقع گھنے جنگلات میں شہزادہ سلیم شیخو اکثر شکار کھیلنے جاتا تھا۔تخت نشین ہونے کے بعد بھی سلیم نورالدین شیخو اپنی ملکہ نورجہان کے ہمراہ اکثر شکار کھیلنے ان جنگلوں میں آتا اور یہاں قیام کرتا۔یہاں ہرن منار اور بارہ دری تعمیر کی گئی جو ملکہ نورجہان اور سلیم نورالدین شیخو کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملکہ جودھا بائی نے جو پیار سے اپنے بیٹے کا نام شیخو رکھا اسی سے ہی اس شہر کا نام شیخوپورہ مشہور ہوگیا۔ شیخوپورہ وارث شاہ کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔وارث شاہ نے اپنی داستان ہیر رانجھا شیخوپورہ کے ایک گاو ¿ں جنڈیالہ شیر خان کی فضاو ¿ں میں مکمل کی اور اب وارث شاہ کا مقبرہ بھی اسی گاو ¿ں میں ہے۔
شیخوپورہ کی زیادہ تر آبادی دیہاتی ہے۔ موجودہ شہر میں بھی زیادہ تر ارد گرد کے دیہاتوں سے ہی آنے والے لوگ آباد ہیں۔ اس لئے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت بھی سادگی پسند ہے۔ وہ گھر کے پکے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے ہمسایہ لاہوریوں کی طرح، صبح صبح چپل اٹکائے، نیند میں مخمور آنکھیں ملتے ہوئے، نان چنے کی دوکانوں کی طرف جاتے کم ہی نظر آتے ہیں۔ کھانے کی طرح اپنی عادات میں بھی سیدھے سادے ہیں۔ دل کے کھرے اور زبان کے صاف گو ہیں۔ جس کی حمایت میں ہوں دل و جان سے اس کا ساتھ دیتے ہیں اگر کسی کی مخالفت میں اتر آئیں تو کوئی مائی کا لال ان کا راستہ نہیں بدل سکتا۔
شہروں میں رہنے والے لوگ امن پسند ہیں لیکن اس کے دیہاتوں میں رہنے والے کچھ لوگ، عورتیں کیا اور مرد حضرات کیا، لڑائی جھگڑے کے اتنے شوقین ہیں کہ انہیں اپنی دولت لٹا کر بھی لڑائی خریدنا پڑے تو وہ کبھی بھی دریغ نہ کریں۔عورتیں تو آپس کے جھگڑوں میں زبان سے سریلے نغمے گا کر اور ہاتھوں سے طعنے مارنے والے اشاروں سے ہی گزارا کر لیتی ہیں۔ لیکن مرد حضرات جب تک بندوق، پستول سے دوچار ہوائی فائر نہ کر لیں انہیں اپنی بے عزتی محسوس ہوتی ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ سلطان راہی کے اصل گدی نشین یہی لوگ ہیں۔ لباس میں لاہور کے فیشن کا بھی کچھ اثر ہے لیکن خواتین کے لباس میں لاہور کے فیشن ایبل طبقے جیسی بے باکی نہیں۔
مرد کلف لگے کپڑے پہننے کے زیادہ شوقین ہیں۔پھر ان کپڑوں کو سلوٹوں سے بچانے کے لیے ان بیچاروں کو چوڑے ہو ہو کر چلنا پڑتا ہے۔ شہر میں مختلف طبقات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔معاش کے لحاظ سے اپنا کاروبار، سرکاری، پرائیویٹ نوکریاں کرتے ہیں۔ لیکن دیہاتوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے منسلک ہے۔ سیاست میں یہ لوگ خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین بھی کام کے دوران رات 9 بجے کا خبرنامہ نیوز کاسٹر سے بھی بڑھ کر جوش و جذبے سے ایک دوسرے کو سنا رہی ہوتیں ہیں۔ پھر مہنگائی اور دوسرے مسائل پر حکمران وقت کو خوب کوسا جاتا ہے۔ اگر شو مئی قسمت اس وقت حکمران ان کے سامنے آجائے تو اپنا سر پھڑوائے بغیر نہ جائے۔ اسی لیے تو عمران خان نے اپنے دور اقتدارمیں شیخوپورہ کی طرف ایک چکر بھی نہیں لگایا۔
شیخوپورہ میں شہر ہو یادیہات، مردوں کا ابھی بھی اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر شام کو مل بیٹھنے کا رواج ہے اور پھر پورے ملک کے مسائل پر گرما گرم بحث چلتی ہے خاص کر سیاست کی اور پھر ایسا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے جسے سن کر بڑے بڑے اینکرز جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ روایات و اقدار کے قدر دان اور مردم شناس لوگ ہیں۔ بھولے بھالے اور منافقت سے دور رہنے والے ہیں۔ ڈسپنسر اور مستند ڈاکٹر کو ایک جیسی عزت دیتے ہیں۔ اس لیے تو ہر گاو ں میں ڈسپنسر نے ہی کلینک سنبھالا ہوا ہے اور یہی بیچارے ” ڈاکٹر صاحب“ کہلاتا ہے۔ بہرحال جو بھی ہے، اللہ تعالی میرے شہر کو سدا شاد آباد رکھے اور اسے دن دگنی رات چگنی ترقی کی طرف گامزن کرے۔ آمین

براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

حکومت نے موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا

پڑھنے کے اگلے

پاکستان میں عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں،گورنر سندھ

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔