PK Press

مہنگائی کا سونامی: ماریہ میمن کا کالم

عمران خان صاحب کو سونامی کا استعارہ بہت پسند ہے۔ طوفان، سیلاب اور بھونچال وغیرہ سے بور ہوئے تو عوام کو انہوں نے سونامی سے روشناس کرایا۔
پہلے وہ لوگوں کا سونامی لے کر آئے، الیکشن میں ووٹوں کے سونامی کا دعویٰ بھی نظر آیا۔ حکومت میں آنے کے بعد درخت بھی سونامی کے زیر اثر آئے اور بلین اور ٹین بلین تک بات جا پہنچی۔
ایک سونامی کے بارے میں وہ عوام کو خبر دار کرنا شاید بھول گئے یا وہ ان سے پوچھے بغیر آ گیا۔ وہ سونامی ہے مہنگائی کا سونامی، ان کی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔
اس کے بعد کورونا کی وبا کے ساتھ صورت حال بھی بدلی اور لوگوں کی توجہ بھی بٹ گئی۔ کورونا کیسز میں کچھ کمی واقع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی تابڑ توڑ مہنگائی کا ایسا سونامی آیا کے اب عوام سیاست کو بھی بھول کر صرف قیمتوں کا ہی رونا روتے نظر آتے ہیں۔
اس سونامی کا آغاز ڈالر کی قدر میں اضافے سے ہوا۔ روپے کی قدر میں کمی باقاعدہ پالیسی کے تحت کی گئی جس کا حکومت نے دفاع بھی کیا اور اب تک کر رہی ہے۔
ڈالر مہنگا ہونے کا اثر باہر جانے والوں پر فوری پڑا۔ مارکیٹ میں درآمدی اشیا مہنگی ہوئیں مگر اس کے نقصانات پر ابھی بحث جاری تھی کہ تیل کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے۔ کچھ ہی ہفتوں میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ تیل مہنگا نہیں ہو گا۔ اب بھی مزید اضافے کی خبریں گرم ہیں۔
موٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ والوں کی فریاد ابھی چل ہی رہی تھی کہ چینی کی مٹھاس میں مہنگائی کی کڑواہٹ آ گئی۔ چینی کے ساتھ کھیلنا ویسے بھی اس حکومت کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
براہ کرم ہمیں فالو اور لائک کریں:

پڑھنے کے پچھلے

’وفاقی کابینہ کی ہدایت‘ پر اب اسلام آباد میں مندر نہیں بنے گا

پڑھنے کے اگلے

ویکسین شدہ افراد کے لیے امریکہ میں سفری پابندیاں ختم، ’اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہوں‘

ایک جواب دیں چھوڑ دو

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔